آج پھر بے سبب اداس ہے دل، آج تم یاد مسلسل آئے،

آج پھر بے سبب  اداس ہے دل، آج  تم یاد مسلسل   آئے،

پتا ہے بابا میں ہر فادرز ڈے پر قلم اور ڈائری اٹھا کر تمھارے لیئے کچھ لکھنے کی ناکام کوشش کرتی ہوں. ڈائری کے صفحات بھیگ جاتے ہیں لکھ کچھ نہیں پاتی اور جو چند ٹوٹے پھوٹے جملے لکھتی ہوں تو ستم دیکھو کہ تم تک پہنچا نہیں پاتی.

پتا ہے میں ہر ویلنٹائن ڈے کو تمھیں تصور میں لا کر تم سے محبت کا اظہار کرتی ہوں بابا پر ستم دیکھو کہ جواب دینے کے لیئے تم ہوتے ہی نہیں ہو

اور پتا ہے جب دسمبر کی کالی لمبی سرد راتوں میں کسی پہر باہر جاتی ہوں نا تو تم بے حساب یاد آتے ہو مجھے لگتا ہے تمھیں بھی یہ لمبی سرد راتیں بڑی پسند ہوا کرتیں شاید

ہاسپٹل میں تمھارا چھوٹا سا کمرہ، دائیں دیوار کے ساتھ لگا تمھارا بیڈ اسکے ساتھ رکھی سائڈ ٹیبل جس پر تمھاری دوائیوں کا ڈھیر لگا تھا. تمھارا تھکا تھکا سا چہرہ، اور امیدوں سے بھری روشن آنکھیں، تمھاری سرخ ہتھیلیاں جن پر میں ہمیشہ اپنی انگلی پھیرتی اور کہتی بابا آپکی ہتھیلیاں کتنی پیاری ہیں نا، اور تمھارے خشک ہونٹ، تمھاری ناک کتنی حسین تھی نا، مجھ بھلکڑ بندی کو آج بھی ایک ایک چیز یاد ہے تمھاری….

بابا! وہ جو آخری لمحہ تھا نا وہ آنکھوں میں ٹہر سا گیا ہے یار. اوجھل ہی نہیں ہوتا نظروں سے ، جب تمھیں دیکھنے ہاسپٹل آئی تھی میں، اور جاتے وقت مڑ مڑ کر پیچھے دیکھتی تم تکیئے سے سر اٹھائے مجھے ہی تکے جا رہے تھے جیسے اپنی آنکھوں میں بھر لینا چاہتے تھے
بابا پتا ہے میرا اس وقت شدت سے دل کر رہا تھا میں تمھارے گلے لگوں. پر نہ جانے کیوں نہ میں تمھارے گلے لگی نہ تم نے گلے لگایا. شاید ہم دونوں ڈر رہے تھے کہ یہ ہماری آخری ملاقات ثابت نہ ہوجائے

بابا تم کہا کرے تھے نا کہ کاش لفظ مت بولا کرو. پر میں آج بھی کہتی ہوں کاش کہ وقت الٹے قدموں چل پڑے اور میں آخری بار تم سے گلے مل لوں.

جانتے ہو وہ قیامت کے لمحات تھے جب میں تم سے مل کر واپس جا رہی تھی،
زندگی میں پہلی اور آخری بار میں اس قدر روئی تھی اس دن. نہ اس سے پہلے تم نے رونے دیا تھا نہ اسکے بعد اتنا روئی یہاں تک کے تمھارے چلے جانے پر بھی نہیں……

پتا ہے بابا جب تمھیں گھر لایا گیا تھا نا تو گھر کی ساری خواتیں تمھارے ارد گرد بیٹھی رو رہی تھی بین کر رہی تھیں، پر میں ان میں شامل نہیں تھی.
میں کچن میں دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے گم سم بیٹھی تھی، پتا ہے میں نہیں روئی تھی اس دن، ساری کزنز میرے قریب بیٹھ کر رو رہی تھیں اور میں خالی خالی نظروں سے انہیں دیکھتی رہی. میرے پاس کچھ نہیں بچا تھا شاید آنسو بھی نہیں
کتنا مشکل تھا تمھیں ایک لاش کی صورت میں دیکھنا، میں نے کمرے کے دروازے میں کھڑے ہو کر بس ایک ہی نظر دیکھا تمھیں اور پلٹ گئ.

میں اپنے ہیرو کو ایک لاش کی صورت میں نہیں دیکھ سکتی تھی. وہ لاش مجھے کسی اجنبی کی لگی تھی. میرا ہیرو تو مجھے کبھی ایسے چھوڑ کر نہیں جا سکتا تھا، اسے تو میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے خواب نگر تک لے جانا تھا اور میرا ہر خواب تعبیر کرنا تھا،

یاد ہے بابا جب میں سکول سے واپس آتی تھی تو آپ گیٹ پر کھڑے میرا انتظار کیا کرتے تھے، میرا بیگ مجھ سے لیتے اور سارے دن کا حال پوچھتے ہوئے مجھ سے ایک قدم آگےچلتے ہوئے سیڑھیاں چڑھتے میں تمھارے اٹھائے ہوئے ہر قدم کے نشان پر پیر رکھ کر چلتی جاتی اور سارے دن کا حال سناتی جاتی. بابا جب تم گئے نا تو میرے آگے قدموں کے نشان ہی باقی نہیں بچے تھے. میں تپتے صحرا میں کھڑی تمھارے قدموں کے نشان تلاشتی رہی پر تم نہیں تھے یار… میں اکیلی رہ گئ تھی

تمھارے بعد کوئی تم سا دیکھا ہی نہیں…

تم میرے ہیرو تھے یار! میرا پہلا پیار تھے! تم تو یوں چھوڑ کر نہ جاتے….

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں