معصومیت کا قتل

امی یہ آپ مجھے کب لا کے دیں گی؟13 سالہ ماہم نے ٹی وی پر آنے والے مشہور برانڈ کے اشتہار کو دیکھ کر اپنی ماں سے سوال کیا! امی آپ سن رہی ہیں! اس نے پھر سوال کیا۔حلیمہ کاموں میں مصروف ہونے کی وجہ سے اس کی بات توجہ سے نہیں سن پائی۔اور اشہار بھی گزر گیا۔مگر حلیمہ یہ سوچنے پر مجبور ہوگئی کہ ایسی کیا شے ہے جس کو دیکھ کر اس کی بیٹی کہ دل میں خواہش جاگی۔

رات کے کھانے کہ بعد اس نے ماہم سے پوچھا تو اس نے جواب دیا ۔امی مجھے نہیں معلوم کہ اس اشتہار میں کیا ہے۔مگر وہ لڑکی بڑی خوبصورت اور پر اعتماد تھی جو اشتہار میں تھی۔ تو کیا میں بھی اس جیسی حسین بن سکتی ہوں؟ بیٹی کی اس بات نے حلیمہ کو تشویش میں ڈال دیا۔۔۔

یہ ایک گھر کی کہانی نہیں بلکہ ہر اس گھر کی کہانی ہے جہاں نوعمر ایسی بچیاں ہیں جو اس طرح کے کئی اشتہارات کو دیکھ کر آئیڈیالائیز کر نے لگتی ہیں،اور کچی عمر کے خیالات میں ہونے کی وجہ سے دیکھی جانے والی شے کو استعمال کرنے کی وقت سے پہلے ضد باندھ لیتی ہیں،یا یوں سمجھ لیں کہ ان کہ دل میں ایسے خیالات جنم لینے لگتے ہیں کہ خدانخواستہ اگر وہ یہ سب نہ لیں تو وہ دوسروں سے کم تر ہیں۔۔۔۔ abc نامی ایک ایسی برانڈ جو 1989 سے کام کررہی ہے۔۔۔۔اور خواتین کی ضرورت کے لحاظ سے اہمیت کی حامل بھی ہے ۔جو اشتہار کے بغیر بھی استعمال کی جاسکتی ہے۔تو 2017 میں کیا کوئی خاص وجہ پیش آئی کہ اشتہار ہی بنادیا جائے۔ کیا بیٹی کی ضرورت کا خیال اب ماں نہیں میڈیا کو ہے۔ کیا مائیں اتنی چھوٹی چھوٹی ضروریات کا خیال بھی نہیں رکھ سکتیں کہ جس کی ضرورت پوری کرنے کے لئے میڈیا آگے بڑھ رہا ہے۔۔۔ ایسی اشیاُ کا اشتہار عورت کو ایک اشتہار بنا دیتا ہے۔۔جن باتوں میں شرم وحیا کا خیال رکھنے کی تاکید کی گئی تھی۔۔۔۔وہ ایک بچی اپنے باپ اور بھائی کی موجودگی میں دیکھے گی تو اس کی حیا کا قائم رہنا ناممکن ہے۔ ایک بچی کی حیا ختم ہونے کا مطلب آہستہ آہستہ معاشرے سے حیا کا خاتمہ ہے ۔اور اگر حیا نہیں تو کچھ باقی نہیں رہتا۔اشتہار میں ایک اچھلتی کودتی ایسی لڑکی کو ہر زاویہ سے دکھایا گیا ہے کہ جیسے یہ ساری صلاحیتیں اس کے اندر مزکورہ بالا شے کہ استعمال سے ہی آئی ہوں۔۔۔۔۔۔بات صرف اتنی سی ہے کہ اس طرح کے اشتہارات وقت سے پہلے بچوں کی سوچ کو تبدیل کرکے انہیں عمر سے پہلے بڑا کر رہے ہیں۔۔۔۔۔اس طرح کے اور بھی بہت سے اشتہارات وقفے وقفے سے دکھائی دیتے ہیں۔۔۔اور اس دور میں شاید صرف وہ لوگ ہی محفوظ ہیں ہیں یا ان کے بچے کہ جو یہ سب دیکھنے سے قاصر ہیں ،یا جن کے گھر ٹیلیوژن ہی نہیں۔۔

جناب یہ تو کوئی حل نہیں۔۔۔۔حل تو اسباب کو روکنا ہے۔۔۔۔۔غلط بات کو دیکھ کر اس کے لئے آواز اٹھانا بھی نیکی ہے۔۔۔ یہ کام اب شاید پیمرا کو نہیں ہم نے اور آپ نے خود کرنا ہے۔

شیئرکریں
نوشین صدیقی نے مائیکرو بیالوجی میں ایم ایس سی اور اسلامیات میں ایم اے کیا ہے، چار سالوں سے باقاعدہ اخبارات اور مختلف ویب سائٹس پہ لکھنا شروع کیا۔تحقیقی مضامین لکھنے میں دلچسپی ہے۔ جہاد بالقلم پر یقین ہے۔ کتابیں پڑھنے،تحقیق کرنے اور گھومنے کی شوقین ہیں

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں