وقت ھمارے ہاتھوں سے سرک جاتا ہے

يوں تو انسانی زندگی الميوں سے عبارت ہے ہی ليکن آج کل ايک شاندار الميے نے جنم ليا ہوا ہے. اور وہ ہے .قريب کے لوگوں کو يکسر فراموش کر کے دور کے لوگوں سے روابط رکھنا.

ہم اپنے قريبی رشتوں کو بھول کر ہر دم دور بيٹھے ہوئے لوگوں سے موبائل فون اور نيٹ کے ذريعے رابطے  ميں رہتے ہيں .
اس سوچ کے ساتھ کے يہ تو گھر کے لوگ ہيں روز ہی سامنا ہوتا ہے ملتے بھی ہيں. تو ان سے کيا بات کی جائے يہ تو ساتھ ہوتے ہی ہيں انہيں کہيں جانا تھوڑا ہی ہوتا ہے جب چاہيں گے بات کر ليں گے .

دور کے لوگوں سے تو صرف فون پہ رابطہ ہے اس طرح ہم ساری خوشياں مسکراہٹيں اچھے الفاظ سب ان اجنبی لوگوں کو دان کر ديتے ہيں…

اور اپنوں کے ليے ہمارے پاس باقی رہ جاتے ہیں کچھ جلے کٹے لفظ .
کچھ جھنجھلائی ہوئی آوازيں .
اور اکتاہٹ.
ہم اس بڑے درخت کی طرح  ہو جاتے ہيں جس کے اردگرد تو بڑی ہريالی ہوتی ہے ليکن اس کی چھاؤں تلے رہنے والے پودے ہمشہ سوکھے اور بے رونق ہوتے ہيں.

دور رہنے والے ہماری ساری اخلاقيات کو پا کرسوچتے ہيں کاش يہ شخص ہمارا ہمسفر ہوتا تو زندگی کتنی خوشگوار ہوتی.

اور جو پاس ہوتے وہ اس بات کو ترستے ہيں
کاش کوئی لمحہ ايسا بھی ہوجب يہ پاس بيٹھا ہوا شخص فقط ہمارا ہو.
يہ کہے تو ہم سنيں ہم کہيں تو يہ سنے.

ليکن ايسا ہو نہيں پاتا.
جب بھی کوئی ہم سے يہ کہنے کی کوشش کرتا ہے ہم يہ کہہ کر اسے خاموش کر ديتے ہيں کہ تمہارے پاس ہی تو ہوں اور کتنا وقت دوں.
تب سوال يہ اٹھتا ہے کہ جو پاس ہے کيا وہ واقعی ہمارا ہے کيا اسے ہم نے پايا ہوا ہے. اور اس کشمکش ميں ايک دن وہ سارے ہم سے ايک ايک کر کے کھو جاتے ہيں

جن کے بارے ميں ہمارا کبھی خيال تھا کے
انہيں کہاں جانا ہے يہ تو ساتھ ہی رہيں گے

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں