تراویح کی رکعتیں بیس ہی ہیں؟

’’تراویح کی رکعتیں بیس ہی ہیں؟‘‘ ’’نہیں حضورؐ سے صرف آٹھ ہی ثابت ہیں۔‘‘ ’’حضرت عمرؓ کے دور میں صحابہؓ نے بیس رکعتیں جماعت کے ساتھ ادا کی تھیں‘ کیا انہوں نے غلط کیا؟‘‘ ’’بیس کی دلیل کمزور ہے‘ ہم نے تو اپنے بزرگوں کو آٹھ پڑھتے ہی دیکھا ہے۔‘‘ ’’آٹھ کی دلیل کمزور ہے ہم تو بیس ہی پڑھیں گے۔‘‘ قاہرہ سے دور ایک گائوں کی مسجد میں ماہ رمضان کی ایک شب نمازیوں کے درمیان تکرار ہورہی تھی۔ اس سے پہلے یہ کہ تکرار لڑائی تک پہنچتی‘ ایک اجنبی آدمی جو انہیں شکل و صورت سے علمی وجاہت کا حامل نظر آتا تھا اٹھا اور باآواز بلند کہنے لگا۔ ’’ایھا الاخوان! اجنبی کی آواز کی گھن گرج کچھ ایسی تھی کہ بحث کرنے والے اس کی طرف متوجہ ہونے لگے۔ میں تراویح کے مسئلہ پرآپ کی بحث کافی دیر سے سن رہا ہوں‘ مسجد میں شورو غل کرنا آداب مسجد کے خلاف ہے جبکہ آپ کی بحث جھگڑے اور لڑائی کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ مسئلہ بجائے سلجھنے کے ا لجھتا جارہا ہے۔ اگر آپ میرے دو سوالوں کا جواب دے دیں تو شاید مسئلہ سلجھ جائے۔ کیا آپ مجھے اس بات کی اجازت دیں گے؟‘‘ ’’جی جی آپ فرمائیے مسئلہ سلجھنا چاہیے۔‘‘ کئی آوازیں مختلف اطراف سے بلند ہوئیں۔ ’’سوال یہ ہے۔‘‘ اجنبی نے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’تراویح کا شرعی حکم کیا ہے؟ یعنی یہ فرض ہے سنت موکدہ ہے یا نفل ہے؟‘‘ ’’یہ نفل ہے‘ یہ نفل ہے۔‘‘ بیک وقت کئی آوازیں بلند ہوئیں۔ ’’بہت خوب! اچھا! اب یہ بتایئے کہ اسلام میں مسلمانوں کے اتحاد و اتفاق اور اخوت و محبت کے بارے میں کیا حکم ہے۔ یہ فرض ہے یا نفل؟‘‘ ’’فرض ہے۔ فرض ہے۔‘‘ لوگوں نے جواب دیا۔ ’’ایھا الاخوان! نفل وہ فعل ہے کہ اگر کسی وقت اسے نہ کیا جائے تو آدمی گناہ گار نہیں ہوتا جبکہ فرض وہ چیز ہے جس کے ضائع ہونے سے انسان گناہ گار ہوتا ہے۔‘‘ کیا میں نے صحیح کہا؟ ’’جی بالکل ٹھیک۔‘‘ مجمع نے پوری توجہ سے جواب دیا۔ ’’و اعتصموا بحبل اللہ جمعیاً و لا تفرقوا‘‘ کا ارشاد الٰہی ہمیں اس کی رسی کو مل کر مضبوطی سے تھامنے کا حکم دیتا ہے اور فرقہ فرقہ ہونے سے منع کرتا ہے کیونکہ جھگڑے اور تنازع سے مسلمانوں میں کم ہمتی پیدا ہوگی اور ان کی ہوا اکھڑ جائے گی۔’’ولا تنازعوا فتفشلوا و تذھب ریحکم۔‘‘ تراویح نفل ہے۔اتحاد فرض ہے۔ اب آپ مجھے بتایئے کہ جو شخص ایک نفل کے قیام کے لیے مسلمانوں کے درمیان تفریق اور انتشار پیدا کرے ایسا شخص دین و ملت کا خیر خواہ ہوگا یا دشمن؟ ’’دشمن! دشمن‘‘ پور ا مجمع بیک زبیان ہو کر بولا۔ ’’تمہارا دشمن تمہارا اتحاد چاہتا ہے یا انتشار؟‘‘ ’’انتشار۔‘‘ ’’اب سوچئے کہ جو شخص حضور اکرمؐ کی امت میں انتشار پیدا کرنا چاہتا ہے، وہ حضوراکرمؐ کا صحیح پیروکار ہوسکتا ہے؟‘‘ ’’حضور اکرمؐ کا پیروکار نہیں‘ وہ دشمن کا ایجنٹ ہی ہوسکتا ہے۔‘‘ ایک نوجوان نے کھڑے ہو کر جذبات سے مغلوب آواز میں کہا۔ ’’اب جو لوگ ایسا کام کریں تمہارا کام انہیں روکنا اور سمجھانا ہے یا ان کا ساتھ دینا ہے؟‘‘ ’’ہم انہیں روکیں گے؟‘‘ ’’تمہیں آٹھ اور بیس تراویح کا مسئلہ زیادہ عزیز ہے یا مسلمانوں کا اتحاد؟‘‘ ’’اتحاد، اتحاد۔‘‘ ’’ایھا الاخوان! اگر تم اتحاد چاہتے ہو تو اس کے لیے تمہیں تھوڑی سی قربانی دینا ہوگی۔ کیا تم یہ قربانی دو گے؟‘‘ ’’ہم ہر طرح کی قربانی دیں گے۔‘‘ ’’قربانی صرف اتنی ہے کہ تمہیں جس امام یا اپنی تحقیق پر اعتماد و اطمینان ہے‘ اس پر عمل کرو۔ دوسروں کو دلیل سے سمجھائو لیکن دوسرے کا بھی اس کی رائے اور تحقیق پر چلنے کا حق تسلیم کرو کیونکہ ہر مسلمان اپنے موقف کی سچائی کے ثبوت کے لیے قرآن و سنت سے ہی دلیل پیش کرتا ہے۔ کوئی انجیل یا تورات سے استد لال نہیں کرتا۔ تعبیر و تشریح میں اختلاف ہونا فطری امر ہے۔ فروعی مسائل میں جو جس رائے کو مناسب سمجھے‘ اس پر عمل کرے جبکہ دین کے بنیادی اور متفقہ مسائل کو عملی زندگی میں نافذ کرنے کیلئے تمام لوگ مل جل کر زور لگائیں۔ تمہارا دشمن انگریز ہو یا یہودی‘ وہ تم پر گولی چلاتے ہوئے یہ فرق نہیں کرے گا کہ فلاں شافعی ہے اور فلاں حنفی۔ فلاں آٹھ تراویح پڑھتا ہے اور فلاں بیس۔ اس کی نظر میں تمام کلمہ گو اس کے دشمن ہیں۔ اس کی کامیابی اس میں ہے کہ تمہیں آپس میں لڑائے رکھا۔ اس لیے آج ضرورت یہ ہے کہ ہم فروعی اختلافات سے بالاتر ہو کر کفر و ظلم کے خلاف متحد ہوجائیں اور خود کو صحیح مسلمان بنائیں۔‘‘ اجنبی کی تقریر ختم ہوئی تو لوگ کھڑے ہو کر انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ اسے ملنے لگے۔ گائوں کا ایک وجیہہ شخص جو اپنے لباس اور چہرے سے ایک متمول اور معزز آدمی دکھائی دیتا تھا‘ آگے بڑھا اور اس نے ا جنبی سے پوچھا: ’’میں آپ کی باتوں سے بہت متاثر ہوا‘ آپ اپنا تعارف کروائیں تو مہربانی ہوگی۔‘‘ ’’میرا نام حسن البنا ہے اور میں قاہرہ میں رہتا ہوں!!!

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں