پرانے زمانے کی کہانی

کھیتوں میں چلتے ہوئے بیل کی تصویر دیکھ کر مجھے ماں باپ یاد آجاتے۔ جب میرا باپ ہل چلاتا اور ماں کھانا لے کر آتی تھی۔
کبھی کبھی دونوں کسی بات پر ہلکی پھلکی لڑائی کر لیتے اور ساتھ مل کر کام بھی کرتے رہتے۔ اس زمانے میں بجلی کا تصور بلکل نہیں تھا۔ بلب کی جگہ چراغ روشنی کا کام دیتے تھے۔ اندھیرا بہرحال غالب رہتا تھا۔

لوگ رات کو ایک دوسرے کی شکل اندھیرے میں بھی پہچان لیا کرتے تھے۔ کسی ایک گھر سے کھانسی  کی آواز سنائی دیتی تو سب کے سب لوگ مشورے دینے اور ٹوٹکے آزمانے جمع ہو جاتے۔ کوئی نہ کوئی ٹوٹکا کام کر جاتا اور کبھی کبھی مریض لوگوں سے گپیں لگا کر ہی تندرست ہو جاتا۔

کسی گھر سے بچے کے رونے کی آواز آتی تو بازار سے گزرتا کوئی بزرگ  اندر چلا جاتا اور کہتا۔ دیکھو اس نے دودھ بھی پیا ہے یا نہیں۔۔اور کبھی کبھی وہ بچوں میں ریوڑیاں یا مٹھائی تقسیم کر دیتا۔۔ اکثر بزرگ بچوں کے لیے کچھ نہ کچھ جیب میں رکھتے۔۔
بچے بھی بزرگوں سے محبت  کرتے تھے ۔۔یاد آیا جب رات کو چاند آسماں پر چمک رہا ہوتا تھا تب بچے بزرگوں سے ضد کر کے چندا ماموں کی کہانی سنتے. اور کھو سے جاتے۔ گُم سے ہو جاتے۔۔ تصور میں چاند پر جا بیٹھتے۔

کسی کے گھر بیٹی کی شادی  ہوتی تو پورا گاؤں اس گھر میں کچھ نہ کچھ سامان دیتا تھا۔۔یہاں تک کہ اتنا جمع ہو جاتا اس گھر کوشادی کے بعد سالوں کمانے کی طلب نہ رہتی۔
عورتیں کھیتوں میں کام کرتیں مگر کبھی کسی جوان نے ان پر آواز نہ کَسی نہ بری نظر ڈالی۔۔لڑکیاں بھی باہر نکلتی تھیں ۔۔ مگر شرم و حیا ان کا گہنا تھا۔۔زرا زرا بات پہ شرما جاتی تھیں۔ رشتے دار فاصلوں پہ رہتے تھے آنے جانے میں کافی وقت لگتا تھا۔۔ کیونکہ گاڑیاں  نہیں تھیں مگر دلوں کے پاس رہتے تھے۔ ۔فاصلے راستوں میں تھے دلوں میں نہیں۔۔
بوڑھی اماں اندازہ لگاتی کہ فلاں گاؤں میں فلاں کی بیٹی آج اداس ہے۔ سب اداس ہو جاتے۔ اسی کی باتیں کرنے لگتے۔۔

اندھیرا ضرور تھا مگر رشتوں کی پہچان تھی۔۔عورتیں باہر نکلتی تھیں مگر شرم و حیا ادب و احترام تھا۔۔دکھ آتے تھے مگر بانٹ لیے جاتے تھے۔۔بیٹیاں بیٹے بیاہے جاتے تھے مگر شادی والا گھر آباد ہو جاتا تھا نہ کہ برباد۔ آج شہر روشنیوں سے جگمگا رہے ہیں مگر ۔رشتے نظر نہیں آرہے۔۔عورتیں بازار میں ہیں مگر حیا و شرم و نگاہ کی پاکیزگی گُم ہو گئی ہےپریشانی آتی ہے تو کم کرنے والا تو نہیں ملتا بڑھانے والے کافی ہیںبزرگ بھی ہیں بچے بھی ہیں مگر بچوں کوبزرگوں سے محبت نہیں کیونکہ وہ اب کہانیاں نہیں سناتے
اب وہ مٹھائی نہیں بانٹتے۔اور بچے سنیں بھی کیسے موامابائل ہی ان کا سب کچھ بن چکا ہے

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں