بس مطمئن رہنا نہیں سیکھا

میرے تین قسم کے دوست ہیں۔ ایک وہ ہیں، جن کے پاس دولت بھی، شہرت بھی ہے، کاریں بھی ہیں، شراب بھی ہے، کلب بھی ہیں، کمروں میں اے سی بھی ہے لیکن اس کے باجود ان کے اندر ایک بے چینی ہے، ایک دوڑ ہے، ایک فکر ہے، جو ان کے ساتھ ہمیشہ لگی رہتی ہے۔

دوسرے ایسے دوست بھی ہیں، جو غریب ہیں، برینڈیڈ کپڑے نہیں ہیں، کاریں نہیں ہیں، آسائشیں نہیں ہیں، شراب ہے نہ کلب ہے، مفلسی کے مارے ہیں اور ان کی بے چینی اور فکریں بھی بہت زیادہ ہے، وہ بھی ہر وقت شکوے، لٹ گئے ، مر گئے، کچھ نہیں ملا اس زندگی سے کہتے رہتے ہیں۔

میرے دوستوں کی ایک تیسری قسم بھی ہے۔ ان میں امیر اور غریب دونوں قسم کے دوست شامل ہیں لیکن یہ دل سے مطمئن ہیں۔ ان کے چہروں پر موجود سکون اور طمانت دور سے دکھائی دیتے ہیں، میرے ایسے دوستوں کی تعداد بہت کم ہے لیکن یہ زندگی اور حالات سے مطمئن رہنا سیکھ چکے ہیں۔

چند برس پہلے ایک جرمن ٹیلی وژن پر ڈاکومینٹریز کی ایک سیریز شروع ہوئی تھی، جس میں تیس، چالیس برس پہلے بننے والی ڈاکومینٹریز دکھائی جاتی تھیں اور پھر اسی ملک سے متعلق موجودہ دور کی کوئی نئی ڈاکومیٹری شامل کی جاتی تھی تاکہ موازنہ کیا جا سکے کہ اتنے عرصے میں کیا کیا کچھ تبدیل ہو چکا ہے۔ اس میں ایک ڈاکومینٹری پاکستان کے بارے میں بھی تھی، جو شاید ساٹھ یا ستر کی دہائی میں بنائی گئی تھی۔ اس میں ایک سین ایک پاکستانی دیہاتی کا بھی تھا، جو بھینسیں چرا رہا تھا۔ صحافی اس بوڑھے دیہاتی سے پوچھتا ہے کہ آپ اپنی موجودہ زندگی سے مطمئن ہیں؟ وہ جواب دیتا ہے کہ بالکل مطمئن ہوں۔ پھر صحافی کہتا ہے کسی چیز کی کمی تو ہو گی؟ وہ جواب دیتا ہے کہ کسی چیز کی کمی نہیں ہے۔ صحافی کہتا ہے کہ آپ کے پاس پینے کا صاف پانی نہیں، ٹی وی نہیں، وی سی آر نہیں، کوئی سائیکل نہیں، آپ کے پاس بہت سی چیزیں نہیں ہے۔ وہ بوڑھا جواب دیتا ہے کہ نہیں، مجھے جو چاہیے وہ میرے پاس موجود ہے، میں مطمئن ہوں، میں خوش ہوں۔ اس کے بعد کیمرہ کچھ دیر کے لیے اس بوڑھے چرواہے کے مطمئن چہرے پر فوکس ہو جاتا ہے۔ وہ صحافی ڈاکومینٹری کے دوران ہی کہتا ہے کہ اس کے پاس کچھ بھی نہیں ہے لیکن یہ اپنی زندگی سے مطمئن ہے لیکن ایک صنعتی معاشرے میں فریجیں ہیں، موٹر گاڑیاں ہیں، آرام دہ کمرے ہیں لیکن لوگ مطمئن نہیں ہیں۔

آج کے اس صنعتی دور میں میرا یا پھر ہم میں سے زیادہ تر لوگوں کا یہی حال ہے، ہمارے پاس بہت کچھ ہے، سواری کے ایسے نظام ہیں، جو پہلے لوگوں کے پاس نہیں تھے، کھانے میں وہ ٹیسٹ ہیں، جو پہلے نہیں تھے، سونے کے لیے وہ آرام دہ بیڈ ہیں، جن کا پہلے کسی نے خواب تک نہ دیکھا تھا، بیٹھنے کے لیے نرم و گداز صوفے ہیں، ٹھنڈے مشروبات ہیں، بہترین گھڑیاں ہیں، رابطے کے لیے موبائل ہیں، ٹیلی وژن ہیں لیکن ہم مطمئن نہیں ہیں۔

اطمینان اور سکون ایک سیکھنے کی چیز ہے، اسے مادی اشیاء کے حصول سے حاصل نہیں کیا جا سکتا، ایک کامیاب کاروبار سے حاصل نہیں کیا جا سکتا، ایک کامیاب ملازمت سے حاصل نہیں کیا جا سکتا، یہ اسائشیں خریدنے، شہرت پانے اور دولت ملنے سے حاصل نہیں ہوتا۔ جس طرح انسان غصے کو کنٹرول کرنا سیکھتا ہے، میرے خیال سے بالکل اسی مطمئن رہنا بھی سیکھنا پڑتا ہے۔

میں خود اپنے آپ کو یہ بار بار سمجھاتا ہوں کہ مطمئن رہنا سیکھنا پڑتا ہے، مطمئن ہونا پڑتا ہے۔ کسی مشہور، خوشحال، دولت مند اور مہنگی کار میں جاتے شخص کو دیکھ کر انسان کا دل بھی بالکل ویسا ہی بننے کو کرتا ہے، جو فطری عمل ہے، میرا اپنا بھی یہی حال ہے لیکن یہ عادت تباہ کن ہے۔ کیوں ؟ کیوں کہ اس کے بعد یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے پاس کچھ کمی ہے یا میری صلاحتیں اس سے کم ہیں، یا میری ذات میں کوئی کمی ہے۔ اور اگر آپ کو وہ سب کچھ مل بھی جائے، جس کو دیکھ کر آپ خواہش کر رہے تھے، تو بھی انسان غیر مطمئن ہی رہے گا۔ مزید دولت مند ہونے، مزید مشہور ہونے، مزید مکان بنانے، گاڑی کا نئے سے نیا ماڈل خریدنے، مہنگے سے مہنگا لباس پہننے کی طلب جاری رہتی ہے۔ یہ ایک ایسا سمندر ہے، جس میں آپ جتنا پانی پیتے ہیں، اتنی ہی پیاس بڑھتی جاتی ہے۔ ہم تمام زندگی بھی خواہشوں کے پیچھے بھاگیں تو یہ ختم ہونے والی نہیں ہیں اور ہم مطمئن ہونے والے نہیں ہیں۔

مطلب یہ نہیں کی اچھی جاب یا اچھی ملازمت یا مزید خوشحالی کے لیے آپ کوششیں ترک کر دیں، کوشش کریں لیکن جو آپ کے پاس موجود ہے، اس سے لطف اندوز ہونا تو سیکھیں، اس سے مطمئن ہو کر زندگی انجوائے کرنا تو شروع کریں۔ میں نے ایک دن پراٹھے میں کچھ نقص نکالا، تو امی جی کہنے لگیں ، شکر کرو گندم کا پراٹھا کھا رہے ہو ورنہ پہلے تو گندم مہنگی ہوتی تھی اور ہم باجرے یا مکئی کی روٹی کھایا کرتے تھے، ہم ترسا کرتے تھے کہ کبھی مسلسل گندم کی روٹی بھی کھائیں گے۔ آپ جب ماضی کو ذہن میں رکھتے ہیں تو مطمئن ہونا یا رہنا زیادہ آسان ہو جاتا ہے۔

میں نے سرگودھا میں پڑھائی کے دوران ایک مرتبہ کوئی تین مہینے بعد ٹھنڈا دودھ پیا، اس کا شریں ذائقہ آج تک میری روح محسوس کرتی ہے اور اب میں جب بھی دودھ پینے لگتا ہوں مجھے وہ واقعہ یاد آ جاتا ہے، اب کوئی تھوڑا سا بھی دودھ ضائع کرے تو میں فورا کہتا ہوں کیوں ضائع کر رہے ہو؟ وجہ یہ کہ احساس بیٹھ چکا ہے کہ یہ ایک ایسی چیز ہے، جو میرے پاس کبھی نہیں تھی۔ گاؤں میں ایک وقت تھا کہ امی جی کی سب سے بڑی خواہش یہ تھی کہ گھر میں کسی طرح بجلی آ جائے تو وہ راتوں رات ہی سارے کام نمٹا کر سویا کریں، باجی کی ایک وقت خواہش یہ تھی کہ ہمارے مٹی کے صحن میں بھی سرخ اینٹیں لگ جائیں تو انہیں دھونے کا کتنا مزہ آئے، بھائی کبھی کہتا تھا کہ صحن میں فرش ہو جائے تو گرمیوں میں اس پر پانی پھنک کر پھسیلنے میں کیا ہی مزہ ہو؟

ہم سب ایسے ہی ماضی سے نکلے ہوئے ہیں، ہم نہ سہی ہمارے آباؤ اجداد کا ماضی ایسا ہوگا، جہاں آسائشیں بہت کم تھیں، سہولتیں نہ ہونے کے برابر تھیں، اچھے ڈاکٹر نہیں تھے، ادویات نہیں تھیں، پیزے نہیں تھے، برگر نہیں تھے، سواریاں نہیں تھیں، پانی گرم تھا، لائٹ نہیں تھی، استریاں نہیں تھیں، ٹی وی نہیں تھے، اسمارٹ فون نہیں تھے۔ آج ہم سب کے پاس وہ بہت سے چیزیں ہیں، جن کی ہم کبھی خواہش کرتے تھے، ہم سب کو بہت کچھ مل چکا ہے لیکن اس کے باوجود ہم مطمئن نہیں ہیں، ہمیں سکون نہیں ہے کیوں کہ ہم نے مطمئن ہونا سیکھا ہی نہیں ہے۔ ہم نے یہ سیکھا ہی نہیں ہے کہ جو کچھ تمہارے پاس نہیں ہے، اس کے بارے میں فکرمند نہ رہو بلکہ اس کے بارے میں خوش رہو، جو کچھ تمہارے پاس موجود ہے۔ میرے خیال سے مطمئن رہنا ایک فن ہے، جسے ہم سب کو سیکھنے کی ضرورت ہے۔

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں