بچپن کی مشہور نظم پر ایک “تجزیاتی محفل” کا حال سنیے

اب لیجیے ہماری طرف سے ہم سب کے بچپن کی مشہور نظم پر ایک “تجزیاتی محفل” کا حال سنیے. صوفی غلام مصطفیٰ تبسم کی نظم “پانچ چوہے ” امی جان بمع اداکاری کے سناتی جاتی ہیں. حاضرین محفل کا مسلہ یہ ہے کہ اردو کے الفاظ سے تو آشنا ہیں، مگر یہ الفاظ جن اشیا، افراد اور واقعات کی ترجمانی کرتے ہیں، ان سے ذرا نامانوس ہیں. لہٰذا رک رک کر الفاظ کے معنی و مفہوم کی وضاحت کرنی پڑتی ہے، یا تسلی کر لی جاتی ہے، کہ “ابلاغ” ہو چکا ہے؟ ایسے میں درمیاں میں تبصرے بھی آتے ہیں!
پانچ چوہے گھر سے نکلے ، کرنے چلے شکار
شکار .. ایڈونچر نا ؟

ارے نہیں بھائی  ہنٹنگ!
ایک چوہا پیچھے رہ گیا، باقی رہ گئے چار

چار چوہے جوش میں آکر …
“کس میں آکر؟ .. اوہو ایکساایٹڈ ہو گئے نا ! جیسے آپ لوگ ہوتے ہیں، کیمپنگ کو جاتے ہوے”

“بور ہوتے ہیں ہم تو! اتنی لمبی ڈرائیو ہوتی ہے !!”

“وہ مائیس تھے بھئی !”
چار چوہے جوش میں آکر ، لگے بجانے بین
“بین؟؟ فلیوٹ ” ” ابراہیم … “اچھا فلیووووٹ !! ” ہنینه .. ” ٹرمپٹ کہیے !”
ایک چوہے کو کھانسی آگئی .. باقی رہ گئے تین !
ابراہیم تین کیا ہوتا ہے؟ شو می وود یور فنگرز بیٹا ! یس تھری

تین چوہے ڈر کر بولے ، گھر کو بھاگ چلو !
“یہ چوہے انسانوں والے کام کیوں کرتے ہیں پاکستان میں؟” امی جان ابرو تان کر .. “جی ہاں  اور وہ آپ کے Geronimo Stilton تو اخبار بھی چلائیں ، جاسوسی بھی کریں تو کچھ نہیں! پاکستانی چوہے شکار کو بھی جائیں تو آپ کو مسلہ ہے!” ہنینه جھینپی سی ہنسی ہنس کر رہتی ہیں. مصعب کی آنکھوں میں شرارت ہے!

ایک چوہے نے بات نہ مانی، باقی رہ گئے دو !

دو چوہے جو باقی رہ گئے، دونوں ہی تھے نیک
“نیک؟ نائس guys، شریف مسلمان !!”
ایک چوہے کو کھا گئی بلی، باقی رہ گیا ایک
اب صاحبو! محفل میں وہ ہنگامۂ گرم ہوا کہ سنھبالنا مشکل ہو گیا! حاضرین غم وغصے میں بھرے ایک ساتھ ہی زور زور سے اظہار خیال کرنے لگے، آداب محفل پامال ہوے.
“دیکھا ! یہی کہا تھا بھائی جان نے . پاکستانی نظموں میں اداسی ہوتی ہے! ” “یعنی جو نیک مسلمان تھا، اسی کو بلی کھا گئی! حد ہے !! ” امی کھسیانی ہنسی ہنستی شرکاء کو قابو میں لانے کی کوشش کرتی رہیں.. پھر ایک بات سوجھ گئی .. “ارے بھئ ! نیک تھا نا. تو مر کر جنت میں چلا گیا. دنیا تو عارضی ٹھکانہ ہے. نیک لوگوں کے لیے اس سے اچھا کیا ہو کہ جنت میں جائیں”
ہنینہ آنکھیں پھیلا کر بولیں ؛ ” واٹ؟ جنت میں چوہے؟؟؟ دس از ناٹ رائٹ!! ”
امی : “ہاں! یہ بھی ہے! ساری حوریں چلا چلا کر شور مچائیں گی، جہاں چوہا نظر آیا!”
ھنینہ : “آف کورس! یہ ٹھیک نہیں ہوا بس ”
” اچھا اچھا ! آگے سنو بھئ ! تنگ نہ کرو ! مرنے سے گھبرانا نہیں چاہیے . اب کیا “ساری زندگی” زندہ رہیں گے؟ مرنا تو ہے ہی!

ایک چوہا جو باقی رہ گیا، اس نے کر لی شادی
“ابراہیم ! ڈو یو نو واٹس شادی؟ ”
“یس ماما ! شادی از “پارٹی!!”
حاضرین محفل کے قہقہوں سے چھت میں شگاف پڑنے کو تھا. ابراہیم حیران اور خفا کہ غلط کیا کہا؟ جب کہیں پارٹی میں جاتے ہیں تو امی کہتی ہیں، “شادی والے کپڑے پہن لو ، جو پاکستان سے ننو نے بھیجے ہیں!” ابو کہتے ہیں، ” اتنی رات تک کیوں جاگ رہے ہو؟ کل تمہاری شادی ہے کیا؟ ”

بیوی اس کو ملی لڑاکا یو ہو گئی بربادی !
“بیوی؟ میننگ وائف! لائیک ائم یور ابوز وائف ”
“مما ! اپ کو فضول باتیں کیوں کرنی ہوتی ہیں؟ ”
“اچھا اچھا!! ابراہیم واٹس بیوی ؟ ”
” بیوی میننگ فرینڈ !!”
“اب ٹھیک ہے ؟ ” “مچ بیٹر!!”
“لڑاکا؟ quarrelsome نا ” “آپ اتنے مشکل الفاظ بولتی ہیں!
“اچھا ہر وقت لڑنے والی ! جیسے تم لڑتی ہو بھائیوں سے ہر وقت!”
“تو یہ بربادی ہے کیا؟”

“تو اور کیا؟ اسی لئے کہتی ہوں لڑا نہ کرو”
“بربادی کیا؟ ” مصعب : ” “ruined” !!
حاضرین کی گہری سانسیں!!

تو صاحبو! ہم نے تو سوچا تھا کہ ہم یہ نظم ایک سانس میں پڑھ کر سنا لیں گے، اس لئے چار اور بھی تیار کر کے رکھیں کہ دیے گئے وقت میں سنائی جا سکیں. مگر کہاں! الفاظ تو محض بیساکھیاں ثابت ہوے ! جنہیں حوالوں اور معانی کے پورے وجود کے بغیر استعمال کروانے کی کوشش میں چودہ طبق روشن ہو سکتے ہیں!

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں