نیا پاکستان (ایک جمہورے کی آپ بیتی)

“جرنیل کرپٹ ہیں اور سپاہی بہادر
ہم جرنیلوں کو الٹا ٹانگیں گے جب حکومت ملی تو۔”
“فوج بھی پنجاب پولیس بن گئی ہے۔”
اس نے بہت ایکسائیٹمنٹ میں یہ دو تین جملوں کا اسٹیٹس فیسبک اور ٹوئیٹر پر پوسٹ کیا۔ اسے ایک سیاسی جماعت کا میڈیا سیل جوائن کیئے دو ہی روز ہوئے تھے۔
یہاں وہ بہت خوش تھا۔ تین وقت سوادی کھابے۔اور ماہانہ 25000 روپے وظیفہ۔ اور ساتھ انٹرنیٹ کی موجیں ۔۔بس کام یہی کہ صبح سے شام اور شام سے صبح,۔ قائدین اور سوشل میڈیا ٹیم کے بیانات کو لکھ کر اور نکھار کر سوشل میڈیا پر وائرل کرنا ہے۔
صاف لفظوں میں شاہ سے زیادہ شاہ کی وفاداری والی نوکری تھی یہ۔ لیکن وہ خوش تھا.۔
آج کل فوج مخالف کیمپین کا آرڈر ملا تھا قائدین کی طرف سے بوجہ ڈان لیکس پر فوج کے پر امن ردعمل کی بدولت۔
وہ ابھی اس پوسٹ سے یہی ذمہ داری نبھا کر بیٹھا تھا۔ کہ یہ کیا باہر کھٹ کھ اور دھڑم دھڑم کی آوازوں اور انسانوں کے شور کی آوازیں آرہی ہیں۔
وہ سوچ میں پڑ گیا کہ یہ تو شاہ صاحب کی ذاتی کوٹھی ہے اور وہ اثر رسوخ والے سیاست دان ہیں پھر یہ باہر وردی والے کیوں کھڑے ہیں۔اتنے میں سارے سوشل میڈیا مجاہد باجماعت قومی ترانہ پڑھنے لگ گئے۔ اور نعرے بلند کرنے لگے
پاک فوج زندہ آباد۔
پاکستان پائندہ آباد۔ وہ بھی ساتھ دینے لگا۔
لیکن وردی والے بہت غصے میں تھے وہ ٹھنڈے نا ہوئے۔ اور سبھی بیس افراد کو بمع اسکے ڈالوں میں ڈال کر نا معلوم مقام پر لے گئے
اور ایک پرچی شاہ صاحب کے چوکیدار کو دے گئے یہ لکھ کر
فوج اور کیا کرتی, مارشل لاء لگاتی؟
اس کا جواب دے کر بندوں کی خیر خبر لے لو ہم سے۔
اور ہاں کبھی آو نا ایف آئی اے آفس خوشبو لگا۔

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں