جمودی تغیر

میرے بند کمرے میں ایک دروازہ ہے۔ دروازہ جسے میں کمرے سے باہر نکلنے کیلئے استعمال کرتی ہوں۔کبھی تنہائی چاہتی ہوں تو ہینڈل پر لگا بٹن دبا کر اسے لاک کر دیتی ہوں۔چور ڈاکووں سے لے کرخواہ مخواہ وقت ضائع کرنے والے دوستوں تک، بہنوں کے شرارتی بچوں سے لے کر بے پرواہ پینٹ کرنے والے مزدوروں تک سب یہی دروازہ استعمال کرتے ہیں۔دروازہ جو میرے اور باقی ساری دنیا کے بیچ ایک ہے۔ہم کچھ دیر کیلئے جیسے وہ سارا کھیل روک دیتے ہیں۔۔۔۔۔۔

محبت ،نفرت،عزت،شہرت کا کھیل اور بس دبک جاتے ہیں اپنے اپنے کونے میں۔ہماری انائیں باکسنگ کے ٹرینر کی طرح ہماری دیکھ بھال کرتی ہیں اور ہمیں پھر سے ایک دوسرے کا سامنا کرنے کی ہمت دیتی ہیں۔پھر سے گھنٹی بجتی ہے اور پھر سے لڑکھڑاتے قدموں اور مضمحل جسموں کے ساتھ ہم دوسروں کے مقابل کھڑے ہو جاتے ہیں۔

کچھ ایسے ہے جیسے میں اور زمانہ کسی قدیم رومن اکھاڑے میں کھڑے دو گلیڈیٹر ہیں۔ہم جو جانتے ہیں کہ اس اکھاڑے سے دونوں کا زندہ سلامت جانا ناممکن ہے۔ہم جو اپنے مدِمقابل سے نفرت نہیں کرتے مگر ہماری محبت۔۔۔۔۔۔اپنی ذات سے محبت ہمیں اسکے مقابل کھڑا رکھتی ہے۔ تو ہم دونوں ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہیں۔اور زمانہ تو وہ ہے جو برسوں سے اس اکھاڑے میں کھڑا ہے۔لوگ آتے ہیں۔شمشیر زنی کرتے ہیں اور وہ جسے اپنی فتح کی امید نہیں یقین ہوتا ہے بڑی بے نیازی سے تلوار گھماتا ہے۔لاکھوں برس کی اس لڑائی نے اسے بتا دیا ہے کہ وہ ناقابل شکست ہے۔اسے ہرایا نہیں جا سکتا مگر پھر بھی وہ اکھاڑے میں کھڑا رہنے پر مجبور ہے۔کمزور ، سہمے ہوئے، بیوقوفی کی حد تک پرجوش لوگوں کے خون سے ہولی کھیلتا ہے۔یہی اسکی مشکل ہے۔وہ جیت کر بھی ہار جاتا ہے اور ہم ہار کر بھی اس اکھاڑے سے رہائی پا جاتے ہیں۔

یہ دروازہ لاکھ دلچسپ سہی، یہ حقیقت لاکھ حیران کن سہی کہ کیسے اس سے باہر نکالا گیا ایک قدم مجھے ایک مختلف انسان بنا دیتا ہے مگر آج مجھے کچھ اور بات کرنی ہے۔مجھے آپ کو ایک راز میں شریک کرنا ہے۔۔۔۔

میرے کمرے میں ایک اور دروازہ بھی ہے۔دروازہ جو صرف بند کمرے میں ظاہر ہوتا ہے۔دروازہ جو کہیں ٹھہرا ہوا نہیں ہے بلکہ کسی پتنگے کی طرح کمرے کی دیواروں اور چھت پر متحرک رہتا ہے۔ یہ عجیب دروازہ ہے۔۔۔۔۔ جیسے کوئی نوخیز رقاصہ بہت سی اکتا دینے والی مشقتوں کے بعد اچانک یہ محسوس کرنے لگی ہو کہ گویا وہ ہوا میں تیر سکتی ہو ، تیزی سے گھومتے ہوئے کمر کو ناقابلِ یقین انداز سے موڑنے پر قادر ہو۔جیسے زمین اب اسکے پیروں کو روک نہیں پاتی ہو اور کششِ ثقل کی زنجیروں کو توڑ کر وہ ایک سرشاری کے عالم میں اٹھلاتی پھرتی ہو۔

یہ دروازہ بھی بالکل ویسے ہی کمرے کی دیواروں پہ لہراتا ہے،سرسراتا ہے،خم کھاتے ہوئے پیچھے کو ہٹ جاتا ہے،بے مشقت تیرتا ہے،خود سے ٹکرا کر بیسیوں دروازوں میں تقسیم ہو جاتا ہے اور پھر نجانے کس لے پر پھر سے ایک دروازے میں ڈھل جاتا ہے۔

یہ محتاط ہے،یہ مشاق ہے اور تحیر تب اپنی انتہا پر پہنچ جاتا ہے جب یہ کمرے کی ایک دیوار سے دوسری دیوار تک چھلانگ لگاتا ہے اور کبھی کبھی تو ایسی بے احتیاطی سے جیسے رستے میں آنے والی ہر چیز کو اپنے بیچ سمو لے گا۔ مجھے اب اس دروازے کے ساتھ رہتے اتنی دیر ہو گئی ہے کہ میں اب اسے جاننے لگی ہوں ۔اسکی شرارتوں کو پہچاننے لگی ہوں۔جیسے کہ جانتی ہوں کہ وہ لاکھ میرے قریب سے گذر جائے مگر وہ کبھی مجھے اپنی دوسری سمت نہیں لے جائے گا۔ایسا نہیں ہے کہ وہ ایسا کر نہیں سکتا۔۔ بھلا دروازوں کا اور مقصد کیا ہوتا ہے؟۔۔ پر وہ ایسا کرے گا نہیں۔اسے یہی کرنا ہوتا تو وہ دروازے کا روپ ہی کیوں دھارتا؟بس دیوار میں ایک رستہ بنتا اور کمرے میں موجود ساری حقیقت اس سمت میں کھچی چلی جاتی۔

پر دروازہ ایک مختلف چیز ہے۔یہ آپ کو انتخاب کی آزادی دیتا ہے۔ انتخاب کا عذاب اور آپ۔۔۔۔۔۔۔آپ جو بس آنکھیں بند کئے زندگی کے ساتھ بہنا چاہتے ہو اس دروازے کے سامنے ایسا نہیں کر پاتے۔ میں بھی بہت بار اپنی جگہ سے اٹھی ،بڑے پر اعتماد قدموں سے وہاں تک پہنچی بھی،ہاتھ ہینڈل پر رکھا بھی پر اسے کھولنا۔۔۔۔۔۔نہیں میں یہ نہیں کر پائی۔

ہم عجیب لوگ ہیں۔آپ ہمیں اٹھا کر نارتھ پول پر پھینک دوتو ہم وہیں اگلو بنا کر رہنے لگیں گے۔لیکن ہمیں دروازہ کھول کر باہر جھانکنے کی آزادی دو تو لاہور کی سردی سے بھی ڈر لگے گا۔

ہم سب دریا کی مچھلیاں ہیں جو بس بہنا چاہتی ہیں۔ہمیں چوائسز نہیں چاہیں۔ہمیں خدارا سوچنے پر مجبور نہ کرو کہ ہماری سوچ پاتال سے گہری ہے اور ایسی پاتال گہرائیوں سے واپسی ہر ایک کا نصیب نہیں ہوتی۔ دروازہ کھولنے کی منطق ڈھونڈنا کارِ لاحاصل ہے۔ وجہ کہیں نہیں ہے۔یہ دنیا آپ کو لاکھ منظم نظرآئے مگر منطقی ہرگز نہیں ہے۔اگر آپ کائنات کا کوئی گوشہ ڈھونڈ نہیں پاتے جہان سائنسی قوانین اپنی پوری قوت  سے کار فرما نہ ہوں تو قصور آپ کا ہے۔آپ کے پیمانے چھوٹے اور غیر منطقی ہیں۔آپ مان لیتے ہو کہ روشنی کی رفتار کائنات میں ہر جگہ یکساں ہے لیکن ایسا کیوں ہے؟اس سوال کا جواب کوئی نہیں دیتا کیونکہ اسے سائنس کی حدود سے ہی باہر پھینک دیا گیا ہے۔ تو دنیا کی کوئی منطق نہیں ہے کیونکہ منطق تو حقیقی چیزوں کی ہوتی ہے اور دنیا تو محض ایک دھوکا ہے،مایا ہے
And what is the life of this world, but Goods and chattels of deception? (Hadid: 20)
یہاں فریب دنیا کو کہا گیا ہے ہمیں نہیں۔کہا گیا ہے کہ یہ دنیا کی رنگینیاں،دنیا کی آسائیشات،دنیا کی محبتیں،دنیا کی نفرتیں کہیں تم کو فریب میں مبتلا نہ کر دیں۔ کہ یہ سب تو مٹ جانے والی چیزیں ہیں۔رہے گا تو بس خدا کا چہرہ۔
Everything(that exists) will perish except hisOwn face(Qasas : 88)
یہاں یاد رہے کہ پروردگار نے اس خاک کے پتلے میں اپنی روح پھونکی تھی۔تو یہاں تم اپنے علاوہ کوئی منطقی چیز نہیں ڈھونڈ پاﺅ گے۔ تمہیں لوگ محبت کرتے ملیں گے۔ لوگ جو محبت کا مطلب تلک نہیں سمجھتے۔ تم لوگوں کو ایسے اصولوں کیلئے جانیں قربان کرتے دیکھو گے جن کی حقانیت کو خود انکا دل تسلیم نہیں کرتا۔ تمہارے سامنے ان دہانوں سے قہقہے پھوٹیں گے جن کی کوکھ میں پہاڑ سے غم سسکتے ہوں گے۔ تو جان لو کہ تم اس سب کو کبھی سمجھ نہیں پاﺅ گے۔یہاں تم دنیا کا جتنا علم حاصل کرو گے اتنا ہی بھٹکتے جاﺅ گے۔

دروازہ کھولنے کی منطق اگر کوئی ہے تو وہ تمہارے اندرسے اٹھے گی۔تمہارے اندر ایک ایسی روشنی ہے جو اپنی سچائی کا ثبوت اپنے ساتھ لے کر اٹھتی ہے۔تم اپنے کمرے کا دروازہ کھولتے ہو تاکہ کھانا کھا سکو۔۔۔۔۔۔بھوک تمہارے نزدیک ایک سطحی اور سفلی جذبہ ہے۔ایک ایسی عامیت جس سے اوپر اٹھے بنا تم گویا انسانیت کا مرتبہ ہی نہیں سمجھ سکتے۔اسی لئے پادریوں اور رشی منیوں نے اپنی عمریں اس پتھر کو ہٹانے میں صرف کر دیں۔پر بھوک اگر ایسی ہی بے حقیقت شئے تھی تو بھلا کیوں تمہارے ایسے حق پرست کی زندگی کے کئی سال کھا گئی۔سانس بھی ایسی ہی ایک سطحی ضرورت ہے اس سے بھی گذر جاﺅ تو مانیں۔
سچ صرف اتنا ہے کہ خود شناسی کے بغیر خدا شناسی بیکار ہے۔اگر تم ایک کمزور انسا ن ہو جسکے گرد متعین عمر اور متعین صلاحیتوں کے ساتھ ایک دائرہ کھینچ دیا گیا ہے تو پہلے اس حقیقت کو تسلیم کر لو۔مان لو کہ عظیم ہونے کیلئے بے نیاز ہوناضروری نہیں۔بڑے بڑے نبی پیغمبر کھانا بھی کھاتے تھے اور آرام بھی کرتے تھے۔ تو بھلا ہم اس سے کیسے بچ سکتے ہیں۔ اور بے نیاز تو محض خدا کی ذات ہے۔
تم دروازہ کھولتے ہو کہ کام پر جا سکو۔اپنی محبتوں کو پا سکو،کسی کھیل کو کھیل سکو۔یہ ساری منطق تمہارے اندر سے جنم لیتی ہے اور تم دنیا میں بکھرے دروازے کھولتے چلے جاتے ہو۔۔۔۔۔۔مگر وہ دوسرا دروازہ۔۔۔۔۔۔۔ مجھے آج اسکے بارے میں بات کرنا ہے جو میرے کمرے کی ،میرے دفتر کی ،میری لائبریری کی،میرے اردگرد اٹھی ہر دیوار کی قسمت میں لکھ دیا گیا ہے۔مجھے لگتا ہے کہ اسے کھولنا بالکل بھی مشکل نہیں ہو گا بس میں ہاتھ بڑھاﺅں گی اور اسکے دوسری طرف پہنچ جاﺅں گی۔
اس دوسری طرف بہت کچھ ہے۔جب آپ دیکھنا چاہو تو یہ دروازہ شیشے کا بن جاتا ہے۔بالکل شفاف شیشے کا۔اتنا کہ میں اسکے دوسری طرف سب کچھ دیکھ سکتی ہوں۔۔ اور میں نے دیکھے ہیں وہ خوبصورت باغ جن میں اناروں کے درخت تھے اور خوش رنگ پرندے اڑتے پھرتے تھے۔میں نے انجان لوگوں کو نہ سمجھ میں آنے والی آوازوں میں گفتگو کرتے دیکھا،میں نے لمبے لمبے جبوں میں ملبوس پادری دیکھے،خوبصورت بھاگتے ہوئے بچے دیکھے،ویران درختوں سے چمٹے ہوئے بھوت دیکھے،اپنی دم کی سمت رینگتا ہوا وقت دیکھا،اندھیری شام میں ایسے ستارے دیکھے جن کی ٹھنڈی روشنی روح میں گھلنے لگتی تھی۔۔ یہ دروازہ اپنے آپ میں ایک دنیا تھا۔ہماری دنیا کے جیسی نہ سمجھ میں آنے والی ایک پیچیدہ دنیا۔
لیکن بات صرف پیچیدگی کی نہیں ہے۔۔ آپ صحیح سمجھ رہے ہو۔میں خوفزدہ ہوں۔بہت ڈری ہوئی ہوں۔جانتی ہوں کہ اس دنیا میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے جسے چھوڑا نہ جا سکے مگر پھر بھی اسے چھوڑنا ایک وحشت ناک خیال ہے۔اتنا کہ اس تصور سے ہی میرے جسم میں بہتا خون برف بننے لگتا ہے۔ مجھ میں کوئی ہے جو اس سمت دیکھنا چاہتا ہے مگر میں ڈرتی ہوں۔میں ایک عام۔۔۔ بہت عام سی لڑکی ہوں۔اور عام لڑکیاں کبھی ایسے دروازے نہیں کھولتیں۔وہ اپنی حدوں میں رہنا جانتی ہیں۔ میں اپنی حدوں کو جانتی ہوں مگر کبھی کبھار یہ دروازے۔۔۔۔۔۔۔بہت ضدی ہو جاتے ہیں۔یہ مجھے غصہ دلاتے ہیں،یہ میری بزدلی پہ میرا مذاق اڑاتے ہیں۔مجھے ناکام اور بیوقوف سمجھ کر چڑاتے ہیں۔ایسی محبت سے پکارتے ہیں جس کی حدت مجھے وہ دھواں بنا دیتی ہے کہ جسے درزیں بھی روشندان نظر آتی ہیں۔مجھ سے مایوس ہو جاتے ہیں۔میرے مدد کو شیشے کے گھومتے دروازوں میں ڈھل جاتے ہیں جیسے اچک اچک کر میرا ہاتھ تھام لینا چاہتے ہوں۔
اور ہر بار مجھے لگتا ہے جیسے کوئی مجھے ان کی سمت دھکیل رہا ہو۔بہت بار ایساہوا کہ میں گویا بے خود ی میں چلتی ہوئی ان کے بہت قریب چلی گئی۔اتنا کہ میرا چہرہ ان کی ٹھنڈک سے برفاب ہوا جاتا تھا۔لیکن پھر کچھ نہ کچھ ہو گیا۔کوئی دوست،کوئی خوشبو،کوئی یاد دھڑلے سے دروازہ کھول کر کمرے میں داخل ہوئی اور میرے میسمیرائیزڈ جسم کو گھسیٹتے ہوئے کمرے سے باہر لے گئی۔
میں اپنی دنیا میں خوش ہوں(کم ازکم میں سوچنا تو یہی چاہتی ہوں)۔میری زندگی ایسی بری بھی نہیں کہ میں دوسری دنیاﺅں کی تمنا پالوں۔مگر یہ دروازہ۔۔ کم علم مولویوں کی طرح بیتاب ہو جاتا ہے کہ مجھ پر چیزوں کی حقیقت(یا بے حقیقتی)واضح کر دی جائے۔سچائی کا وہ رخ کسی بڑی چادر کی طرح میرے گرد لپیٹ دیا جائے جسے بس وہ صحیح سمجھتے ہیں۔وہ مجھے قدامت پسند اور کم فہم سمجھنے لگے ہیں۔انہیں لگتا ہے جیسے میں سیدھے راستے پر اپنی مرضی سے چلنے کی طاقت نہیں رکھتی اور اسلئے ان کا مجھ پر طاقت استعمال کرنا جائز ہو جاتا ہے(انہیں کون سمجھائے کہ سیدھے راستے پر قدموں سے نہیں دل سے چلا جاتا ہے۔اگر دل میں کفر بیٹھا ہے تو خدا کعبے میں بھی نہیں مل سکتا)۔
تو کبھی کبھی میں خوفزدہ ہو جاتی ہوں۔جیسے وہ مجھے اناج کی بوریوں کی طرح گھسیٹتے ہوئے اس دروازے سے باہر کھینچ لیں گے۔لیکن یہ میری بھول ہوتی ہے کیونکہ وہ کبھی بھی ایسا نہیں کریں گے۔میں جانتی ہوں مگر پھر بھی میں خوفزدہ ہوں۔۔۔ میں خوفزدہ ہوں کیونکہ کبھی کبھی میں خود اتنی کمزور ہو جاتی ہوں کہ مجھے لگتا ہے جیسے میں اس دروازے سے باہر جا گروں گی۔جیسے میں کچھ بھی کر گذروں گی۔
بچپن سے آج تک میں نے کوئی ایسا قدم نہیں اٹھایا جس سے لگے کہ میں ایسا کچھ کر سکتی ہوں۔اب تک تو میں بس زندگی کے ساتھ بہتی رہی ہوں۔شاید میری بات کو منطقی انداز میں سمجھنا ممکن نہ ہو کہ ہم لوگ ہر ساعت فیصلے کر رہے ہوتے ہیں تو پھر بہنا کیسا۔۔۔۔ مگر وہ لوگ میری بات سمجھ لیں گے جنہوں نے زندگی گذرتے دیکھی ہے۔
وقت ایک تیز رفتار دریا ہے جس میں لوگ،شہر،چاند تارے،ہوائیں،کرسمس کے دن،لڑکیاں،چمگادڑیں سب بہے جا رہے ہیں۔پانی میں جگہ جگہ منجھدار ہیں۔جگہ جگہ آبشار ہیں۔حرکت یہاں کا واحد اور واضح ترین قانون ہے۔اگر کہیں پانی ساکت بھی ہو جاتا ہے اتنا کہ اسکی سطح پر برف جمنے لگے تو بھی اس برف کی پتلی تہہ کے نیچے روئیں چلتی ہیں۔منجمد برف بھی کہیں تیرے جاتی ہے۔
ہم سب بہے جا رہے ہیں۔پانی پر قریب آتے تختوں پر ادھر سے ادھر چھلانگیں لگانا ہمارے آزادی کی آخری حد ہے۔مگر ایسے میں کوئی کہے کہ وہ بہاﺅ کی مخالف سمت تیر سکتا ہے۔یا پھر برف کے کسی ایسے کنارے کا خواب جو بہتا نہ ہو۔یا کوئی دروازہ جو کائنات کی کسی نئی جہت لے جائے۔۔ یہ ایسے خواب ہیں جو مجھ ایسے سہمے اور خوفزدہ لوگوں کو سزا وار نہیں۔
تو ہم پوری زندگی بہتے ہیں،قریبی تختوں پر چھلانگیں لگاتے ہیں(تختے جو سب ایک ہی سمت بہے جاتے ہیں)اور ایک آگ جو ہمارے اندر کہیں دبی رہتی ہے۔ہمارے اندر کوئی ہے جسے ہم پہچان نہیں پاتے۔ایک سویا ہوا شیر جو کبھی بھی بیدار ہو سکتا ہے۔ہماری زندگیوں کے اس جمودی تغیر کو روک سکتاہے۔
یقین کیجیے کہ یہ کوئی خوشگوار لمحہ نہیں ہو گا۔یقین کیجئے کہ کوئی دروازہ ہمیں اپنے آپ سے بڑی حقیقت سے روشناس نہیں کروا سکتا۔خدا نے بس انسان کو تخلیق کیا اور باقی جو ہے وہ مایا کا جال ہے۔لیکن اگر یہ مصنوعی تغیر ختم ہوا تو ہم پہلے سے زیادہ قابلِ رحم ہو جائیں گے۔کہ ہم پھر سے جان جائیں گے کہ ہم کہیں نہیں جا رہے۔ہم توازل سے اسی نکتے پر کھڑے ہیں۔۔۔۔۔۔۔اس بچے کی طرح جس کے کھلونے پر تصویریں حرکت کرتی ہیں اور اسے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ دوسری دنیا کی سیر کو جاتا ہو۔ہم اپنے اندر کے اس وحشی شیر سے ڈرتے ہیں جو جھوٹ کے اس خوبصورت پردے کو پھاڑ ڈالے گا۔جو دھاڑتا ہوا اس دروازے سے پار نکل جائے گا یہ جانے بنا کہ اس طرح دنیا کتنی بے رنگ ہو جائے گی۔
نہیں بہتر وہی ہے جسے مقدر کی صورت ہماری پیشانیوں پر لکھ دیا گیا ہے۔۔۔ہم یہیں کھڑے رہ کر دروازے کو حسرت سے دیکھا کریں اور سوچتے رہیں کہ ہم بہت کچھ کر سکتے ہیں۔اِک آس ہمیں رکنے نہ دے اور اِک خوف آگے بڑھنے نہ دے۔۔۔۔ اورقیامت کا صور پھونک دیا جائے اور ایک ہیبت ناک آواز بلند ہو
”تمہیں کس نے غلام بنایا جبکہ تمہاری ماﺅں نے تمہیں آزاد جنا تھا۔“

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں