جانے والے کبھی واپس نہیں آتے

ہم اکثر چاند راتوں کو چھت پہ بیٹھا کرتے تھے ۔ ان کو چاند سے عجیب محبت تھی پوری پوری رات چاند تکتی اور کبھی نہیں تھکتی تھیں ۔ میں بھی ان کے دائیں کاندھے پر سر رکھ کر ناجانے کیا سوچتا رہتا تھا. اکثر خاموش رہتا تھا کبھی مستی بھی کرتا لیکن وہ ہمیشہ ہی چاند کے دیدار میں کھوئی رہتی تھیں. کبھی کبھی جب میں اپنی حرکتوں سے تھک جاتا تو ان سے پوچھ ہی لیتا تھا کہ آپ کیوں پوری پوری رات چاند کو دیکھتی رہتی ہیں ؟ وہ جوابا کہتی تھیں آپ بھی تو دن رات مجھے ہی دیکھتے رہتے ہو ۔ کیوں ؟ میں کہتا “اس لئے کہ آپ ہی تو میرا چاند ہیں  ۔” میرا یہ جواب انہیں کتنا خوش کر دیا کرتا تھا . ہم دونوں زور دار قہقہہ لگاتے تھے ۔ میں انہیں کہتا رہتا تھا کہ دور کی محبت اچھی نہیں، چاند بہت دور ہے اس کی ایک الگ دنیا ہے ایک الگ مقام ، ایک الگ مکان ہے ۔ ہم انسان مٹی سے بناۓ گۓ ہیں اور وہ چاند , وہ روشنی ہے. خوبصورتی کی علامت, اندھیرے میں چلنے والوں کا مددگار ۔ وہ کہتی تھیں “آپ کو بھی تو مجھ سے محبت ہے ۔آپ کو وہ چاند کے پاس تارہ نظر آرہا ہے وہ اس کے کتنا قریب لگتا ہے لیکن وہ کوسوں دور ہے ۔ایسی طرح آپ بھی میرے قریب تو ہو لیکن کوسوں دوری پر بھی ہو مقام اور مکان میں ۔

” چاند کو تکتے ہوئے کہتی گئیں کہ “میری بات سنو آپ کیوں میرے جانے سے میرے دور ہونے سے اتنے پریشان ہوتے ہو ؟ یہ چاند اور زمین بھی پہلے آپس میں بہت قریب تھے ساتھ ساتھ رہا کرتے تھے لیکن پھر دور ہوگئے ۔ دور ہونے کے باوجود بھی ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں ۔ محبت کے رشتوں میں پاس یا دور ہونے سے اتنا فرق نہیں پڑتا رشتوں کو زندہ رکھنے کے لئے احساس ہونا چاہیے پھر چاہے دور ہوں یا قریب۔دوری احساس کی شدت کو کم کرنے کا سبب نہیں ہو سکتی. جب بھی سورج کی گرمی زمین کو تنگ کرتی ہے تو چاند ٹھنڈک لے آتا ہے ۔

اسی طرح مائیں بھی چاہے دور ہوں یا قریب بچوں کے ساتھ ہیں ۔ پتہ ہے؟ کچھ لوگ ہمارے زندگی میں سائے کی طرح ہمارے ساتھ ساتھ چلتے ہیں ان کو ہماری خوشی غمی کا احساس ہوتا ہے بس وہ کچھ بولتے نہیں خاموش ہوتے ہیں ان  کی دعائیں ہمارے ساتھ ہوتی ہیں ان کی محبت دھوپ میں چھاؤں اور اندھیروں میں راستہ دکھاتی ہے ۔اور جب ان کو لگتا ہے کہ اب ہم کوئی غلطی کرنے والے ہیں تو وہ ہمیں خاموش مشورے دیتے ہیں ۔ ” ماں کے احساسات و احسانات زندگی بھر ہمارے ساتھ ہوتے ہیں ۔ ماں کی محبت لازوال ہے ۔ اللہ نے جب انسانوں کو محبت کا حوالہ دیا تو فرمایا کہ میں ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرتا ہوں. ماں کی محبت محبتوں کی بنیاد ہے اور بنیاد کے بغیر کوئی بھی عمارت کھڑی نہیں ہو سکتی ۔ ماں محبتوں کا معیار ہے. ماں محبت کا عروج ہے. ماں جنت کا دوسرا نام ہے ۔ ماں محبت ،وفا ایثار، پاکیزگی راحت و امان کا نام ہے ۔ اللہ کے بعد اگر کسی کو ہمارے ٹھیک ہونے کا یقین ہے تو وہ ماں ہے. ماں کو اپنے بچوں میں کوئی خرابی نظر نہیں آتی ۔ ماں ایک وعدہ ہے جو کبھی نہیں ٹوٹتا , ماں کی محبت ہمیشہ کے لیے ہے پھر چاہے دور ہو یا قریب ۔ اس لئے میں دور بھی ہوئی تو ذرہ سوچنا مجھے اپنے پاس ہی پاؤ گے چاند کی طرح آپ کی زندگی کو روشن کرتی رہوں گی.” “لوگ جنت کے لیے اتنی محنت کرتے ہیں وہ میرے پاؤں تلے ہے”

پھر کھلے آسمان کی طرف اشارہ کر کے کہتیں “میں بھی ادھر دیکھ چاند کے قریب والے محلے سے ہوں ۔ چاند سے میرا قریب کا رشتہ ہے ۔ میں ادھر ہی جارہی ہوں .واپس کبھی نہیں آؤں گی اور آؤں گی تو قیامت کو ۔اس لیے آپ ہی میرے پاس آنا. جب بھی آپکا دل کرے ۔” میں اپنے پاؤں ان کے گود میں رکھ کر دونوں ہاتھوں سے ان کے گردن کو پکڑ کر ماتھے کو چومتے ہوئے کہے جاتا “چاند بھی تو قیامت تک زمین کے گرد گھومتا پھرتا رہے گا. میری چاند تو آپ ہو. آپ مجھے چھوڑکر کیوں چلی جائیں گی؟ آپ کہیں نہیں جاؤ گی .لیکن وہ میری سنتی کب تھیں. وہ تو چاند کو ۔۔۔۔۔۔۔

اب بھی اکثر چاند راتوں کو جاگ کر گزارتا ہوں چاند کے پاس والے محلے کو ڈھونڈتا پھرتا ہوں کہ کہیں نظر آئے ،اور سوچتا ہوں کہ مذاق مذاق میں بہت سچ بول دیا کرتی تھیں ۔ محبت دور کی ہو یا قریب کی آخر محبت ہی تو ہے ۔ محبت چاند کا استعارہ ہے. زندگی کے اندھیروں میں راستہ دکھاتی ہے ۔ ہاں جانے والے کبھی واپس نہیں آتے یا ہم انکے پاس جائیں گے یا قیامت تک کا انتظار.

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں