توجہ کی طالب مسحور کن خوشبو

گرما کی اس بھیگی بھیگی سی شام میں وہ سردیوں کی صبح جیسی لڑکی میرے ہمراہ تھی. وہ ویسی ہی تھی ، جیسی عموما لڑکیاں ہوتی ہیں.باتونی، مہربان اور متجسس. اس کا رنگ بھی اس کے بالوں کی طرح سنہرا تھا. اور اس کی باتیں اس کی شخصیت کی طرح معصوم تھیں. اس کی کنجی آنکھیں خود اس کی طرح اجنبی اجنبی سی تھیں. خالی خالی سی. میں اس سے پہلی مرتبہ مل رہی تھی، اس لیے پہلے تو میں چونک سی گئی جب وہ ہر تھوڑی دیر کے بعد اٹھ کر میرے بالکل قریب آجاتی، سر نیچے میرے کان کے قریب لا کر سرگوشی کے انداز میں کچھ بات کرتی، پھر مجھے اس کے باتونی اور اپنائیت بھرے انداز سے مزہ آنے لگا.
مجھے اس وقت بہت خوشی ہوتی ہے جب کوئی خود سے بھی زیادہ باتیں کرنے والا مل جاۓ. ایسے شخص کو آنکھیں پھیلا کر سنتے میں مزے سے سوچتی ہوں، ” واہ بھئ !مجھے سننا بھی آتا ہے.”

وہ بھی ایسی ہی باتونی لڑکی تھی، جو ایک بات شروع کرتی ، اس سے متعلقہ کوئی واقعہ سناتی اور پھر خود ہی چونک کر کہتی “لانگ سٹوری شارٹ…..” اور اس واقعے کو سمیٹ کر کوئی اور کتھا شروع کر دیتی.
ہنستے ، مسکراتے، انے جانے والوں کی دل جوئی کرتے میں نے اسے کئی مرتبہ ایک ہاتھ سے اپنی ٹانگیں دباتے دیکھا.اس نے مجھے کہا کہ اس کی ٹانگوں میں اتنا شدید درد رہتا ہے کہ رات کو سونا بھی مشکل ہو جاتا ہے. اس کی بینائی میں بھی مسلہ ہے، اور اس کے اعصابی خلیات کی ڈی جنریشن ہو رہی ہے. میں نے آنکھیں پھیلا کر پوچھا، پھر تم کام پر کیسے آجاتی ہو؟ اس نے اسی طرح کڑوی کافی کے گھونٹ بھرتے اور باتوں کی سی روانی میں بتایا کہ میں صبح پانچ بجے اٹھتی ہوں، تاکہ اپنی دوا کھا سکوں جس کی تاثیر تقریبا تین گھنٹے لے لیتی ہے. اس طرح میں اپنے وجود کو گھسیٹ کر لا پاتی ہوں. اسے کوئی ایسا سنڈروم تھا ، جس کی صحیح کیفیت اور علاج اس کے ڈاکٹر بھی نہیں بتا سکے.
اس نے سیاہ کافی کے کڑوے گھونٹ لیتے مجھ سے کہا، ” ان لمبے دنوں میں میری بیماری اور یہ دوائیں ، عجیب جادو دکھاتی ہیں. میں وہیں، اپنے گھر میں پراگندہ حال پھرتی رہتی ہوں، نہ کوئی باتیں کرنے کو ملتا ہے، اور نہ کہیں جانے اور کپڑے بدلنے کو دل چاہتا ہے. کتنے ہی دن یونہی گذر جاتے ہیں. کبھی کبھی میں یونہی کاوچ پرپڑکر سو جاتی ہوں، اور شام کے جھٹپٹے سے مجھے گمان ہوتا ہے کہ شاید صبح صادق کا وقت ہے. کتنی ہی دیر میں بولائی بولائی سارے گھر میں چکر لگاتی ہوں کہ صبح ہو گئی، مجھے کام کے لئے نکلنا ہے، مجھے دیر ہو گئی، میں نے دوا بھی نہیں کھائی! پھر مجھے لگتا ہے کہ ابھی شاید رات ہی ہے. میں باقایدہ ٹی وی لگا کر یقین کرتی ہوں کہ یہ صبح ہے یا ابھی شام ہو رہی ہے”.
میں نے اس کے دودھیا بازو پر سرخ نشانات کے بارے استفسار کیا . وہ بڑے پیارسے انہیں سہلا کر بولی، “میری بلی کے پنجوں اور دانتوں کے نشانات ہیں!” میں کھلکھلائی ، ” So love bites؟” وہ ایک نشاط کی کیفیت میں بولی . ” آج سے تقریبا بارہ برس قبل، میری بلی کو آپریشن کی ضرورت تھی. میں اسے ایک ایسے vet کے پاس لے جانا چاہتی تھی جو صرف بلیوں کو دیکھتا ہو. ایسی جگہ نہ ہو جہاں کتے بھی اتے ہوں، چھپکلیاں بھی اور خرگوش بھی. بلیاں مختلف ہوتی ہیں ، نازک سی ! پھر مجھے ایسی جگہ مل گئی، مگر انہوں نہ سرجری کے ٣ ہزار ڈالر بتاے. میری اس وقت کی نوکری سے اتنی رقم بچانا ممکن نہیں تھا، اس لئے میں نے اس کے لئے یہ نئی نوکری شروع کر دی. میری بلی ٹھیک ہو گئی لیکن میں آج بھی انہی کے ساتھ ہوں. ”
اس کے پاس کہنے کو اتنے قصے تھے کہ شام کب لوٹ گئی اور رات نے اپنی گھنیری پلکیں کب پھیلا دیں؟ مجھے پتہ ہی نہیں چلا.
میں نے اسے آرام کرسی پیش کی، کیوں کہ مجھے لگا کہ اس اونچے سخت کھردرے سٹول پر وہ بہت بے آرام ہو گی. وہ مسکرا کر شکریہ کہتے اپنے باپ کی باتیں کرنے لگی اور اس کی آنکھوں میں چمکتے تاروں سے میرے ارد گرد روشنی سی ہونے لگی. ” میرے والد لاج میں منتقل ہو گئے ہیں. انہوں نے ان کا پیر کاٹ دیا. حالانکہ ہمیں کہتے تھے کہ انہیں ذیابیطس نہیں ہے، پھر کہتے ہیں، زخم اتنا انفیکٹڈ ہے کہ صفائی کافی نہیں. پھر انہوں نے ان کا پیر کاٹ دیا . میرے لئے اپنے قصبے جانا بہت مشکل ہوتا ہے کیونکہ مجھے پتہ ہوتا ہے کہ میرا لوٹنا اس سے بھی مشکل ہو گا. ڈیڈ کے ہزار کام، ان سے باتیں، میری بھتیجیوں کو میرے ساتھ کھیلنا ہو گا، میرے نخرے اٹھانے ہو گے. اور میرا بھائی!
تم کو پتہ ہے! میرا بھائی ایک بار زندگی سے دور چلا گیا تھا! ہم نے پورے بیس منٹ کے لئے اسے کھو دیا تھا. مگر بیس منٹ کے بعد اس کی دھڑکن لوٹ آئی! لوگ کہتے ہیں کہ جا کر انے والے کو ایک روشنی سی نظر اتی ہے. میں نے بھی پوچھا ، تم نے روشنی دیکھی تھی؟ اس نے بتایا کہ تیز روشنی میں ایک پہاڑی پر ایک عورت دو ننھے کتے گود میں اٹھاے کھڑی تھی، اور مجھ سے کہہ رہی تھی” ابھی تمہارا وقت نہیں آیا، تم لوٹ جاو!”
اس نے اپنی کرسی کی پشت سے ٹیک لگائی اور بڑے مان سے آنکھیں پھیلا کر بولی، “میری ماں ہی کے پاس دو ننھے پوڈل تھے. اور میرا بھائی ، ماما کا بیٹا تھا. جب تک دن میں پانچ مرتبہ اس سے بات نہ کر لے، تو سمجھو! اس کے ساتھ خیریت نہیں ہے!”
شہر زاد قصہ کہتی رہی، اور الارم کے مرغ نے بانگ دے دی. ہم اب مزید وہاں نہ ٹھہر سکتے تھے، اس لئے باہر تاریکی میں اپنی گاڑیوں کی طرف بڑھ گئے، اس کی درخواست پر میں اس کے ساتھ کچھ دیر اور رک گئی. اس نے لجا کر کہا، تم چاہو تو اپنی گاڑی میں بیٹھ جاؤ، میں بس چند منٹوں میں یہ سگرٹ ختم کر لیتی ہوں. ” مگر میں اس کی داستان کے کچھ اور حصے جوڑنا چاہتی تھی، اس سے دور کیوں جاتی؟
مگر اس کی لرزتی انگلیوں میں اس دشمن جان کو دبا دیکھ کر میرے دل میں ایک لہر سی اٹھی، اور میرا دل چاہا کہ میں اس سے پوچھوں کہ تمہارے یاقوتی لبوں کو اس دھویں اور انگارے کے بھوت کی دوستی کیوں بھا گئی؟ مگر میں خاموشی سے دونوں گاڑیوں کے بیچ ٹہلتی رہی. میں نے اسے دو مرتبہ ڈول کر سنبھلتے دیکھا. اور مجھے فکر ہونے لگی کہ وہ گاڑی چلا کر خیریت سے گھر پہنچنے کے قابل بھی ہے یا نہیں.
مگر یہ بات بھی بہت سی اور ان کہی باتوں کے ساتھ دل کی کسک ہی بن گئی.
یہ اس کی دلچسپ کہانیوں کا اثر تھا، سیاہ رات کا جادو تھا، یا میرا اپنا سایکوسس تماشے دکھا رہا تھا. مجھے ایسا لگا، کہ دونوں گاڑیوں کے عین درمیان ، اس لیمپ پوسٹ کے نیچے مجھے ایک انتہائی مسحور کن مہک سی آرہی ہے. میں نے کئی بار گہری سانسیں لیں. مہک بہت گہری تھی. کسی بہت اچھے پرفیوم کی مہک کی طرح.. میں نے گھبرا کر ادھر ادھر دیکھا. چپکے سے چند قدم چل کرادھر ادھر ہوئی، تو وہ خوشبو غائب ہو گئی. میں چپکے سے پھر اسی مقام پر آ کھڑی ہوئی اور خوشبو بالکل صاف محسوس ہونے لگی. میں نے کئی بار چیک کیا. یہی معاملہ تھا، خوشبو اسی ایک مخصوص جگہ کھڑے ہونے سے آتی تھی. دور تک پھیلے پارکنگ لاٹ میں ہم دونوں اور ہماری گاڑیوں کے سوا کوہ نہ تھا. رات بھیگ رہی تھی اور وہ پراسرار خوشبو میرے حواسوں پر چھا رہی تھی. میں چپکے سے اس کے قریب گئی، پھر اس سے دور ہٹ گئی، مگر کچھ نہ سوجھا. وہ اس کے وجود سے نہیں آرہی تھی. بالا خر میں نے اس سے تذکرہ کیا، اس نے بھی گہرے گہرے سانس لیے مگر اسے تو کچھ بھی محسوس نہ ہوا. ، میں حیران تھی اور وہ چند لمحے میری آنکھوں میں دیکھ کر مسکراتے ہوے بولی، ” Somebody wants your attention!!”
وہ گاڑی میں بیٹھ گئی اور میں دور تک جھلملاتی روشنیوں کے بیچ میں جاتے سوچتی رہی کہ وہ اسی محبت، درد اور تنہائی سے گندھے وجود کا ہالہ تھا جوایک نامانوس بھینی بھینی خوشبو کے روپ میں میرے دل میں ایک نا بھولنے والی یاد بن کر سرائیت کر رہا تھا. اس 59 سالہ شہرزاد کے قصوں میں بہت سی ان کہی باتیں تھیں جو میرے دل میں کسک کی طرح رہ گئی ہیں. اور میں ایک اور ادھوری کتاب انسانی کے ان دیکھے حصوں کے تجسس میں گھری پورے تیقن سے سوچ رہی ہوں کہ وہ اسی ذات کی مسحور کن خوشبو تھی جو میری توجہ کی طالب تھی.

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں