جادوئی موسم

آج بھی ..
میں خزاں کے عشق میں مبتلا ہوں
ہاں میں بھی جو سب کی طرح گرما کی منتظر تھی.
سرسبز ، لہلہاتی گرما میں سبز پتوں سے لدے درختوں کے جھنڈ میں جنگلی پھولوں کی خوشبویں چکراتی تھیں.
پہاڑی راستوں کے اطراف میں لڑکیوں کی طرح نازک ڈیزیز اور نرگس اور سنبل کے تختے بہاریں دکھاتے تھے….. سرخ، گلابی، اور زرد جنگلی گلاب ہر سو کھلے تھے. چمکیلی دھوپ چہار سو پھیلتی تھی….
میں ، جو گرما کے اپنی رونقیں اور ہلچل سمیٹ کر رخصت ہو جانے پراداس دل اور بوجھل قدموں سےگھر کو لوٹ رہی تھی_
چرمراتے پتوں سے ڈھکے راستے پر پھیلی زرد و سرخ روشنی سے مبہوت ہو گئی ہوں.
میں نے سمجھا تھا، کہ میں اسے نظر انداز کر سکوں گی… مگر یہ منظر میرے پیر پکڑ لیتا ہے…
زرد، نارنجی اور سرخ لبادے اوڑھے مغرور درخت ، جو ایک عجب بے نیازی سے ہوا کے ہلکے سے جھونکے پر، بڑی فیاضی سے اپنے پتے دور تک بکھیر دیتے ہیں . کیا کوئی ان کے پاس سے یونہی گزر سکتا ہے؟
اتنے بہت سے رنگ.. ایسی پراسرار روشنی!!
یہ اپنی مغرور خاموش نگاہوں سے تمہیں دیکھتے ہیں، اور ایک الوہی تبسم بکھیر دیتے ہیں.
اور تم گرما کی مصروفیتوں کے قصے سنتے سناتے چونک کر باہر دیکھنے لگتے ہو….
تم جانو!!!
حسین و جمیل ، چہکتی ، اٹھلاتی گرما کے بعد پر اسرار اور مغرور پت جھڑ کا ہونا ایسا ہے_
جیسے کسی زبردست ناول کا المیہ مگر شاندار اختتام…
ایک باوقار موت، جس پر رشک آے.
جیسے ایک حسین ملکہ ، اپنی موت سے پہلے اپنا بہترین لباس زیب تن کر کے، اپنے شاندار تخت پر نیم دراز، بڑی تمکنت اپنی سے موت کا انتظار کرے. اور خاموشی سے آنکھیں موند لے.

اف ، پت جھڑ کتنی حسین، کتنی پر اسرار اور کتنی مغرور ہے

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں