شاعری

یکم مئی

ایک دفعہ پھر یکم مئی منائی گئی۔ یاد کئے گئےاس لہو رنگ تاریخ کے جھروکے رقم کی تھی جو مظلوموں نے شکاگوکے مزدوروں نے کہ ان کی مزدوری کا صلہ مزدوری تھا حق مزدوری کا مانگنے سے پسینے کی جگہ لہو بہتا تھا ظلم پھر...

رستے میں

رستے میں اک شوخ ملا، پہلی نظر میں عشق ہوا۔ اب بھی تجھ پر طاری ہے؟ فاریحہ بننے کا چسکا۔ دیکھ لے جیسے تیری مرضی ، ویسے شاعر بھی ہے لڑکا۔ آ گئی وہ بھی باتوں میں ، کیوں استاد اب ہاتھ تو لا !! تو...

آدھا بابا پر گیا ہوں میں

آدھا بابا پر گیا ہوں میں باقی خود سے کر گیا ہوں میں وہاں بھول چوک ہوتی رہی ہے یہاں سبھی کے سر گیا ہوں میں اپنوں سے بھی دور رہتا ہوں حد سے زیادہ سدھر گیا ہوں میں زمیں پر رہ کر دب...

ترے آنگن میں رہے یونہی بہار کا موسم

ترے آنگن میں رہے یونہی بہار کا موسم زوال پذیر نہ ہو کبھی پیار کا موسم تلاطم خیز لہروں سے مسکرانا مشکل تو نہیں گر انساں کے ہاتھ ہو پتوار کا موسم اے نوجواں طوفانوں سے ٹکڑا کے تو دیکھ تجھے بھی نصیب...

خاتونِ جنتؒ کا پیغام

خاتونِ جنتؒ کا عملی پیغاممشقت میں عورت کماتی ہے ناموفا بھی،ادا بھی حیا بھی ،رضا بھیبلندی کے اوصاف چن لو تمامگزاریں ہیں سجدوں میں راتیں سراسرتھا شوقِ عبادت ہی زریں زمامخدا اور شوہر کی ہر دم اطاعتملیں چاہے...

عاشقی کیا ہے

زندگی کے میلے کے بے کراں سمندر میں پرسکون اجالوں اور رات کے اندھیروں میں اک حقیقی عشق کی کیا تمھیں ضرورت ہے ؟   چاہ کی ضرورت ہو یا سرد تیرے جذبے ہوں،  مہکے من میں چپکے سے خواہشیں انگڑائی لیں،   دھوپ ہو کہ چھاوں ہو یا اوس ہو...

گزرا زمانہ

بے پردہ نظر آئیں جو چند بیبیاں اکبر زمیں میں غیرت قومی سے گڑ گیا (اکبر الہ آبادی) اکبر الہ آبادی کی روح سے معذرت کےسا تھ ............................................................ اچھا ہوا مرگئے مرحوم ہوگئے زندہ جو آج ہوتے تو کیاکیا نہ دیکھتے اب چند بیبیاں...

صلی اللہ علیہ وسلم

میں تو امتی ہوں اے شاہ امم (ص) کر دے میرے آقا اب نظر کرم  حصہ ہوں  امت کا میں ؟ یا نعت صرف لفظوں میں ہے خوبصورت پر فضا پر نور سے ماحول میں دائروں میں بیٹھ کر، اورہاتھ ادب سے باندھ...

جستجو

تمہیں منزل کو پانا ہے تمہیں اس کم یقینی کے حصارِ جان لیوا پر اب اپنی ہمتوں اور حوصلوں کو آزمانا ہے تمیں منزل کو پانا ہے ہمالہ سے بھی اونچے جو دکھائی دے رہے ہیں ان مصائب کو کمالِ شوق سے تم کو غبارِ...

ترا اور مرا گفتگو کرنا فن تدریس ٹھہرا

ترا اور مرا گفتگو کرنا فن تدریس ٹھہرا اک دوسرے سے ملنے میں پردہ تقدیس ٹھہرا سوتے ہوئے بھی آنکھیں کھلی رکھنا کہ مرا پلکیں جھپکانا ہی وجہ تلبیس ٹھہرا محل نشینو سجن مرا جاں نثار ہے شہر میں نہ کوئی ہم جیسا...

سوشل میڈیا

6,196Fansفیسبک
614Followersٹویٹر