دی ٹرتھ انٹرنیشنل کے بارے میں

ماضی بعید میں عوام الناس تک خبریں پہنچانے کے لیے اخبارات، جرائد اور رسالے وغیرہ استعمال کیے جاتے رہے۔ پھر رفتہ رفتہ ابلاغ کا یہ عمل پرنٹ میڈیا سے ترقی کرکے الیکٹرانک میڈیا تک جا پہنچا اور مطبوعہ ابلاغ کے مقابلے میں برقی ابلاغ زیادہ موثر ثابت ہوا۔ روایتی الیکٹرانک میڈیا ایک خاص روٹین کے تحت کا م کرتا ہے۔ ایک شخص بہت سارے لوگوں سے ابلاغ کرتا ہے اور ابلاغ کے اس عمل میں ناظرین یا سامعین کی رائے و رد عمل نہ تو وقت پر معلوم ہو سکتا ہے نہ ہی ان کی رائے و ردعمل کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے، سب سے بڑھ کر ناظرین کو اپنی رائے وہاں تک پہنچانے کا ذریعہ ہی میسر نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر کسی قاری یا ناظر کو ایک خبر ناگوار گزرتی ہے اور آپ ہر بلیٹن میں اس کو پلٹ پلٹ کر نشر کرتے ہیں تو یہ ناظر کیلئے انتہائی تکلیف دہ تجربہ ثابت ہوتا ہے۔ چنانچہ جدت کا متلاشی انسان روایتی میڈیا ٟ Traditional mediaٞ سے اکتاہٹ محسوس کرنے لگا۔ یہاں سے پھر غیر روایتی سماجی میڈیا  ٟ Social Mediaٞ نے جنم لیا اور دیکھتے ہی دیکھتے دنیا بھر میں آن لائن جرنلزم کا ڈنکا بجنے لگا۔ دنیا بھر کے میڈیا ہاوسز نے اس بدلتی صورت حال کو بھانپ کر اپنے ناظرین یا قارئین کو آن لائن خبریں فراہم کرنا شروع کردیں جس کے ذریعے کوئی بھی فرد اپنے گھر میں بیٹھ کر اپنی مرضی کی خبریں و دیگر مواد دیکھ اور پڑھ سکتا ہے۔ یہاں تک تو معاملہ ٹھیک ہے لیکن آگے جاکر غیر روایتی میڈیا حقائق سے نکل کر مفروضوں، من پسند تجزیوں اور جانب داری کے ایسے گورکھ دھندے میں پھنس گیا جہاں سچ اور جھوٹ کی پہچان مشکل ہوگئی۔ ایسے میں عصبیت اور جانبداری کی گرد جھاڑ کر نیچے سے حق اور سچ برآمد کرنا وقت کا اہم تقاضا ہے۔ اسی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے ٴٴ دی ٹرتھ انٹرنیشنلٴٴ کی بنیاد رکھی گئی ۔اس پلیٹ فورم سے خبروں کی دوڑ میں بھاگنے، صحیح غلط کی پروا کیے بغیر ایک دوسرے سے آگے نکلنے کے بجائے خبروں پر تبصرے تجزئے اور ماہرین کی آراء پر زیادہ فوکس رکھا جائے گا۔ تاکہ خبروں کی نزاکت اور حساسیت کو آسان اور سہل انداز میں اپنے قارئین تک پہنچائی جا سکے جس سے معاشرے میں انتشار اور خلجان بپا ہونے کے بجائے سوچ اور فکر کے نئے دریچے کھل سکیں۔  ہم نے اس بات کا خاص خیال رکھا ہے کہ یہ پلیٹ فارم صحافت کے اصولوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے ناظرین/قارئین کو معیاری مواد فراہم کرنے کی کوشش کرے ۔

 

ذیل میں ادارے کیلئے چند بنیادی اصول متعین کئے گئے ہیں۔

ٹی ٹی آئی ( The Truth International) ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جس کا مقصد ہر فرد کی خبروں تک رسائی اور تبصرے تجزئیے کے ذریعے معاشرے میں علمی رجحان پیدا کرنا ،روشن خیال، مثبت تعمیری سوچ کا فروغ اور متشدد، انتہاپسندی پرمبنی سوچ کاخاتمہ کرنا ہے۔
*۔۔۔ادارہ صحافتی اقدار کے تحفظ، پاسداری اور غیرجانبداری کو اپنا دھرم سمجھے گا۔
*۔۔۔ادارہ ہر لکھاری کے لئے ایک جیسا مقام اور حق پر یقین رکھتا ہے، سینئیر جونیر کی تفریق کا قائل نہیں۔ ہم اپنے سینئیر اور نامور لکھاریوں کی قدر کرتے ہوئے ان سے رہنمائی لینا چاہیں گے تاکہ نئے لکھنے والوں کی نہ صرف اصلاح ہو سکے بلکہ حوصلہ افزائی بھی ہو۔

*۔۔۔ادارہ نہ صرف خود تمام مذاہب، فرقوں، لسانی اکائیوں اور مذہبی شخصیات کا احترام ملحوظ خاطر رکھے گا بلکہ اپنے پلیٹ فارم کو ایسے کسی مکروہ مقاصد کیلئے استعمال نہیں ہونے دے گا جس کی وجہ سے دنیا کے کسی بھی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے شخص کی دل آزاری ہو۔
*۔۔۔ادارہ کسی شخص یا ادارے یا ملک کی کردار کشی کا بھی قائل نہیں جبکہ کسی بھی قسم کی منافرت، انتہا پسندی اور اشتعال انگیزی اس پلیٹ فارم سے نہیں کی جا سکے گی۔
*۔۔۔علمی اختلاف اور مثبت و تعمیری انداز میں کی جانے والی تنقید کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔

*۔۔۔ ادارہ کسی بھی جھوٹی، بے بنیاد اور لاحاصل مواد کو شائع کرنا کا روادار نہیں ہوگا، تحقیق اور معیار کے ضوابط پرپوری طرح عمل کیا جائے گا
ادارہ اپنے قارئین و ناظرین کو خبریں فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ منتخب خبروں پر ماہرین کے تبصرے و تجزیئے بھی پہنچائے گا۔