“مرکز یقین شاد باد”

امریکہ سے آۓ ہوئے ایک امریکی مہمان کی میزبانی کا موقع ملا
اسکا پاکستان سے لگاؤ اور پاکستان کے بارے میں احساسات دیکھ کرخوشگوار حیرت ہوئی سچ تو یہ ہےکہ ہم بحیثیت قوم اپنے آپ کو بہت under estimate کرتے ہیں شاید یہ ہمارے اندر کا کمپلیکس ہے جو ہمیں اپنا منفی امیج ہی نظر آتا ہے۔
اس امریکہ سے آۓ ہوئے مہمان کا کہنا تھا کہ اسے پاکستان میں وہ محبت ،اپنائیت اور خلوص ملا جو کہ امریکہ میں ناپید ہے وہاں کسی کے پاس کسی کے لئے وقت نہیں ،نگاہ اٹھا کر دیکھنے کا بھی وقت نہیں،سب دائیں بائیں سے بے پرواہ اپنے دائرے کے اندر مصروف ہیں۔مگر پاکستان میں سب کچھ ہے ۔یہاں آنا میری زندگی کی بڑی خواہش تھی جو پوری ہوئی اور ابھی یہ پیاس بجھی نہیں بلکہ یہاں آکر اور بڑھ گئی ہے۔
اس بدیسی مہمان کی پوری دلچسپی پاکستان کے monuments دیکھنے میں تھی۔گھروں پر لہراتے پاکستان کے جھنڈے دیکھ کر اسمیں بجلی دوڑ گئی اور اس نے جلدی جلدی تصاویر اتارلیں۔ یہ شوق دیکھ کر میں نے پاکستان کے پرچم والا بیج اسے دیا جسے اس نے بہت خوش ہوکر لیا اور فوری لگالیا۔گرین کلر سے اسکا لگاؤ میرے دل کو باغ باغ کرگیا۔ہرے رنگ کی بے شمار اشیاء اسکے سامان میں موجود تھیں جنہیں نہایت عزت اور محبت سے اس نے رکھا ہوا تھا (ایسی قدر تو ہمیں اپنے ارد گرد بھی کم ہی نظر آتی ہے ،چودہ اگست کے بعد ہمارا ہرا پرچم ستارہ و ہلال کہیں جھنڈیوں کی شکل میں ہوا کے رحم و کرم پر ہوتا ہے تو کہیں اگلے سال کی چودہ اگست تک موسم کے سرد و گرم تھپیروں کے ساتھ نبردآزما اپنی اصل ہئیت ہی کھو بیٹھتا ہے اور ہمیں اس کا احساس بھی نہیں ہوتا )
ایک مزے کی بات کہ اسے کچھ چیزیں پاکستان میں بہت عجیب لگیں جن میں
بجلی کے تاروں کے گچھے نما کنکشن (اب اس کو کیا معلوم کہ کنڈا سسٹم کیا ہوتا ہے:)
سڑک پر بھاگتے دوڑتے گدھے ( یعنی donkey جسے پہلی بار بھاگتے ہوئے دیکھا۔)
موٹر سائیکلوں کا اژدھام (جسے دیکھنے کے بعد اس نے خواہش کے باوجود موٹر سائیکل پر بیٹھنے کا ارادہ ملتوی کردیا)
بے تحاشہ ٹریفک کے علاوہ فقیروں کے بچے اسے بہت پسند آئے اور غالباً انکو گود میں لے کر اس نے بڑی تصاویر اتاریں ( یہاں اس بات نے مجھے سوچنے پر مجبور کیا کہ ہم جو نبی صلعم کے نام لیوا ہیں کیا ہم اتنے آرام سے غریبوں ،فقیروں کے ساتھ بیٹھ کر بچوں کو گود میں لینا پسند کریں گے )
اونٹ کی سواری ،رکشہ کی سواری ،سانپ کا تماشہ،چاٹ ،نہاری ،بریانی اور پودینے کا رائتہ ( جو کہ اسکا فیورٹ کھانا تھا)اور گلاب جامن جسکا نام بار بار دھراتے ہوئے ذہن نشین کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ایسی بہت سی مزے مزے کی نمکین اور میٹھی یادوں کے ساتھ یہ مہمان دوبارہ پاکستان آنے کی خواہش کے ساتھ وطن واپس جارہا ہے کہ آئندہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات اسکی منزل ہونگے ۔ہاں ایک بات اور اسے فجر کے وقت مؤذن کی پکار یعنی اذانِ فجر نے بہت facinate کیا( ہم یہاں رہتے ہوئے اس پکار سے کتنا مستفید ہوتے ہیں سوچنے کی بات ہے )
بہرحال ایک دن کے اس مہمان نے جاتے ہوئے جذباتی انداز میں سب کو خداحافظ کہا تو ایک اور حیرت ہوئی کہ اچھا ہم سے زیادہ بھی کوئی emotional ہوسکتا ہے ۔ یہ سچ ہے پاکستان سے محبت کرنے والے دنیا کے ہر حصے میں موجود ہیں اور پاکستان سے محبت کے لئے پاکستانی ہونا بھی شرط نہیں۔۔۔۔تو پھر کیا سمجھ آیا ہے نا ہمارا وطن مرکز یقین شاد باد

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں