جماعت اسلامی کے قیام کے 76برس، مختصر جائزہ

جماعت اسلامی کے 76ویں تاسیس پر خصوصی تحریر ۔۔

کہو ببانگ دہل سب کہ ہماری جماعت
گنہگار بہت ہے مگر حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ہے

قیام
1۔ 3شعبان 1360ھ (26اگست1941ئ) کو جماعت اسلامی قائم ہوئی ۔قیام کے وقت جماعت اسلامی کے ساتھ 75افراد او ر پونے چوہترروپے کا سرمایہ تھا۔
بنیادیں
1۔مولانا مودودی ؒ نے جماعت اسلامی کی بنیاد قرآن و سنت سے ماخوذ چار تصورات پر رکھیں:
(1)تقویٰ میں فضیلت
(2) علم میں فضیلت
(3) باطن میں نفس اور خارج میں قومی سطح سے بین الاقوامی سطح تک طاغوت کی مزاحمت
(4)مسلمانوں اور وسیع تر دائرے میں انسانیت کی بے لوث خدمت۔
تشخص
1۔جماعت اسلامی تمام انسانوں اور مسلمانوں کو کسی فرقے،کسی مسلک ،کسی قومیت،کسی زبان،کسی نسل ،کسی جغرافیے ،کسی ثقافت اور کسی صوبے کی طرف نہیں بلاتی۔
2۔جماعت اسلامی مسلمانوں کو صرف اللہ ،محمد مصطفیﷺ، اسلام ،قرآن وسنت اور اسلامی تاریخ و تہذیب کی طرف بلاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ جماعت اسلامی معاشرے کے تمام پھولوں کا گلدستہ ہے،اور وہ اسلام کی عالمگیر یت اور آفاقیت کی علامت ہے۔
3۔جماعت اسلامی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ عالم اسلام کی وہ پہلی جماعت ہے جس نے اشتراکیت کو کفر جلی گردانا۔اور اس کی شکست وریخت میں اپنا کردار اداکیا۔
4۔جماعت اسلامی نے ثابت کیا کہ مغربی سرمایہ دارانہ نظام علمیت ،تہذیب،معاشرت اور ریاست©©©©”جاہلیت خالصہ“کا مظہر ہے۔
5۔پاکستان میں موجود ظلم کے نظام کے خاتمے کیلئے جماعت اسلامی کی طویل جدوجہد ہے۔وہ عام آدمی کو غلامی کی زنجیروں آزاد کروا کر مدینہ جیسی ریاست کی تشکیل چاہتی ہے جہاں بندے بندوں کی غلامی سے آزاد ہو کررب کی غلامی کر سکیں۔
6۔جماعت اسلامی تشدد اور مسلح جدوجہد کے ہر تصور کے خلاف ہے ۔یہ اپنے مقاصد کے حصول کیلئے صرف پرامن آئینی جمہوری جدوجہد کو اختیار کرتی ہے۔دعوت ،تنظیم ،تربیت،اصلاح معاشرہ اور انقلاب قیادت اس کا لائحہ عمل ہے۔اس کے دستور میں پر امن آئینی جمہوری جدوجہدکے علاوہ ہر طریقے کی نفی کی گئی ہے۔
7۔سب سے زیادہ نظریاتی و علمی اثاثہ کتابوں اور شخصیات کی صورت میں جماعت اسلامی کے پاس ہے۔
مرکزی امراء
1۔سید ابوالا علی مودودی رحمتہ اللہ علیہ 26۔اگست 1941ء تا 4 نومبر1972ء
2۔میاں طفیل محمد رحمتہ اللہ علیہ نومبر1972ء تا اکتوبر 1987ء
3۔قاضی حسین احمد رحمتہ اللہ علیہ اکتوبر 1987ء تا اپریل2009ء
4۔سید منورحسن اپریل 2009 ء تا مئی 2014ء
5۔سراج الحق جون2014ء تا حال
خصوصیات
1۔جماعت کی تاریخ سید مودودی رحمتہ اللہ علیہ ،میاں طفیل محمد رحمتہ اللہ علیہ ،قاضی حسین احمد رحمتہ اللہ علیہ،سید منورحسن اور اب سراج الحق تک اس بات کے گواہ ہیں کہ یہاں افراد کا چناﺅ موروثیت،ذات پات ،برادری ،مالی حیثیت وغیرہ سے یکسر ہٹ کر خالصتاًاس بات پر منحصر ہے کہ اس فرد میں تقویٰ للہیت ،دین سے محبت ایثار قربانی اور جماعت میں اس کی کارکردگی کس حد تک مﺅثر ہے۔
2۔تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ معاشرے میں تبدیلی کے لئے جماعت اپنے قیام سے لیکرآج تک پوری تند ہی سے کوشاں ہے،قیام پاکستان کے بعد دستور سازی کے موقع پر پاکستان کو نظریاتی سمت دینے کیلئے قرارداد مقاصد منظور کروانے کی بات ہو،قادیانیوں کو کافر قرار دلوانے کی تحریک ہو،آمریت کے خلاف مادر ملت کی حمایت ہو،سوشلزم ،کمیونزم و سرمایہ دارانہ نظام کا فکری محاذ پر مقابلہ ہو،بنگلہ دیش نامنظور تحریک ہو،73کے آئین کی اسلامی دفعات ہوں،تحریک نظام مصطفی ہو،سرخ ریچھ کو افغانستان میں شکست دینے کی بات ہو،جہاد کشمیرہو،مشرف آمریت کا مقابلہ ہو،عدلیہ بحالی تحریک ہو،،گو امریکہ گوہو یا آج کرپشن سے پاک اسلامی اور خوشحال پاکستان ہو،جماعت اسلامی کا مثبت تاریخی کردار کسی سے ڈھکاچھپا نہیں۔
افراد کار
1۔جماعت اسلامی قائم ہوئی تھی تو اس کے ساتھ صرف75لوگ تھے لیکن آج جماعت اسلامی جیسی نظریاتی جماعت کے اراکین کی تعداد 30ہزار سے زائد ہے۔رکنیت کے امیدواروں کی تعداد 15000ہزار سے زائدہے۔متحرک کارکنان کی تعداد ڈیڑھ لاکھ سے زائدہے جبکہ ممبرز کی تعداد 40,44833ہے۔
2۔ جماعت اسلامی معاشرے کی نصف آبادی یعنی خواتین کو نظر انداز نہیں کیا۔جماعت اسلامی خواتین کی دینی ،نظریاتی اور سیاسی تعلیم و تربیت کے لیے خواتین کا جداگانہ نظم قائم کیا ہے۔
3۔خواتین اراکین کی تعداد ہزاروں میں ہے ۔متحرک کارکنان کی تعداد 50ہزار سے زائدہے جبکہ ممبرز کی تعداد 2,81,231ہے۔اس طرح جماعت اسلامی کا حلقہ خواتین پاکستان کی کسی دوسری جماعت کے حلقہ خواتین سے بڑا ہے۔
4۔اسلامی جمعیت طلبہ نے جب قیام پاکستان کے بعد کام کا آغاز کیا تو ملک کے تعلیمی اداروں پر کمیونسٹ اور لبرل عناصر کا مکمل غلبہ تھا ۔لیکن اسلامی جمعیت طلبہ نے اپنی بے مثال جدوجہد سے تعلیمی اداوں میں اسلامی انقلاب برپا کر دیا۔چناچہ دو دہائیوں میں پاکستان کے تعلیمی ادارے ”سرخ“ سے ”سبز“ ہو گئے۔
5۔فرقوں اور مسلکوں کی لڑائی میں اتحاد و یک جہتی کی توانا آواز بلند کرنے اور نوجوان علماءکی ایک بڑی تعداد کو جمع اور منظم کرنے کا کارنامہ جمعیت طلبہ عربیہ نے سرانجام دیا۔دینی اتحاد جو کبھی ناممکن سمجھا جاتا تھا اور اب ہر طرف اس ضرورت کو محسوس کیا جاتا ہے۔
6۔جماعت اسلامی کی مزدور تحریک نیشنل لیبر فیڈریشن اور تحریک محنت نے محنت کشوں کے شعبے میں لادین عناصر کو پسپا کیا ہے اور درجنوں اہم قومی اداروں میں اسلام کا پرچم لہرایا ہے۔جماعت اسلامی کی برادر تنظیمات کادائرہ وسیع ہے۔اسلامی جمعیت طالبات طالبات میں،اتحاد العلماءعلمائے کرام میں،پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن ڈاکٹرز میں ،کسان بورڈ کسانوں میں،پاکستان بزنس فورم تاجروں میں،اسلامی ہومیوپیتھک ایسوسی ایشن ہومیوپیتھک ڈاکٹرز میں،اسلامک لائرز موومنٹ وکلا میں،JIیوتھ عام نوجوانوں میں،پاکستان انجینئر فورم انجنیئرز میں اور تنظیم اساتذہ پاکستان اساتذہ برادری میں بھرپور کا م کر رہی ہے۔یہ تمام دائرے جماعت اسلامی کی ہمہ گیر اور ہمہ جہت جدوجہد کی علامت ہیں۔

7۔ جماعت اسلامی نے اس ملک میں تعلیم کو عام کرنے میں بڑا کردار ادا کیا ہے۔ تعلیم کو نظریاتی بنیادوں پر استوار کرنے کا کام کیا ہے۔ اس سے وابستہ اداروں اور افراد کے ہزاروں اسکولز آج بھی پاکستان اور آزاد کشمیر کے طول و عرض میں موجود ہیں ۔ تعلیم کے ساتھ تربیت پر خاص زور دیا گیا ہے۔ جماعت اسلامی کے خیال میں جہالت کو ختم کرنا پاکستان کی ترقی کیلئے لازمی ہے ۔ اسلئے پارلیمنٹ میں جماعت اسلامی نے بارہا تعلیم ہر پاکستانی کے حق کیلئے آواز اٹھائی ہے قوانین بنوائے ہیں ۔ تعلیم پر تحقیق اور نصاب سازی کیلئے ERI اور آفاق جیسے ادارے گرانقدر خدمات سرانجام دے رہے ہیں ۔پڑھا لکھا ترقی یافتہ پاکستان جماعت اسلامی کا مشن ہے۔
8۔ جماعت اسلامی نے غریب اور کمزور کو کبھی تنہا نہیں چھوڑا اور غربت کے خاتمے کیلئے بہت کوششیں کی ہیں۔ جماعت اسلامی غریبوں اور عام لوگوں کی جماعت ہے۔ وقت نے ثابت کیا ہے کہ پاکستان میں غریب آدمی کی خوشحالی جماعت اسلامی کے سوا کسی اور پارٹی کے بس کی بات نہیں ۔
9۔ جماعت اسلامی نے خدمت خلق کے میدان میں تعلیم،صحت،قرضہ حسنہ کی فراہمی ،دستکاری اسکول ،پینے کے صاف پانی کی فراہمی ،مفت قانونی امداد ،کفالت یتامیٰ و مساکین،زلزلے اور سیلاب جیسی قدرتی آفات میں مدد کے حوالے سے ملک بھر میںریکارڈ خدمات سرانجام دی ہیں۔ خاص طور پر قدرتی آفات میں اہل پاکستان کی مدد کیلئے اس کے قریب بھی کوئی سیاسی جماعت نہیں پہنچ سکتی۔
عالمگیر جماعت
1۔جماعت اسلامی کا یہ نصب العین صرف پاکستان کے لیے نہیں ہے ،جماعت جب بنی تو پاکستان کا وجود نہیں تھا،یہ نصب العین تو ہر ملک اور پوری دنیا کے لئے ہے۔ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں وہ تمام تحریکیں یا قوتیں جو اس نصب العین سے متفق ہوں یا کام کرنے والی ہوں ان کے ساتھ روابط قائم کرنا اور بڑھانا ایک فطری صورت ہے اور اس مقصد کے لئے جماعت نے شروع ہی سے شعوری طور پر کوششیں کی ہیں،چناچہ عرب ممالک سے رابطے کیلئے دارالعروبہ کے نام سے مولانا مسعود عالم ندوی ؒ کی سربراہی میں ادارہ قائم کیا اور جماعت کے لٹریچر کے عربی ترجمے کا کام شروع کیا ۔بعد میں مولانا خلیل حامدی ؒاس کے سربراہ رہے۔
2۔ جماعت اسلامی کا کام بلاشبہ مقامی ہے مگر اس کی فکر بین الاقوامی ہے ، یہی وجہ ہے کہ جماعت اسلامی پوری دنیا میں کام کرنے والی اسلامی تحریکوں ، جماعتوں اور شخصیتوں سے قریبی رابطے میں ہے۔جماعت اسلامی کی یہ اہلیت نہ صرف پاکستان بلکہ جماعت اسلامی سے وابستہ ایک ایک فرد کو پوری دنیا سے منسلک اور مربوط کردیتی ہے۔ اس سے اس کی معلومات اور علم میں ہی نہیں اس کی فکر و نظر میں بھی بے پناہ وسعت پیدا ہوجاتی ہے۔ایسی وسعت جوہر مسلمان کی حقیقی پہچان بھی ہے اور اس کی آرزو بھی۔
3۔ جماعت اسلامی کی نظر عالمگیر ہے لیکن جنوبی ایشیا وہ خطہ ہے جس پر جماعت اسلامی کی گہری چھاپ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جماعت اسلامی صرف پاکستان ہی میں موجود نہیں ، جماعت اسلامی بھارت میں بھی خدمات انجام دے رہی ہے، جماعت اسلامی بنگلادیش میں بھی جدوجہد کررہی ہے۔ جماعت اسلامی سری لنکا میں بھی برسرکار ہے، جماعت اسلامی کے اثرات کو افغانستان میں بھی محسوس کیا جاسکتا ہے۔لیکن تمام ریاستوں کی جماعتیں ایک نہیںبلکہ اپنے اپنے ملک میں الگ الگ جماعت کی صورت میں جدوجہد کر رہی ہیں۔
سیاسی کردار
جماعت اسلامی اس ملک کی سیاست میں منفرد اسلوب کی حامل جماعت ہے جو بلدیات سے لیکر اوپر کے ایوانوں تک اپنے تربیت یافتہ مخلص کارکن کوہی حق نمائندگی کیلئے پیش کرتی ہے ۔ پاکستان کی جمہوری تاریخ میں بلدیاتی و بالائی ایوانوں میں جماعت اسلامی کی طرف سے پیش کردہ سینکڑوں افراد حق نمائندگی حاصل کرتے رہے ہیں ، ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں تین بار جماعت اسلامی کے میئر منتخب ہوئے ، مرکزی و صوبائی حکومتوں میں بھی مختلف ادوار میں جماعت کے وزراءکی کارکردگی مثالی رہی۔ ان سب ذمہ داران کا دامن ہر قسم کی کرپشن کے داغوں سے پاک رہا اور عوامی خدمت میں بھی انہوں نے سرکاری خزانہ کو عوام کی امانت سمجھتے ہوئے عوام کی فلاح و بہبود کیلئے انتہائی دیانتداری سے استعمال کیا ، اس حوالے سے جہاں بابائے کراچی کہلانے والے کراچی کے دوبار منتخب میئر عبدالستار افغانی جب میئر شپ چھوڑتے ہیں تو وہیں چھوٹا سا لیاری کا فلیٹ ہی انکی پہچان رہتا ہے، کراچی کے بجٹ کو چار ارب سے 44 ارب تک پہنچادینے والے جماعت اسلامی کے ناظم نعمت اللہ خان کے دور میں جب کمیشن سے پاک کلچر فروغ پاتا ہے تو کروڑوں روپے میں مکمل کئے جانے والے پراجیکٹس کی لاگت پہلے سے بہتر معیار کے ساتھ لاکھوں روپے قرار پاتی ہے اور کراچی دوبارہ روشنیوں کا شہر بنتا ہے ۔ آج نعمت اللہ خان کی خدمات کا اعتراف انکے بدترین مخالف بھی کرتے ہیں۔

کارہائے نمایاں
﴿جماعت اسلامی برصغیر کی وہ پہلی جماعت ہے جس نے اسلام کو بطور جدید سیاسی نظام متعارف کرایا ۔
﴿ جماعت اسلامی نے مسلمانان ہند کو دو قومی نظریہ کی بنیاد فراہم کی ۔مولانا مودودی ؒ کی کتاب ”مسئلہ قومیت“ تحریک پاکستان کے کارکنوں کا لٹریچر تھا۔
﴿ جماعت نے عقلیت اور مغربیت سے متاثر جدید تعلیم یافتہ مسلمانوں کو عقلی و علمی استدلال (LOGIC ) کے ذریعے اسلام سے متاثر کیا ۔ اور جدید مسائل کا حل اسلام کی روشنی میں پیش کیا ۔یہی وجہ ہے کہ جماعت اسلامی میں آج پڑھے لکھے مڈل کلاس اور غریب لوگوںکی اکثریت ہے۔
﴿ جماعت نے لادین پاکستان بنانے کی مخالفت کی اور ملک میں اسلامی نظام کے حوالے سے شعور اجاگر کیا۔
﴿ تقسیم پاکستان کے وقت کارکنان جماعت اسلامی نے رضاکارانہ کاروائیوں میں بھرپور حصہ لے کر ثابت کیا کہ جماعت آنے والے مشکل وقتوں میں پاکستان کیلئے تن من دھن سے کام کرنے کی اہل ہے۔
﴿ جماعت نے پاکستان بننے کے بعد اس کے ا سلامی تشخص کو اجاگر کرنے کیلئے جدوجہد کی۔ قرارداد مقاصد منظور کروائی جس کو بانی جماعت نے تحریر کیا اور لادین (Secular) حلقوں کو منہ کی کھانی پڑی ۔
﴿پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ کے خواب کو تعبیر دینے اور قرارداد مقاصد میں ریاست کو اصولی طور پر اسلامی قرار دینے کیلئے عوام میں رائے عامہ ہموار کرکے تحریک چلائی اور اس میں کامیابی حاصل کی۔
﴿ کارکنان و رہنمائے جماعت نے قوم کی فکری رہنمائی کرتے ہوئے شرعی طور پر ثابت کیا کہ قادیانی ختم نبوت ﷺ کی نفی کرنے کے باعث دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ بانی جماعت تقریبا ً 3سال پابند سلاسل رہے۔ انہیں اس دوران پیشکش کی گئی کہ ان کی پھانسی کی سزا ختم ہوسکتی ہے اگر وہ قادیانیوں کے متعلق اپنے مو¿قف سے دستبردار ہوجائیں مگر بانی جماعت نے ایسا کرنے سے انکار کردیا ۔ ملکی و عالمی دباو¿ کے باعث حکومت نے پہلے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا ۔ بعد ازاں رہا کردیا۔
﴿جماعت اسلامی نے 1958ءمیں آمریت کی بھرپور مخالفت کی ۔اور شہری آزادیاں Civil Libertiesسمیت بنیادی حقوق و جمہوریت کی بحالی کیلئے دیگر سیاسی جماعتوںسے اتحاد کیا۔
﴿ ایوبی دور آمریت میں حکومتی سرپرستی میں ایسا طبقہ سامنے آیا جس کا کہنا تھا کہ اسلام میں حدیث کی کوئی حیثیت نہیں حتیٰ کہ ایک جج نے حدیث کو سند ماننے سے انکار کردیا۔ اس موقع پر بانی جماعت نے اسلام میں حدیث کی بنیادی حیثیت کو شرعی و عقلی دلائل سے ثابت کیا اور دونوں کو اسلامی قانون کا سرچشمہ قرار دیا۔انہوں نے فتنہ انکار حدیث کے خلاف ” ترجمان القرآن” کا “منصب رسالت نمبر” بھی شائع کیا ۔مولانا سید ابوعلی مودودی رحمتہ اللہ علیہ کی کتاب” سنت کی آئینی حیثیت“ فتنہ انکار حدیث کا محکم جواب ہے۔
﴿ ایوب خان نے آمریت کو جمہوری چولا پہنانے کیلئے صدارتی الیکشن کو ڈھونگ رچایا ۔اس وقت محترمہ فاطمہ جناح نے وطن عزیز کی خاطر الیکشن میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا اور ملک کی جمہوریت پسند قوتوں کو جابر فوجی آمر کے خلاف مدد کیلئے پکارا تو جماعت نے وطن عزیز کو آمریت سے بچانے کی خاطر مادرملت کا ساتھ دینے کا اصولی فیصلہ کیا۔آج کے بہت ساری جمہوری چیمپین اس وقت ایوب خان کی گود میں بیٹھے تھے اور جماعت کو ریاستی سطح پر تنقید کا سخت نشانہ بنایا گیا۔
﴿ 6 جنوری1964ءمیں ایوب خان نے تنگ آکر جماعت اسلامی کو خلاف قانون قرار دے دیا اور نمایاں کارکنان جماعت اسلامی کو سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ سمیت پابند سلاسل کردیا ۔ سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ اور 65 رہنمایان جماعت اسلامی نے 9 ماہ تک ثابت قدمی سے قید کی صعوبتیں برداشت کیں۔
﴿1967ءمیں عید کے چاند کے مسئلے پر شریعت کا مسئلہ بتانے کے جرم میں بانی جماعت کوپھر گرفتار کرلیا اور دو ماہ تک بنوں جیل میں رکھا گیا۔
﴿ مشرقی پاکستان کے اشتراکی رہنما مولانا بھاشانی نے یکم جون 1970ءکو پورے ملک میں اشتراکی انقلاب برپا کرنے کیلئے اعلان کیا تب سید مولانا مودودی ؒ اور کارکنا ن جماعت نے پورے ملک میں عوام کو متحرک کیا اور 31مئی 1970ءکو ” یوم شوکت اسلام” منایا اور ہزاروں جلوس نکال کر اشتراکی انقلاب کے خواب کو زمین بوس کردیا۔
﴿1970ءکے انتخابات میں مجیب الرحمن وغیرہ نے علیحدگی پسند تحریک کو اس کے عروج پر پہنچادیا تھا۔ جماعت اسلامی وہ جماعت تھی جس نے سا لمیت وطن کیلئے مشرقی و مغربی پاکستان میں اپنے نمائندے کھڑے کئے ۔ جبکہ پیپلزپارٹی نے صرف مغربی پاکستان اور مجیب نے صرف مشرقی پاکستان میں اپنے نمائندے کھڑے کرکے پہلے ہی علیحدگی کا بیج بودیا۔انتخابات کے نتیجے نے پاکستان کی تقسیم کی بنیاد رکھ دی تھی۔
﴿ بھارت اور مجیب الرحمن نے باہمی گٹھ جوڑ کرکے پاکستان کے خلاف علم بغاوت بلند کیا اور مکتی باہنی بنائی ۔ یحیٰ خان نے بغاوت کچلنے کیلئے فوج کو آپریشن کا حکم دیا ۔ کاکنان جماعت اسلامی مشرقی پاکستان نے سازش کو رفع کرنے اور اسلام کے قلعے کو سلامت رکھنے کیلئے بے شمار قربانیاں دیں البدر کے سینکڑوں کارکنان پاکستان بچانے کے جرم میں شہید کئے گئے۔
﴿1973ءکے آئین میں اسلامی دفعات اور دیگر رہنما اصول شامل کرانے کیلئے جماعت اسلامی نے بھرپور کردار ادا کیا ۔ملک کو متفقہ دستور دلوانے میں پروفیسر و¿غفور احمد ؒ ،محمود اعظم فاروقی ؒ،صاحبزادہ صفی اللہؒ اور ڈاکٹر نذیر شہیدؒ کا کلیدی کردار ہے۔70کے انتخاب میں جماعت کے 4افراد منتخب ہوئے لیکن یہ 4اپنی کارکردگی میں پوری اسمبلی پر بھاری تھے۔
﴿ قادیانیوں کے خلاف دیگر مذہبی جماعتوں کو ساتھ ملا کر بھرپور عوامی مہم چلائی اور قادیانیوں کو اقلیت قرار دلوایا۔
﴿جماعت اسلامی نے پاکستان میں فوجی ڈکٹیٹرز کے علاوہ جمہوری ڈکٹیٹرز کا بھی ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ڈاکٹر نذیر شہیدکو اسی جرم کی بناءپر قتل کیا گیا۔
﴿جماعت اسلامی نے پاکستان کے ایوانوںمیں سب سے زیادہ غریب اور مڈل کلاس لوگوں کو منتخب کروایا۔پروفیسر غفوراحمد ؒجیسا معتدل مزاج اور کھرا آدمی اس کا پارلیمانی لیڈر رہا ہو جو شہر کراچی کی شان اور اس کی زبان سمجھا جاتا تھا۔
﴿ نظام مصطفی ٰ کی تحریک چلائی ۔ جس کو بعد ازاں ضیاءالحق نے جھوٹے وعدوں کی نظر کرتے ہوئے سبوتاثر کردیا۔
﴿ روس نے جب افغانستان پر حملہ کیا تو جماعت اسلامی نے امریکہ اور ضیاءالحق سے پہلے اس کی بھرپور مذمت کی اور مجاہدین کو فکری ، اخلاقی اور مالی امداد فراہم کی۔ نیز پاکستان میں جہاد کی حمایت کیلئے رائے عامہ کو ہموار کیا ۔
﴿ جہاد افغانستان میں بھرپور کردار ادا کیا اور وطن عزیز کی طرف بڑھتے ہوئے ” سرخ طوفان کو” واپس دھکیل دیا ۔
﴿ مسئلہ کشمیر پر قوم کی رہنمائی کی۔جہاد کشمیر میں کلیدی کردار ادا کیا۔غاصب ہندوستان کی حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں کو بے نقاب کرنے میں جماعت اسلامی کا مﺅثر کردارہے۔
﴿ اسلامی جمہوری اتحاد کے ذریعے وطن عزیز میں ایک بار پھر نظام مصطفی نافذ کرنے کے عزم کا عادہ کیا۔مگر اتحاد میں شامل دیگر جماعتیں بعدازاں انتخابی منشور پر عملدرآمد پر تیار نہ ہوئی۔
﴿1993ءمیں اسلامک فرنٹ بنایا تاکہ وطن عزیز میںاسلامی نظام کے نفاذ کے خواب کو شرمندہ تعبیر کیا جاسکے۔ مگر اسلامک فرنٹ صرف دو یا تین نشستیں حاصل کر پائی۔
﴿ 1999ءمیں مشرف کی آمریت اور اسکے ذریعے سیکولرزم کے آگے بند باندھا اور قاضی حسین احمد رحمتہ اللہ علیہ وہ پہلے سیاستدان تھے جن کو پشاور میں داخلے سے روکا گیا۔اور آمریت کا پہلا حکم ان کے بارے میں جاری ہوا۔
﴿ جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد نے2002میں متحدہ مجلس عمل بنانے میں کلیدی کردار اد اکیا MMAنے ملکی انتخابات میں بے مثال کامیابی حاصل کی۔KPKاور بلوچستان میں حکومتیں بنائیں۔پاکستان کی پوری انتخابی اور پارلیمانی تاریخ میں مذہبی جماعتیں ایوانوں میں کبھی اتنی مﺅثر تعداد میں موجود نہ رہیں۔آج بھی MMAجیسے مذہبی اتحادکو پاکستان میں یاد کیا جاتا ہے۔
﴿ جماعت اسلامی نے مسالک میںہم آہنگی کیلئے ملی یکجہتی کونسل بنائی جس نے مسالک کے درمیان رواداری اور برداشت کو پروان چڑھایا۔
﴿پاکستان صرف دیانتدار صادق و امین قیادت کے ساتھ ترقی کر سکتا ہے۔جماعت اسلامی نے آئین کی دفعہ 62-63کیلئے مہم چلائی اور مطالبہ کیا کہ اسے حقیقی طور پر نافذ کر کے کرپٹ اور بدکردار قیادت سے ملک کی جان چھڑائی جائے۔
﴿جماعت اسلامی نے عدلیہ بحالی کی تحریک میں مﺅثر ترین کردار ادا کیا اور قاضی حسین احمد رحمتہ اللہ علیہ نے عدلیہ بحالی کی تحریک میں ڈنڈے کھائے۔کراچی میں چیف جسٹس کی آمد پر اس کے آٹھ کارکنان شہید ہوئے۔ہزاروں جیلوں کے اندر بھیجے گئے۔
﴿جماعت اسلامی ملک کی سب سے زیادہ جمہوری پارٹی ہے جس کے اندر انتخابات کا مﺅثر نظام ہے۔پلڈاٹ کے سروے کے مطابق پاکستان کی سب سے زیادہ جمہوری پارٹی جماعت اسلامی ہے۔
﴿جماعت اسلامی نے سود کے خاتمے کیلئے تحریک چلائی ۔اس وقت بھی سود کے خاتمے کیلئے وفاقی شرعی عدالت میں جماعت اسلامی فریق ہے۔
﴿جماعت اسلامی نے میڈیا پر فحاشی کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔سپریم کورٹ میں جماعت اسلامی کی اس حوالہ سے پٹیشن موجود ہے۔
﴿جماعت اسلامی نے گو امریکہ گو مہم چلائی اور پورے ملک میں حکومتوں کی سامراج نوازی کا پردہ چاک کیا۔وقت ثابت کر رہاہے کہ جماعت اسلامی کا موقف مبنی بر حق تھا اور پاکستان کو مستقبل قریب میں U TURNلینے کے سوا کوئی چارہ نہ ہوگا۔
﴿ملک میں کرپشن کے خاتمے کیلئے جماعت اسلامی نے بہت طاقتور مہم چلائی سپریم کورٹ کے جج یہ کہنے پر مجبور ہوئے کہ 62-63کو لاگو کیا جائے تو پارلیمینٹ میں سراج الحق کے سوا کوئی نہ بچے گا۔
﴿جماعت اسلامی کے کسی ایک فردکا نام بھیNROکی مراعات لینے والوں میں شامل نہیں۔
﴿جماعت اسلامی سے متعلق کسی ایک فرد کا نام بھی پاناما لیکس ،دبئی لیکس قرضے معاف کروانیوالے اور NABکے میگا سکینڈلز میں شامل نہیں جبکہ پاکستان کی تمام کلیدی جماعتوں کے نام اس میں موجود ہیں۔
﴿جماعت اسلامی کے کسی رکن پارلیمنٹ نے آج تک اسلام آباد میں پلاٹ نہیں لیا اور نہ ہی کک بیکس اور کسٹم ڈیوٹی معاف کروانے والوں میں جماعت اسلامی کا کوئی منتخب آمدنی ملوث رہا۔
﴿جماعت اسلامی سے متعلق کسی ایک فرد کا بھی نام اقامہ اسکینڈل میں موجود نہیں ۔
﴿جماعت اسلامی بنگلہ دیش نے لازوال قربانیوں کا سنہرا باب رقم کیا۔پاکستان سے محبت کے جرم میں امیر جماعت اسلامی بنگلہ دیش مطیع الرحمن نظامی کو پھانسی دی گئی۔پروفیسر غلام اعظم سابق امیر جماعت اسلامی بنگلہ دیش کا جنازہ جیل سے اٹھایا گیا۔عبدالقادر ملا ،مجاہد،قاسم اور صف اول کی پوری قیادت پاکستان سے ہمدردی کے جرم میں پھانسی چڑھادی گئی۔ان سب نے خندہ پیشانی سے شہید ہونا قبول کیا لیکن اسلام اور پاکستان سے محبت پر کوئی معذرت نامہ یا دو لفظ ہی لکھنا قبول نہ کیا۔
﴿اسی کی دھائی میں ضیاءالحق اور ان کے دست راست جنرل حمید گل نے کراچی میں جماعت اسلامی کا دھڑن تختہ کرنے کیلئے لسانیت کو فروغ دیا MQMپیدا کی اس کی سرپرستی کی۔جماعت اسلامی نے لسانیت کے اس طوفان کے آگے سپرنہ ڈالی۔امت کی آواز بلند کرتی رہی تین دھائیوں کے اس سفر میں جماعت اسلامی کے سینکڑوں کارکنان شہید کئے گئے۔وقت نے ثابت کیا کہ گملوں میں اگی قیادت کسی اور کے چرنوں میں بیٹھی ہوئی ہے۔
﴿جماعت اسلامی نے عوامی مسائل کے حل کیلئے جمہوری جدوجہد کی۔ون یونٹ کے خاتمے سے لیکر کراچی میں K.Electicکے جبرکے خلاف مہم چلائی۔
﴿جماعت اسلامی نے حقوق انسانی کے تحفظ کیلئے مہمات چلائیں۔پاکستان سمیت دنیا بھر میںکہیں حقوق انسانی کی خلاف ورزی ہو ملک کی تمام سیاسی جماعتوں سے سب سے زیادہ مﺅثرآواز جماعت اسلامی ہی کی ہوتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ کشمیر،فلسطین،برما،عراق ،افغانستان،شام بنگلہ دیش ریاستی جبر کے ذریعے انسانی آزادیوں کو جب پامال کیا گیا جماعت اسلامی ہی کی آواز سنائی دیتی رہی۔
﴿جماعت اسلامی ملک میں موجود غیر مسلموں کو پاکستانی برادری کا عنوان دیتی ہے اور پاکستانی برادری کو جماعت اسلامی کی چھتری تلے منظم کیا گیا ہے۔جماعت اسلامی سمجھتی ہے کہ پاکستانی برادری کو مذہبی بنیاد پر دیوار سے لگانا مناسب نہیں ۔پاکستانی برادری کی عبادات ،رسومات،عبادت گاہوں ،تہواروں کو محفوظ بنانے کے ساتھ ان کو وہ تمام حقوق ملنا چاہئیں جو آئین پاکستان میں موجود ہیں۔
اگر آپ پاکستان میں صادق و امین قیادت کے ساتھ حقیقی تبدیلی کے خواہاں ہیں۔
تو آگے بڑھیں جماعت اسلامی میں شامل ہوں ۔
تبدیلی آپ کی منتظر ہے۔

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں