ادھوری یاد کی اک کڑی

کتنی ہی بد قسمت ہیں یہ آنکھیں, جب بھی برسنا چاہیتی ہوں تم سامنے نہیں ہوتے, آج کتنی ہی مشکل سے تمھاری وہ ایک تصویر تلاشی میں نے,

آنکھوں میں بسنے والے سنو!

جب پلکوں پہ آنسو اٹکے ہوں تو سب دھندلا جاتا ہے, تمھاری وہ اکلوتی تصویر ہاتھوں میں اٹھائے اس پہ انگلیاں پھیرتی ہوں, جیسے کبھی قربت کے لمحات میں تمھارے چہرے کے ایک ایک نقش پہ پھیرا کرتی تھی, اسے ہونٹوں سے لگاتی ہوں, اور بند آنکھوں کے کونوں سے بہتے آنسوں سے تر کر دیتی ہوں, ٹھیک اسی جگہ جہاں تم بیٹھا کرتے تھے, میرے سامنے, اور میں گھنٹوں چپ تمھیں دیکھا کرتی تھی, آج بھی ایسا لگتا ہے تم یہیں بیٹھے ہو, اسی انداز سے بولتے, انہی رگنوں سے بھری آنکھوں سے دیکھتے, مسکراتے, مجھ پہ میٹھے طنز کستے, شرٹ کے بٹنوں سے الجھتے, کبھی کالر ٹھیک کرتے تو کبھی آستین اوپر کرتے, کتنے خوبصورت لمحات تھے سب, آج بھی ایسے ہی میرے سامنے رہتے ہیں, میں انہیں میں زندہ ہوں, میری سانسیں چلتی ہیں, میں خوش رہتی ہوں, مگر رات کے یہ جان لیوا لمحات, کبھی کبھی بڑا ظلم ڈھاتے ہیں-

کبھی سوچتی ہوں کے اگر مجھ سے یہ یادیں چھن گئیں تو کیا کرونگی, تڑپ اٹھتی ہوں اس سب پہ جو تم میرا ہاتھ تھام کر بڑے آرام سے سمجھایا کرتے تھے, مجھے نہیں سمجھنا, دم گھٹتا ہے دیکھو, تب تو کیسے کھینچ کے اپنے سینے میں چھپا لیتے تھے, میرے ایک ایک آنسو کو اپنے اندر جذب کرتے,ان لمحات میں وہی یادیں میرا سرمایہ ہیں, ایک پل کو جو فراموش کروں تو سانس ہی تھم جائے,

کتنا تلخ ہے جینا, مگر مجھے جینا اچھا لگتا ہے, کتنا درد دیتا ہے تم بن رہنا, مگر اس درد کی لذت سے دل نرم رہتا ہے, سانسوں میں اتار چڑھاو, خون کی گردش میں تلاطم, آنکھوں کی لالی, گھنٹوں تنہائی میں بھی تنہا نا رہنا, نیند سے لڑنا, اس امید کے ساتھ آنکھیں بند کیے رہنا کے جانے کب روح پرواز کرتے اس گلی سے بھی گزرے جہاں تمھاری خوشبو بستی ہے, اسکا اپنا ہی ایک روپ ہے مزا ہے-
جانتے ہو میں روز پہروں تم سے باتیں کرتی ہوں, کالا رنگ تم پہ جچتا ہے یا تم کالے رنگ کو نکھار دیتے ہو, ہاں شاید تم ہر رنگ کو اور خوبصورت کر دیتے ہو, پر کالے رنگ کی تو کیا ہی بات ہے, پر مجھے کبھی سجے دھجے اچھے نہیں لگتے, یہ ٹائی یہ کوٹ, ڈریس پینٹ, ہونہہ, کتنے بناوٹی سے لگتے ہیں, مجھے کوفت ہوتی ہے اتنی سجاوٹ سے, یا شاید تم الگ سے لگنے لگ جاتے ہو, مجھے تم اس الجھے حلیے میں زیادہ پیارے لگتے ہو جس میں پہلی نظر پڑی تھی, بکھرے بال, دو تین کھلے بٹن, آستین موڑ کے اوپر کیے ہوئے, اسی طرح جس طرح پہلی بار سامنے آئے تھے, بلکل اسی انداز میں بیٹھے, اسی انداز سے مسکراتے, کبھی کبھی تھوڑا اوپر مڑ کے دیکھ بھی لیتے,

گرمیوں میں ٹھنڈی چائے پیتے, تھوڑے عجیب سے , جب کہو تم فالتو کی چائے ضائع کرتے ہو, لاؤ گرم کر دوں, تو بڑے انہماک سے گھونٹ بھرتے اور کپ ختم کرنے پہ یہی کہتے ہو ہاں اماں بھی یہی کہتی ہیں-

تم سے ایک وعدہ کیا تھا, تمھاری ایک شرٹ چوری کرنے کا, جب بھی سوچا چوری کروں, تو سوچا تم اس میں کتنے سندر دکھتے ہو, میرے پاس رہے گی تو اپنا حسن کھو دے گی, ویسے بھی تو تم جاتے ہوئے اکثر کچھ نا کچھ بھول ہی جایا کرتے ہو, کبھی جوتے, کبھی کوٹ, کبھی جرابیں, اور بعد میں بھاگم بھاگ کے اب ٹی سی ایس بھی کرو, میں تو پہننے سے رہی, مگر ہاں تمھاری وہ جرابیں ابھی تک سنبھال کے رکھی ہیں, میں خود پہن لونگی سردیوں کی راتوں میں, یادوں کی جمع پونجی میں جرابیں ہی سہی,

آہاں رکو رکو! تمھارے لبوں کی لگی ہر بجی سگریٹ اور اسکی ایش بھی تو رکھی ہے, بڑی واہیات سی حرکت ہے, ہنسی آتی ہے خود پہ, مگر مجھ سے وہ پھینکی نہیں جاتیں, تمھاری لکھی نظمیں غزلیں, وہ ایک ایک حرف میری ڈائری کے پنوں پہ ہمیشہ کے لیے محفوظ ہیں, میں راتوں کے ان جان لیوا لمحات میں جب وہ تمھاری شدید غصے کی حالت میں لکھی نظم پڑھتی ہوں تو لرز جاتی ہوں, بڑی منزل ہے-
کتنا عرصہ ہو آپکی خیر آئے, دن گن گن کے رکھے ہیں, جب سامنے آو گے نا ایک ایک پل کا حساب برابر کرونگی, اپنا سارا حصہ, سارا حق, پر اس لمحے تو میں سب بھول ہی جاتی ہوں, بولتی ہی بند ہو جاتی ہے, کچھ سمجھ نہیں آتا, یہاں یہ عالم ہے کے آپ جناب کا نام کوئی لے تو میری عقل کام ہی کرنا بند کر دیتی ہے, کہاں کی چیز کہاں رکھ آتی ہوں, رنگت اڑی جاتی ہے, میں اچانک بد تہذیبی سے الگ اس دور میں پہنچ جاتی ہوں جہاں لڑکیاں چُنی منہ میں دبائے نظریں جھکائے شرماتی جاتی ہیں, اور مارے شرم کے بھاگ کے کسی کونے میں چھپ جاتی ہیں, واہ ری محبت کیا سے کیا بنا دیتی ہے, کہاں سے کہاں لے جاتی ہے-

شیئرکریں
mm
رابعہ خزین ایک منفرد لکھاری ہیں جن کی قلم اور الفاظ پر کمال کی گرفت ہے۔ ویسے تو محترمہ میڈیکل کے شعبے سے منسلک ہیں لیکن قابل ذکر بات ان کا منفرد "فلسفہ محبت" ہے جو اپنے ساتھ میٹھی تلخیوں کا امتزاج رکھتا ہے۔ رابعہ خزیں معاشرے میں روایتی سوچ کا زاویہ تبدیل کرنے کی مہم پر یقین رکھنے والی ایک باصلاحیت فرد ہیں۔

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں