شوکت اور صغرٰی

شوکت اور صغراں کی منگنی بچپن میں ہی طے کردی گئی تھی
تایا چچا کے بچے ہونے کی وجہ سے ویسے بھی ان میں پیار بہت تھا ، مگر جب انہیں اپنے رشتے کا پتہ چلا تو انکی محبت دو آشتہ ہوگئی ، صغراں لڑکپن سے ہی شوکت کے نام کی مالا جپنے لگی اور یوں یہ بے نام سی محبت پروان چڑھی ۔ شوکت کو صغراں کی ایک چیز جو سب سے زیادہ پسند تھی وہ تھی اس کی خوبصورت ، ستواں ناک
شوکت کو پاکستان پسند نہیں تھا ، وہ جوان ہوا تو اسکی یہ سوچ مزید پروان چڑھ گئی کہ اس ملک میں کچھ نہیں رکھا ، اس سوچ کو یقین کا عہدہ تب حاصل ہوا جب ایم ایس سی کے بعد چھ ماہ تک در در کی خاک چھانٹنے کے باوجود اسے نوکری نا مل سکی ، اپنے ملک سے بیزاری اس حد تک بڑھی کہ جاب سے مایوس ہوکر اس نے بیرون ملک جانے کی تیاری شروع کردی ۔
ایم ایس سی سے فارغ ہونے کے بعد شوکت اور صغراں کا نکاح کر دیا گیا لیکن صغراں کی رخصتی کو شوکت کو کام دھندہ ملنے تک روک دیا گیا ۔
جب صغراں کو شوکت کے ارادوں کی خبر ہوئی کہ وہ بیرون ملک جانا چاہتا ہے تو ، ناولوں اور ڈائجیسٹوں میں پڑھی ان کہانیوں کا سوچ کر وہ بیحد ڈر گئی کہ جس میں لڑکے باہر جا کر پھر کبھی واپس نہیں آتے ۔
ادھر شوکت کی باہر جانے کی تیاریاں جاری تھیں ، دوسری طرف صغراں کا خوف اور ڈیپریشن بڑھنے لگا ۔
صغراں اور اس کے گھر والوں نے شوکت کو والد کا کاروبار سنبھالنے کا مشورہ بھی دیا مگر شوکت ٹس سے مس نا ہوا ، صغراں کے آنسو بھی اسے اس کے مقصد سے ہٹا نا سکے ، پاکستان سے اس کی بے زاری عروج پر تھی ۔
ویزہ لگ چکا تھا ، چند دن بعد شوکت کی سیٹ تھی ، مگر دوسری طرف
صغراں ذہنی مریض بن چکی تھی ، تبھی ان دنوں صغراں نے ایک خوفناک فیصلہ کیا
رات کو صغراں نے چوہے مار گولیاں نگل لیں ،
اسے ہسپتال لیجایا گیا تو ڈاکٹر نے بیہوش صغراں کا معدہ واش کرنے کے بعد صغراں کے والد اور شوکت کو بتایا کہ شکر کریں گولیاں دو نمبر تھیں ورنہ صغراں نا بچتی ۔ صغراں کو گھر لیجایا گیا ۔
شوکت بھی انکے گھر ہی ٹھھر گیا ، رات کو شوکت کو کھٹ پٹ کی آواز آئی تو دیکھا کہ صغراں پنکھے سے رسی باندھ کر لٹکنے کی تیاری کر رہی ہے ، شوکت ہڑبڑا کر دوازے کی طرف بھاگا ، ادھر شوکت دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوا ادھر صغراں پھندے کو گلے میں ڈال کر سٹول کو ٹھڈا مار چکی تھی ، فرط جزبات سے شوکت کے منہ سے چیخ نکل پڑی ، مگر تب ہی تڑاخ کی آواز آئی ، رسی ٹوٹ گئی ، اور صغراں دھڑام سے فرش پر گرپڑی ، فرش پر گرنے کی وجہ سے صغراں کی ناک پر چوٹ لگی اور اسکی ناک سوج کر المناک ہوگئی ، دونمبر رسی کی وجہ سے صغراں پھر بچ گئی ، بیہوش صغراں کو کمرے میں لیٹا کر شوکت باہر آیا اور سر پکڑ کی بیٹھ گیا ، اسکی منکوحہ خطرناک حد تک زندگی سے مایوس ہو چکی تھی ۔
ابھی وہ بیٹھا سوچ ہی رہا تھا کہ ، کڑچ کڑچ کی آوازیں آنے لگیں ، وہ بھاگ کر کمرے میں گیا تو اندر کا منظر دیکھ کر اسکے اوسان خطا ہو گئے ، صغراں اپنے والد کا ریوالور ہاتھ میں لئے سر پہ رکھے جنونی انداز میں ٹریگر دبا رہی تھی ، اسنے بھاگ کر ریوالور اسکے ہاتھ سے چھینا اور کھول کر دیکھا ، اس میں گولیاں موجود تھیں ،
پر وہ چلی کیوں نہیں ؟ ۔۔۔ یہ سوچ کر جب اسنے خود ہوائی فائر کرنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ گولیاں دو نمبر تھیں ، تیسری دفعہ پھر صغراں کی جان بچ گئی ، شوکت سر پیٹتا کمرے سے باہر آیا تو یکدم اسے صغراں کی چیخ سنائی دی ، وہ ہواس باختہ کمرے میں داخل ہوا تو دیکھا کہ صغراں سوئچ بورڈ میں انگلیاں دئے چیخ رہی تھی ، اسکا رنگ نیلا پڑ چکا تھا ، تبھی یکدم خوشقسمتی سے لائٹ چلی گئی اور بیہوش صغراں کو بجلی کے ری ایکشن نے دیوار سے دے مارا ، وہ ناک جو پہلے ہی المناک ہو چکی تھی دوبارہ چوٹ سے کرب ناک ہو گئی ، بڑی مشکل سے پانی کے چھینٹے مار کر وہ صغراں کو ہوش میں لایا اور صغراں کو بیڈ کی ٹیک سے بٹھا کر خود سامنے بیٹھ کر افسوس سے صغراں کو دیکھنے لگا ،
صغراں بھی خالی خولی نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی اس نے بھری آنکھوں سے صغراں سے پوچھا
آخر تم یہ سب کیوں کر ہی ہو ۔
تم یہ سب کیوں کر رہے ہو ، صغراں نے الٹا سوال داغ دیا
تم اگر اپنے جانے کا ارادہ نہیں بدلو گے تو میرا ارادہ اٹل ہے ، صغراں نے سرد لہجے میں اسے کہا ، اور شوکت چپ چاپ کمرے سے نکل گیا ، وہ صغراں سے بیحث کرنے کے بجائے اسے کچھ دیر آرام کرنے دینا چاہتا تھا مگر ، اسکے نکلتے ہی صغراں گولی کی طرح کمرے سے نکلی اور اسے دھکا دیکر گھر سے باہر نکل گئی ، شوکت بھی اٹھا اور اسکے پیچھے دوڑنے لگا ، رات کے بارہ بج رہے تھے اور وہ دونوں گلی میں ایک دوسرے کے پیچھے بھاگ رہے تھے ، بھاگتے بھاگتے صغراں نہر کے پل پر پہنچی ایک دفعہ اپنے تعاقب پہ آئے شوکت کو دیکھا اور پْل سے چھلانگ لگا دی ،
شوکت نے صغراں کو پکڑنے کے لئے ہاتھ بڑھایا پر اس کے ہاتھ میں صغراں کا دوپٹہ ہی آیا ، خود صغراں چھلانگ لگا چکی تھی ، شوکت نے کرب سے آنکھیں بند کر لیں ، آخر کار صغراں کامیاب ہو ہی چکی تھی ،
مگر اسے حیرت کا جھٹکا تب لگا جب نہر سے صغراں کے چھپاکے کے بجائے دھپ کی آواز آئی ،
اس نے آنکھ پھاڑ کر پل سے نیچے نہر میں دیکھا تو چاند کی بھینی بھینی چاندنی میں صغراں ریت پر الٹی پڑی نظر آئی ۔
پانی کہاں چلا گیا ، اس نے سر کھجاتے ہوے سوچا تو یاد آیا کہ بھارت نے آجکل پانی بند کیا ہوا تھا جس کی وجہ سے یہ نہر خشک تھی ،
وہ نہر میں اترا اور بیہوش صغراں کو الٹا کر دیکھنے لگا ، اس کی بلند اور ستواں ناک بار بار چوٹوں سے اب دہشت ناک ہو کر پھینی ہو چکی تھی ، بیہوش صغراں کو ہوش میں لاتے ہوے اسکے ذہن میں پچھلے چند گھنٹوں کی فلم چل رہی تھی ،
دو نمبر چوہے مار گولیاں
دو نمبر رسی
دو نمبر بلٹس
واپڈا کی لوڈ شیڈنگ
اور پانی کی بندش
کیا یہ سب کسی اور ملک میں مل سکے گا ؟
اگر صغراں پاکستان کے علاوہ کہیں اور ہوتی تو کیا اتنی دفعہ بچ جاتی
پھینی ہی سہی ۔۔۔۔ پر اسکی صغراں زندہ تو ہے ۔ یہ سوچتے ہی اسنے فلک شگاف نعرے لگانے شروع کردئے
پاکستان زندہ باد ۔۔۔۔ پاکستان زندہ باد ۔۔۔۔ اور ہوش میں آئی دہشتناک ناک لئے پھینی سی صغراں اپنے شوہر کے نعرے سن کر ہولے سے مسکرا رہی تھی

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں