عکس

ویسے تو عکس کی معنی یوں سمجھی جاتی ہے کہ ہم روشنی میں کھڑے ہوں اور ہمیں اپنا سایہ  ملے.

جب کوئی چھوٹا بچہ پہلی دفعہ اپنے عکس کو دیکھتا ہے تو وہ خوشی سے جھوم اٹھتا ہے اور اسے پکڑنے کی جستجو کرتا ہے اسے وہ اپنا دوست لگتا ہے،پھر اپنے والدین سے سوال کرتا ہے کہ بابا یہ کون ہے؟ میں اسے کیوں نہیں پکڑ پا رہا ہوں ؟حالانکہ اسکے والدین کو یہ کہنا چاہئیے کہ بیٹا یہ تمہارے اندر کا اک اور انسان ہے جو تجھ میں بستا اور تمہارے ساتھ سانسیں لیتا ہے، اگر تم اسے اپنا سچا دوست مانوگے، اسکے کہنے پر چلو گے اور ہمیشہ اسکی باتوں پہ دھیان دوگے تو کبھی بھی مشکل اور شرمندگی کا منھ نہیں دیکھنا پڑیگا، یہ قدم قدم تمہارے ساتھ چلیگا اسے ہمیشہ زندہ رکھنا بیٹا، پر معاملہ بالکل الٹ ہے، وہ اسکا گلا گھوٹ دیتے ہیں، اور جواب دیتے ہیں کہ، بیٹا چھوڑو یہ کیا فالتو بات لیکر بیٹھ گئے ہو، روشنی میں کھڑے ہو اور یہ تمہارا عکس ہے بس.
صحیح جواب نہ ملنے سے اس بچے کی دلچسپی اس عکس پر سے دور ہو جاتی ہے.
ہم بالغ جو کہ بڑے اور سمجھدار ہیں اس کو دیکھ کر نظر انداز کرتے رہتے ہیں، حالانکہ وہ ہمیں ہر بار پکارتا رہتا ہے آؤ دیکھو مجھ میں خود کو تلاش کرو ہمارا تو اس بات پر دھیان ہی نہیں جاتا کہ یہ اک جیتا جاگتا ہمارا اپنا ضمیر ہے اور وہ لعنت بھیجتا رہتا ہے ہمارے کرتوتوں  پر، اور ہم اسے نظر انداز کرتے ہیں، کیوں؟ کیونکہ ہم میں  اپنے خلاف کڑوے سچ سننے کی ہمت ہی نہیں ہے اپنے لئے ناگوارا الفاظ برداشت ہی نہیں کرتے،
یہاں میری تمام بات کا مطلب اپنے ضمیر کو زندہ کرنا ہے جسے  ہم  لوگ  مدت سے کہیں ویرانے میں دفن کر آئے ہیں ، بعض لوگ اپنے مفاد کی خاطر معصوم بے گناہ لوگوں کے احساسات و خواہشات کو اپنے پاؤں تلے کچل دیتے ہیں، انہیں  اپنی خواہش کے آگے سب فضول لگتا ہے،

ابھی کچھ ہی دن پہلے ایک  واقعہ رونما ہوا ہے، جھانگارا شہر کی رہنے والی دسویں جماعت کی طالبه تانیہ خاصخیلی کا بڑے بیدردی سے اسکے والدین کے سامنے سرِ عام قتل ہوا ہے، اس معصوم کا کیا گناہ تھا بس اتنا کہ اس نے شادی کرنے سے انکار کیا؟ یہ کہاں کی انسانیت ہے؟ اس بات کا تو مذہب بھی عورت کو اجازت دیتا ہے کہ اسے پورا حق ہے اپنی خواہش کے مطابق شادی کرنے کا، پھر انہیں کس نے اتنی طاقت دی ہے؟ آپ کے خیال میں اس وحشی درندوں کی سزا کیا ہونی چاہیے؟

اگر ہم اپنے ضمیر کی سنیں، اسے زندہ رکھیں تو کافی تبدیلی آسکتی ہے، یہ ظلم کے گہرے بدل چھٹ سکتے ہیں لیکن ہم نے جان بوجھ کر اسے سلا رکھا ہے، کیونکہ ہم  ظلم کرنے اور سہنے کے عادی ہوگیے ہیں، ہمارا ضمیر اگر احتجاج کرتا بھی ہے تو ہم اسے نظر انداز کردیتے ہیں، ظلم کے خلاف آواز نہ اٹھانا بھی ضمیر کی موت ہی ہے. خدارا اپنے ضمیر کو جگائیں..

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں