جہاں تیرے پیروں کے کنول گرا کرتے تھے

ذکر پاوں کا چل نکلا ہے اور تم کہتی ہو, میں نے کچی عمر میں “پاکیزہ” دیکھ لی ہوگی. سنو! گر آئنہ دیکھنے سے فرصت ملے تو یہ قصہ سنو!

میرا مکتب فیڈرل گورنمنٹ بوائز اسکینڈری اسکول، آدم جی روڈ راولپنڈی میں واقع تھا، اب بھی وہیں ہوگا۔ اسکول کے سامنے، پندرہ بیس فٹ گہرائی میں نالا بہا کرتا تھا۔ نالے کے اس پار انگریز دور کی کوٹھیاں، اور ان کے بڑے بڑے دالان تھے، جہاں کھٹے اور مِٹھے کے درخت تھے۔ تفریح کے وقفے میں، بچے نالا پار کرکے، ان کوٹھیوں کے لان میں کھیلا کرتے تھے۔ وہاں کوئی رہتا ضرور تھا کہ آباد لگتی تھیں، مگر کبھی کسی نے بچوں کے داخلے پر اعتراض نہیں کیا تھا۔ ایسے لوگ اب کہاں گئے؟ ہم درختوں سے مِٹھے توڑ کر چوستے۔ چوں کہ کھٹا اور مٹھا شکل میں ایک طرح کے ہوتے ہیں۔، اس لیے جب مِٹھا سمجھ کر توڑے ہوے، کھٹے کا ذائقہ زبان کو چھوتا، تو وہی کھٹا گیند کے مانند کسی ساتھی کو ماردیا جاتا۔ یوں دوست کے کپڑے داغ دار کرنے کا بڑا لطف آتا۔

آٹھویں جماعت کا واقعہ ہے۔ اسکول کے سبھی بچے تفریح کے پیریڈ میں کھیل رہے تھے۔ ان میں میرے کلاس فیلو افضال اور عابد انور قریشی بھی تھے۔ ہم کھیل کھیل میں کوٹھیوں کے اس پار سرور روڈ پر نکل آئے۔ عابد نے ایسے میں، ایک کھٹا میری طرف پھینکا اور جوابی حملے سے بچنے کے لیے، سڑک کراس کرکے بھاگنے لگا۔ میں کہاں بھاگنے دیتا تھا۔ وہی پچکا ہوا ’گیند’ اُٹھا کر پوری قوت سے اس پر پھینک دیا۔ ۔یہ منظر کسی مووی کے سلوموشن افیکٹ کی صورت، آج بھی میری یاد کی لائبریری میں محفوظ ہے۔ پچکا ہوا ’کھٹا’ ہوا میں اڑتا عابد انور کی طرف بڑھ رہا تھا اور درمیان ایک موٹر سائیکل سوار لڑکا، اس کے پیچھے سفید کپڑوں میں ملبوس سترہ اٹھارہ سالہ لڑکی، اسی سَمت جاتے ہوئے، جہاں‌عابد بھاگ رہا تھا۔ میری آنکھوں کے فریم میں داخل ہوئے۔

’کھٹا’ لڑکی کی سفید قمیص پر نشان چھوڑتا، سڑک پر لوٹیاں لگانے لگا۔ میں اور میرے ساتھ کھڑا افضال دم بہ خود رہ گئے۔ اگلے ہی لمحے ہم سزا سے بچنے کے لیے کوٹھی کے احاطے کی طرف بھاگ نکلے۔ اپنی تئیں چال متوازن بناکر، معصوم بچوں میں گھل مِل کر اسکول کی جانب چلنے لگے۔ اتنے میں وہی موٹرسائکل سوار، ہمارے سامنے آ رکا۔ خدا جانے، ہماری چال ہی ہماری چغلی کھارہی تھی؟ لڑکا نے ہمیں ڈانٹا کہ پرنسپل سے شکایت لگاے گا اور جانے کیا کیا۔ میرا دھیان اس کی باتوں سے زیادہ، اس کی ساتھ کھڑی لڑکی کے پیروں پر تھا۔ بہت وقت گزرگیا ہے، مجھے وہ پاؤں نہیں بھولے۔ ہری ہری گھاس پر میں آج بھی اس لڑکی کے پاؤں دیکھ رہا ہوں۔ مکھن سے گندھے، یا سنگِ مَرمَر سے تراشے، وہ پاؤں، میرے من سے چِپکے ہوئے ہیں۔

میں اور افضال گم سم سے کلاس روم میں آ بیٹھے۔ کچھ دیر بعد افضال نے پوٹھوہاری زبان میں کہا، ‘یار اس لڑکی کے پاؤں بہت خوب صورت تھے’۔ تبھی میں نے جانا کہ میں ہی نہیں، افضال بھی ان سندر پیروں کو دیکھ رہا تھا۔ اس کے بعد سے۔ اب میں جب کسی کو دیکھوں، میری نگاہیں سب سے پہلے پیروں کی طرف جاتی ہیں۔ اگر پاؤں دِل کش نہ ہوں، تو آنکھیں اُٹھانے کی زحمت نہیں کرتا۔

اب راول پنڈی جاؤں، اور اپنے سابق اسکول جانے کو دل چاہے بھی۔ تو نہیں جاتا۔ کیوں کہ بہت کچھ بدل گیا ہے۔ وہ کوٹھیاں بھی اجڑ گئیں ہوں گی۔ وہ مکیں بھی نہ رہے ہوں گے۔ میں نہیں جاتا کہ مجھے وہ پاؤں گم ہونے کا اندیشہ رہتا ہے، جو ایک خطا کے لمحے کا اثاثہ ہیں۔ مجھے اس سَمت نہیں جانا، جہاں ہریالی گھاس کے بہ جاے، سنگ ریزوں کا فرش ہو.

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں