سپریم کورٹ کا فیصلہ ۔۔۔۔ ناقدین کے اعتراضات کا جائزہ

قانون کی عدالت سے نا اہل ہونے کے بعد ، اب عوام کی عدالت میں دہائی دی جا رہی ہے کہ انصاف نہیں ہوا۔یہ ایک پورا بیانیہ ہے جس کی روشنی میں آنے والے دنوں میں وہ دھول اڑے گی کہ کچھ سجھائی نہ دے گا۔فکری یکسوئی کے لیے ضروری ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر ہونے والے اعتراضات کا ایک جائزہ لے لیا جائے۔

پہلا اور بڑا اعتراض یہ کیا جا رہا ہے کہ دیکھیے صاحب! وزیر اعظم کو تنخواہ نہ لینے کے جرم میں نا اہل کر دیا گیا۔ بھلا یہ بھی کوئی بنیاد ہے جس پر کسی کو نااہل کیا جائے۔ جب وزیر اعظم نے ایک ادارے سے کبھی تنخواہ لی ہی نہیں تو اس کا ذکر وہ اثاثوں میں کیوں کرتے؟ اس اعتراض کا جواب خود فیصلے کے اندر موجود ہے۔ نواز شریف صاحب کے وکیل سے تین سوال پوچھے گئے ۔ایک یہ کہ کیا نواز شریف کے پاس دوبئی کا اقامہ تھا؟ جواب ملا جی ہاں تھا۔دوسرا سوال تھا :کیا وہ چیئرمین بورڈ آف کیپیٹل ایف زی ای تھےْ جواب ملا جی ہاں ، تھے۔اب تیسرا سوال کیا جاتا ہے جو بہت ہی اہم ہے۔سوال اور جواب پر غور فرمائیے۔سوال کیا گیا کیا وہ بطور چیئر مین تنخواہ کے لیے “entitled” تھے؟اس کا جواب دیا گیا کہ جی ہاں ، لیکن انہوں نے کبھی تنخواہ “Withdraw” نہیں کرائی۔وکیل نے یہ نہیں کہا کہ نواز شریف کا یہ عہدہ رسمی اور نمائشی سا تھا اور انہیں تنخواہ وصول کرنے کا کوئی حق نہ تھا اور وہ اس کے “Entitled” نہ تھے۔ وہ صرف یہ کہہ رہے تھے کہ انہوں نے تنخواہ “Withdraw” نہیں کرائی۔نواز شریف صاحب کے وکیل اگر Entitlement کی نفی کر دیتے تو معاملہ اور ہوتا لیکن وہ اس کی نفی نہیں کر رہے۔ اب عدالت کے سامنے دو چیزیں تھیں ۔ ایک وہ دستاویز جس کے مطابق نواز شریف تنخواہ دار چیئر مین تھے۔نواز شریف صاحب کے وکیل ایسی کوئی دستاویز بھی پیش نہ کر سکے جس میں کمپنی اور نواز شریف کے درمیان یہ طے ہوا ہو کہ یہ عہدہ رسمی ہے جس میں رسمی طور پر آپ کی تنخواہ کا ذکر ضرور ہے لیکن آپ تنخواہ نہیں لیں گے۔دوسری چیز جو عدالت کے پیش نظر تھی وہ دوبئی کے قوانین تھے۔یہ قوانین بتا رہے تھے کہ نواز شریف صاحب کے وکیل عدالت سے جھوٹ بول رہے ہیں کہ نواز شریف نے کبھی تنخواہ وصول نہیں کی ۔کیونکہ یو اے ای کی منسٹری آف لیبرزکے ہاں منسٹیریل قرارداد نمبر788 کے اصول نافذ العمل ہیں جس کے مطابق وہاں کسی ملازم کی تنخواہ کسی بھی طرح روکی ہی نہیں جا سکتی اور وہ ایک خود کار نظام کے تحت اس کو منتقل ہو جاتی ہے۔یہی بات جبل علی فری زون رولز کے رول نمبر گیارہ کی سب کلاز چھ اور سات میں بھی موجود ہے۔یعنی نواز شریف اگر وہاں اقامہ رکھتے تھے، چیئر مین تھے، ان کی ایک تنخواہ طے تھی تو مقامی قوانین کے تحت یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ تنخواہ نہ لے رہے ہوں۔اب عدالت نے اس تنخواہ کو آپ کے اثاثے قرار دیا تو اس میں کیا غلطی ہے؟آپ کو عوامی نمائندگی ایکٹ کی دفعہ 12(2)f کے تحت اس کا ذکر کرنا چاہیے تھا۔نہیں کیا تو قانون نافذ ہو گیا۔اس میں ظلم ، زیادتی اور سازش کہاں سے آ گئی؟

دوسرا اعتراض یہ کیا جا رہا ہے کہ کیس تو پانامہ کا تھا۔پانامہ سے تو کچھ نہ نکل سکا اس لیے اقامہ سے منسلک ایک چھوٹی سی بات پرگرفت کر لی گئی۔کیس تو کرپشن کا تھا، اگر نواز شریف کرپٹ تھے تو انہیں سزا دی جاتی۔کرپشن تو پکڑی نہ جا سکی لیکن ایک اور چیز پکڑ کر نا اہل کر دیا گیا۔ اس اعتراض کے دو پہلو ہیں اور دونوں ہی کمزور ہیں۔پہلی بات تو یہ ہے کہ سپریم کورٹ کے سامنے جو سوال تھا وہ بنیادی طور نواز شریف کی اہلیت یا ناہلی کا تھا۔اس کا فیصلہ سپریم کورٹ نے کر دیا۔ کرپشن کا حتمی تعین تو ٹرائل کورٹ نے کرنا ہے اور اسی لیے نیب کو حکم دیا گیا ہے کہ ریفرنس فائل کرے اور ایک معینہ مدت میں کیس نبٹایا جائے۔البتہ اہلیت یا ناہلی کا فیصلہ کرتے کرتے ایسے خوفناک معاملات سپریم کورٹ کے سامنے آئے کہ اس نے نواز شریف پر کرپشن کا کیس چلانے کا حکم بھی دے دیا۔جو احباب یہ کہہ رہے ہیں کہ کرپشن پکڑی نہیں گئی وہ صرف اتنی زحمت کر لیں کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ایک نظر دیکھ لیں۔انہیں معلوم ہو جائے گا کیا کچھ پکڑا جا چکا ہے۔سپریم کورٹ تو سراپا حیرت ہے کہ اللہ کے ان شریف بندوں کے تمام کاروبار بقول ان کے خسارے میں جا رہے ہیں لیکن ان کے اثاثے غیر معمولی طور پر بڑھ گئے ۔وہ تو نام لے لے کر بتا رہی ہے کہ کس کس معاملے میں انہوں نے جھوٹ بولا، اور جعلسازی کی اور جعلی دستاویزات پیش کیں۔سپریم کورٹ نے صرف اتنا کیا ہے کہ سب کچھ پکڑے جانے کے باوجود سزا نہیں دی کیونکہ وہ ٹرائل کورٹ نہیں ہے۔ آئینی تقاضا پورا کرتے ہوئے اس نے معاملہ ٹرائل کورٹ کو بھیج دیا۔لیکن جس آئینی معاملے میں اس کے پاس اوریجنل جورسڈیکشن تھی اس میں فیصلہ کرد یا۔اب اگر احباب اس مہلت کو نعمت سمجھ لیں تو ہم کیا کر سکتے ہیں۔سپریم کورٹ کی جورسڈکشن پر سوال اٹھانے والے حضرات یہ بات جان لیں تو جس معاملے کا سپریم کورٹ نے تعین کیا ہے وہ اسی کی جورسڈکشن میں آتاہے اور جو معاملہ اس کی جورسڈکشن میں نہیں آتا وہ ٹرائل کورٹ کو بھجوا دیا گیا ہے۔

تیسرا اعتراض یہ ہے کہ نواز شریف کی اہلیت یا نا اہلیت کا فیصلہ پانامہ لیکس کی روشنی میں ہونا چاہیے تھا، یہ جے آئی ٹی لیکس کی روشنی میں کیوں ہوا؟جے آئی ٹی کا مینڈیٹ کچھ اور تھا ، جب کہ وہ اقامے اور ایف زی ای کے چیئر مین کی تنخواہ کا ایشو لے کر آ گئی۔اس پر کارروائی کرنا تھی تو الگ سے کی جاتی۔کیس کسی اور معاملے پر تھا ، فیصلہ کسی اور معاملے پر دے دیا گیا۔یہ اعتراض بھی قانون سے ناواقفیت کی بنیاد پر کیا جا رہا ہے۔جب تفتیش شروع ہوتی ہے تو اس کی روشنی میں کچھ نئی چیز سامنے آتی ہے تو دو چیزیں دیکھی جاتی ہیں۔اگر وہ نیا انکشاف پہلے سے جاری سماعت کے دائرہ کار میں آتا ہو تو اسے اسی میں شامل کر لیا جاتا ہے، لیکن دائرہ کار سے باہر ہو تو اس پر الگ سے کاروائی کی جاتی ہے۔یہاں تو دیکھا ہی یہی جا رہا تھا کہ نواز شریف صادق اور امین ہیں یا نہیں۔اس لیے یہ معاملہ اسی کیس میں ہی طے کیا جانا چاہیے تھا نہ کہ اس کے لیے الگ سے پیٹیشن ڈالی جانی تھی۔فریقین وہی تھے، ایشو وہی تھا، صرف ایک شہادت مزید آ گئی تھی۔اس کو الگ کیسے کیا جا سکتا تھا۔

چوتھا اعتراض مولانا فضل الرحمن صاحب کی جانب سے سامنے آیا کہ عدالت کو سوچنا چاہیے تھا وزیر اعظم کی نا اہلی سے پیدا ہونے والا خلاء کیسے پر ہو گا۔مولانا اگر فیصلے کا اردو ترجمہ پڑھنے کی زحمت فرما لیتے تو انہیں معلوم ہو جاتا عدالت نے فیصلے میں لکھ دیا ہے کہ صدر مملکت آئین کے تحت ضروری اقدامات کر کے جمہوری نظام کو یقینی بنائیں۔عدالت اور کیا کرتی ؟دیر تو اس لیے ہوئی کہ معزول شاہ معظم کو کسی وفادار کی تلاش تھی اور خوف دامن گیر تھا۔جمہوری روایات ہوتیں اور خاندانی بادشاہت نہ ہوتی تو فورا فیصلہ کیا جا سکتا تھا کہ نیا وزیر اعظم کون ہو گا۔
ایک اعتراض یہ بھی سامنے آ رہا ہے کہ اس فیصلے کے جمہوریت پر بہت برے اثرات مرتب ہوں گے۔چلیں یہ سوال پوچھ کر ہم ان ناقدین کو بد مزہ نہیں کرتے کہ جمہوریت ہے کہاں، لیکن پارلیمنٹ میں تشریف فرما قانون ساز وں سے یہ سوال تو پوچھا جانا چاہیے کہ کیا آپ نے معزز ججز کی رہنمائی کے لیے قانون کی کتابوں میں کہیں یہ لکھ رکھا ہے کہ ایسا کوئی فیصلہ نہ کیا جائے جس سے مبینہ جمہوریت کو نزلہ، زکام، کالی کھانسی، تپ دق اور تشنج ہونے کا خطرہ ہو۔ہماری رہنمائی تو کی جا رہی ہے کہ جسے عصبیت حاصل ہو جائے قانون کو اس کے ڈیرے کی کنیز بن جانا چاہیے لیکن ایسا کوئی حکیمانہ نکتہ ابھی تک قانون کی کتابوں میں درج نہیں کیا جا سکا۔جب تک اس حکمت و دانائی کو قانون نہ بنا لیا جائے تب تک عدالت قانون ہی کے مطابق فیصلہ کرنے کی پابند ہے۔

لیجیے ، ایک ارشاد اور ہواکہ فیصلے پر آئینی ماہرین حیران ہیں۔جان کی امان پاؤں تو مولانا سے پوچھوں ، حضرت وہ جواس فیصلے پر حیران ہیں ،کیا وہ آئینی ماہرین ہیں؟

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں