ذہنی غلاموں کی پہچان

ڈاکٹر ولسن افریقی نسل کا ایک کالا پروفیسر تھا جو نیویارک سٹی یونیورسٹی میں نفسیات پڑھایا کرتا تھا۔ اس کی وفات کو اگرچہ 22 سال ہوچکے لیکن آج بھی سماجی اور نفسیاتی حوالے سے اس کے لیکچرز اور کتابیں ایک کلیدی حیثیت رکھتی ہیں۔

ڈاکٹر ولسن نے 90 کے اوائل میں ایک کانفرنس کے دوران دیئے گئے لیکچر میں امریکہ میں موجود کالوں یعنی افریقی النسل کے لوگوں میں پائی جانے والی ذہنی غلامی کے حوالے سے تفصیلی بحث کی تھی۔

ڈاکٹر ولسن کے مطابق افریقی نسل سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو کئی صدیوں تک گوروں نے اپنا غلام بنائے رکھا۔ اگرچہ پچھلی صدی کے وسط تک پوری دنیا میں باقاعدہ قانون سازی کے زریعے غلامی کا خاتمہ تو ہوچکا، لیکن نسل در نسل غلام رہنے والوں میں ذہنی غلامی ابھی تک قائم ہے۔

ڈاکٹر ولسن کے مطابق 5 علامات ایسی ہیں جن کی مدد سے آپ کسی شخص کی ذہنی غلامی کا اندازہ لگا سکتے ہیں:

1۔ لینگوئج یعنی زبان

آج سے کئی صدیاں قبل برطانوی، ہسپانوی، پرتگالی اور فرنچ براعظم افریقہ جاتے اور وہاں سے کالے غلام خرید کر اپنے ساتھ لے آتے۔ ان کالوں کو اپنی مادری زبان کی بجائے انگلش، فرنچ اور سپینش سیکھنا پڑتی کیونکہ ان کے مالکان انہی زبانوں میں ان سے بات کرتے تھے۔ آج جب کہ دور غلامی ختم ہوچکا، لیکن کالوں کے نئی نسل کو انگلش ہی بولنی آتی ہے، انہیں افریقی زبان سے کوئی واقفیت نہیں رہی۔

ڈاکٹر ولسن کے مطابق اگر آپ کو اپنی مادری زبان بولنے میں ہچکچاہٹ محسوس ہو تو سمجھ جائیں کہ آپ ذہنی طور پر غلام ہیں۔

2۔ لباس

لباس کا آپ کی ثقافت اور روٹس کے ساتھ بہت گہرا تعلق ہوتا ہے، انسان کو اگر زبردستی کسی دوسری ثقافت کا لباس پہننے کو دیا جائے تو وہ اپنے آپ کو قید میں محسوس کرنا شروع کردیتا ہے۔ افریقہ سے جب غلاموں کو یورپ اور امریکہ میں لایا جاتا تو انہیں افریقی ثقافت کے مطابق لباس نہیں ملتا تھا بلکہ انہیں یورپئن اور امریکن انداز کا لباس پہننے کو دیا جاتا تھا۔ آج امریکہ کی نوجوان بلیک نسل مکمل طور پر ویسٹرن فیشن میں رنگی جا چکی ہے اور امریکہ میں کالوں نے افریقی طرز ثقافت کا لباس پہننا چھوڑ دیا ہے۔

ڈاکٹر ولسن کے مطابق اگر آپ اپنی ثقافت کے مطابق لباس پہننے میں شرم محسوس کریں اور دوسری ثقافت کے لباس پہننے میں فخر محسوس ہو تو سمجھ جائیں کہ آپ ذہنی طور پر غلام ہیں۔

3۔ نام

پرانے وقتوں میں جب بھی کسی غلام کو خریدا جاتا، سب سے پہلے اس کا افریقی نام تبدیل کرکے اس کے مالک کی نسبت سے نام رکھ دیا جاتا، مثلا جارج کا غلام جو، یا ڈیوڈ کا غلام بل، وغیرہ وغیرہ۔ انسان کی سب سے بڑی انفرادی شناخت اس کا نام ہوتی ہے جو کہ اس کی تہذٰیب، جغرافیہ، مذہب اور ثقافت کی عکاسی کرتا ہے۔ افریقی غلاموں سے ان کے اپنے نام چھین کر انہیں گوروں جیسے نام رکھنے پر مجبور کردیا گیا۔

ڈاکٹر ولسن کے مطابق اگر آپ اپنی اولاد کا نام اپنی ثقافت سے ہٹ کر کسی اور کی تہذیب سے انسپائرڈ ہو کر رکھتے ہیں تو سمجھ جائیں کہ آپ ذہنی طور پر غلام ہیں۔

4۔ مذہب

اپنے مذہب کو فالو کرنا انسان کا بنیادی حق ہے لیکن جب افریقی غلاموں کو گوروں کی تحویل میں دیا جاتا تو یہ اپنے غلاموں کو مجبور کرتے کہ وہ اپنے مالکان کے عیسائی مذہب کے متعلقہ سیکشن اور چرچ کو اپنائیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ غلامی ختم ہونے کے بعد بھی امریکہ اور یورپ میں موجود کالوں نے گوروں کا مذہب مکمل طور پر اپنائے رکھا۔

ڈاکٹر ولسن کے مطابق اگر آپ کو اپنے مذہب پر عمل پیرا ہونے میں شرمندگی کا احساس ہو تو سمجھ جائیں کہ آپ ذہنی طور پر غلام ہیں۔

5۔ خوراک

ہر خطے کے لوگ اپنی ثقافت اور رہن سہن کے مطابق کھانا کھاتے ہیں۔ اگرچہ مسلمانوں میں حلال اور حرام کی تعریف تمام فقہات میں ایک جیسی ہے، پھر بھی پاکستان، خلیجی ممالک، ایران اور انڈونیشیا کے مسلمانوں کا طرز خوراک بالکل جداگانہ ہے۔ افریقی غلام بھی جب یورپ اور امریکہ میں لائے گئے تو انہیں وہاں کا کھانا کھانے پر مجبور کیا گیا اور یہ کھانا بھی بچا کھچا اور قلیل تعداد میں ہی میسر ہوتا۔

یہاں ایک بہت دلچسپ فیکٹر آپ کے گوش و گزار کرتا چلوں۔

پرانے دور میں گوروں کی ایک روایت ہوا کرتی تھی کہ وہ اپنے فیملی اجتماع کیلئے ایک بڑے سائز کے خنزیر کو زبح کرکے اس کی ران، سینے، گردن اور چانپوں کو کوئلوں پر بھون کر کھاتے اور اس خنزیر کا سر، دل، گردہ، پاؤں وغیرہ اپنے افریقی غلاموں کو دے دیتے جن کیلئے یہ بھی غنیمت ہوتا اور وہ ان سے اپنا پیٹ بھرلیتے۔

ڈاکٹر ولسن کے مطابق اگر آپ کو جانور کے یہ اعضا لذیذ لگتے ہیں تو آپ کے اندر یقینناً غلامی کے جراثیم پائے جاتے ہیں۔

بدقسمتی سے مجھے یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ لاہوریوں کی مرغوب غذا سری پائے ہیں، ہر روز ہزاروں لاہوریوں شام کو لکشمی چوک میں توے پر ٹکاٹک کی آواز میں بنا ہوا گردہ اور دل کھا جاتے ہیں

ڈاکٹر ولسن کی تحقیق کے مطابق پاکستانیوں میں بالعموم اور لاہوریوں میں بالخصوص ذہنی غلامی کی تمام علامات موجود ہیں۔

یہ ذہنی غلامی نہیں تو اور کیا ہے کہ آنکھوں دیکھی مکھی بھی نگل جاتے ہیں، نوازشریف کو ساری دنیا چور ثابت کرچکی، اپنی اعلی عدالت سے نااہل ہوچکا لیکن ابھی بھی عوام کا ایک حصہ اسے لیڈر سمجھتا ہے۔

آپ کو چاھے برا لگے لیکن آپ کے اندر ذہنی غلامی کی تمام علامات موجود ہیں!!

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں