خم۰۰۰

یہ حسین کاکل اب تک سلامت کیوں ہیں ۔

انہیں تو گزری رات کا فسانہ کہنا تھا ,
جیسی شدتیں اس بستر کی سلوٹوں میں عیاں ہیں۔

طمانیت بھرپور ہے اس حسین مکھڑے پر،
کوئی وحشی جو اسے دیکھے تو قرار پائے
یا اس کی خوب صورت زلفوں کو اپنی وحشت کا ترجمان کر دے۔

اس کے خوب صورت کاندھے سے سورج طلوع ہو اور اس کے حسین قدموں میں زوال ہو کر بقا پا لے

مندروں میں ان حسین لمحات کے نام پر دئیے جلائے جائیں اور اندھیر بستی کے باسیوں پر ان کو جلائے رکھنا لازم ٹھہرے

اے محبت کی دیوی تیرے اس حسن بے نیاز پہ میں مر مٹا ہوں
تیرے ساتھ بتائے گئے ان لمحات کو جو لکھنا چاہوں تو نہ لکھ پاؤں کہ میں بے بس ہوں

تیری بے لباسی میری وحشتوں کا لباس ہے گر تو سمجھے
تیرے بدن کی خوشبوویں اب بھی مجھ میں رچی ہوئی ہیں
گر تو مہکے اس بار پھر اسی ڈھب سے
تو مجھے امر کر دے۔

تیری ہر اک آہ پر میرے مکمل وجود کا محبت بن کر میری نظروں سے تجھے دیکھنا مجھے اب بھی یاد آتا ہے
تیرے بدن کے ہر اک خم پہ میری محبتوں کی شدتیں اب بھی جھولے جھولتی ہیں
ہر لمحے بے پناہ محبت سے تجھے دیکھتے جو بکھرنے لگتا تو تو اپنی حسین آنکھوں سے مجھے دیکھ کر پھر سے سنبھال لیتی
تیرے پہلو کی حدت سے تپتا میرا بدن مجھے سکوں بخشتا
اور کمرے کی فضاؤں میں بکھرتا ملگجا خوشبودار دھواں جب نتھنوں میں پہنچتا تو تم چہار سو نظر آتی

تیری گود میں سر رکھ کے رونے کی حسرت اب بھی باقی ہے
تیرے پاؤں کو اپنی گود میں رکھنا اب بھی چاہتا ہوں
تیرے حسین گھنگریالے بالوں کو اتنا الجھا دینا چاہتا ہوں کہ عمر بھر تو اپنی زلفوں کو سنوارنے میں لگا دے اور اس تکلیف سے نکلنے والی تیری ہر آہ پر تیری یادوں کی تتلیاں میرے باغیچوں کا رخ کریں
جنہیں میں قید کرلوں اور کبھی رہائی نا دوں

میرے اس ظلم و جبر سے نکلنے والے تیری آنکھ کے ہر ہر آنسو کا اک جام بناؤں
اور بہک جاؤں کبھی پھر سے ہوش میں نہ آنے کے لیئے

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں