ہنس

بنگلا بھاشا کے عظیم شاعر ٹیگور نے اپنی ایک نظم میں لکھا ہے:
’’تم میرے وجود کے لیے قطبی تاراہو
اب سفر حیات میں میرا بھٹکنا ممکن نہیں
تمہارا روشن رخ میری رہنمائی کرتا رہے گا‘‘
وہ سندھی ادب کے آسمان کا قطبی تارا تھے۔وہ جو جمعرات کی صبح کو قطبی ستارے کے طرح نظروں سے اوجھل ہوگئے۔

اب سندھ کا علمی اور ادبی آسماں اس کے بغیر کس قدر سونا سونا نظر آئے گا۔ اب قلم کے چپو چلانے والے نوجوان ملاحوں کو ساحل کا پتہ کون دے گا؟ اب کتابوں کے کھیت میں الفاظ کی صورت خوابوں کے بیج کون بوئے گا؟ اس شخص کو اب دن کا سورج اور رات کا چاند چراغوں کے ساتھ تلاش کرتے رہیں گے مگر وہ کسی کو نظر نہیں آئے گا۔

وہ شخص جو سفید رنگ کے کپڑے پہنتا تھا۔ وہ شخص جس کی روح بھی سفید تھی۔ وہ شخص جس کے جسم کا ہر بال سفید تھا۔ سفید ستارے جیسا وہ سفید شخص ایک صدی اور دو برس تک زندہ رہا۔ وہ جو کتابوں سے بھرے ہوئے کمرے میں تنہا رہتا تھا۔ وہ جو اپنی زباں اور اپنی ثقافت کے ساتھ محبت کرتا تھا۔ وہ شخص جو دنیا کی ہر زباں اور ہر ثقافت کی عزت کرتا تھا۔ وہ شخص جو محبت میں سندھی اور غصے میں انگریزی بولتا تھا۔ وہ شخص جو ساری زندگی محکمہ تعلیم کے اعلی عہدوں پر فائز رہا مگر اس کے پاس پینشن کے علاوہ اور کوئی پیسہ نہیں تھا۔ اس کے پاس کوئی کوٹھی اور کوئی کار نہیں تھی۔ وہ محنت سے بنائے ہوئے اپنے سادہ سے مکان کے دروزاے سے نکلتا اور حیدرآباد کے چھ سیٹوں والے سستے اور پرانے رکشا میں بیٹھ جاتا۔

وہ شخص جس نے پیدل چلتے ہوئے کبھی احساس کمتری محسوس نہیں کی۔ وہ شخص جس نے دامن پر کسی الزام کا داغ نہیں تھا۔ وہ شخص جو اپنی ایمانداری سے بتائی ہوئی زندگی پر مطمئن اور خوش رہتا تھا۔وہ جو سب کو حوصلہ دیتا تھا۔ وہ بچوں کی طرح مسکراتا تھا اور بزرگوں کی طرح سمجھاتا تھا۔وہ شخص جس کا گھر حیدرآباد سینٹرل جیل کے بالکل سامنے صحافی کالونی میں تھا۔وہ شخص گذشتہ روزقید حیات اور بندغم سے آزاد ہوکر سندھی ادب کی تاریخ کا ایک عظیم حوالہ بن گئے۔
سندھی اخبارات میں ان کے وفات کی خبر لیڈ اور سپر لیڈ تھی۔سوشل بولنے والے حلقے سوشل میڈیا پر اب تک اس کے لیے افسوس سے بھری ہوئی پوسٹس شیئر کر رہے ہیں۔سندھ اسیمبلی میں انہیں خراج تحسین پیش کیا گیا۔ سینیٹ میں ان کے لیے دعائے مغرفت مانگی گئی۔ ملک کے اہم سیاسی رہنماؤں نے ان کے حوالے سے تعزیتی بیانات جاری کیے۔ وہ ادارے سوگ میں بند کردیے گئے جن کے وہ سربراہ رہے تھے۔وہ جنہیں ’’لائف اچیومنٹ‘‘ ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔ ان کے حوالے سے اہم ترین بات یہ تھی کہ وہ شیخ ایاز کے ادبی استاد تھے۔شیخ ایاز نے اپنی دو کتابوں کا انتساب ان کے نام کیا۔ شیخ ایاز جب بھی ان کا تذکرہ کرتے تب شاہ لطیف کا یہ شعر گنگناتے کہ:
’’کسی کسی شخص سے بہار کی بو میں آتی ہے‘‘
اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کی باتیں بہار کی جھونکے کی محسوس ہوتی تھیں مگر یہ بھی حقیقت ہے اس شخص میں سارے موسم موجود تھے۔وہ موسم گرما اور موسم سرما کے سلسلے میں بہت سارے قصے بیان کرتے اور جب سرد جھونکوں میں گرتے ہوئے پتے ماحول کو مایوسی سے بھرنے لگتے تب وہ انگریز شاعر شیلے کا یہ مشہور شعر پڑھتے:
If Winter comes, can Spring be far behind?
یعنی: اگر موسم سرما آئی ہے تو کیا موسم بہار بہت دور ہے؟
ہر تعلیم یافتہ سندھی ان کا نام بیحد احترام سے لیتا ہے۔ سب انہیں ’’محترم محمد ابراہیم جویو‘‘ کہتے ہیں۔ اب ابراہیم جویو صرف عہدوں پر رہنے کی وجہ سے سندھی مڈل کلاس میں مقبول نہیں۔ ان کی وجہ شہرت ان کی ایمانداری اور ان کی مسقتل ادبی اور علمی محنت ہے۔ وہ شخص جو بچپن میں یتیم ہوگئے اور جس نے دکھوں کو طاقت میں تبدیل کرتے ہوئے وظیفوں پر تعلیم حاصل کی اور تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ پوری زندگی پوری قوم کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کی کوشش کرتے رہے۔
دراصل ابراہیم جویو وہ واحد شخص تھے جنہوں نے مرزا قلیچ بیگ کے بعد سندھی زباں کو بہترین ادب کے ذخائر سے مالا مال کیا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ مرزا قلیچ بیگ بذات خود ایک شاعر اور ادب دوست شخصیت کے مالک تھے مگر ان کا دور انگریزوں کا دور تھا۔ ان کے دورمیں انگریزی کتابوں کے تراجم کی انگریز سرکار حوصلہ افزائی کرتی تھی۔ مگر محترم ابراہیم جویو کو نہ کسی حکومت کی مدد میسر ہوئی اور نہ انہیں سرکاری اداروں کا تعاون حاصل ہوا۔ وہ جو ایمانداری اور دیانت داری کی وجہ سے بہت غریب تھے۔ وہ اپنی تنخواہ سے تھوڑے تھوڑے پیسے بچاتے اور آہستہ آہستہ کسی اچھے کتاب کا ترجمہ کرتے اور خود ہی اس کتاب کی پروف ریڈنگ کرتے اور جب کتاب چھپ جاتی تو اپنے حلقے میں اس کو فروخت کرتے اور اس سے حاصل ہونے والی رقم کو پھر کسی کتاب میں استعمال کرتے۔وہ انگریزی ادب کے بہت بڑے مداح تھے۔ اس لیے انہوں نے مارشل لا کے موسم میں بائرن کی طویل نظم ’’شیلان کا قیدی‘‘ کو ترجمہ کیا اور اسے چھوٹے سے کتابچے کی صورت میں شایع کروایا ۔ انہوں نے فرانسیسی اور جرمن زبانوں میں لکھی گئی ان کتابوں کا ترجمہ جن کتابوں نے اپنے معاشرے کی بہتری میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ انہوں نے ’’گلیلو کی زندگی‘‘ کا ترجمہ اس وقت کیا جب سندھی توکیا اردو کے ادبی حلقوں میں بھی برٹالٹ بریخت ایک اجنبی نام تھے۔ابراہیم جویو نے ہمیشہ کوشش کی کہ وہ سندھی زباں میں ایسی کتابیں ترجمہ کرے جو اہلیان سندھ کو سوچنے پر مجبور کرے۔انہوں نے ’’فلسفے کا ابتدائی کورس‘‘ جیسی مشکل کتاب کا سلیس زباں میں ترجمہ کیا۔
وہ ایک عجیب انسان تھے۔ جب بھی کوئی شخص ان سے ملنے کے لیے جاتا تو وہ اس سے باتیں بھی کرتے اورے ساتھ ساتھ کسی کتاب کی پروف ریڈنگ بھی کرتے جاتے۔وہ کتابوں کے عاشق تھے۔اگر کوئی نوجوان انہیں اپنی کتاب دیباچہ لکھنے کے لیے دیتا تو وہ اسے کہتے کہ’’ اس کتاب کی اگر میں ضروری ایڈیٹنگ کروں تو تمہیں کوئی اعتراض تو نہیں ہوگا؟‘‘ اور پھر شفقت سے مسکراتے ہوئے اپنی بات آگے بڑھاتے ہوئے کہتے کہ ’’چلو ایسا کرتے ہیں کہ میں دیباچہ لکھنے کے بعد پورے کتاب کی پروف ریڈنگ کروں گا اور اس کے معاوضے کے طور پر تم مجھے کتاب کی بیس کاپیاں دے جانا۔ میرے پاس بہت سارے غریب نوجوان آتے ہیں۔ میں تمہاری کتاب ان کو دوں گا‘‘وہ شخص جو اپنے کتابی شوق کو پورا کرنے کے لیے عجیب انداز سے بچت کرتا تھا۔ اس نے پوری زندگی کوئی فضول خرچی نہیں کی۔ اس کے پاس سفید رنگ کے سستے دو یا تین کپڑوں کے جوڑے تھے۔ وہ ٹیکسی میں سفر کرنے سے منع کرتا تھا۔ وہ کہتا تھا بس میں سفر کرنے سے کیا نقصان ہے؟ وہ حیدرآباد کے راستوں پر اکثر پیدل چلتا نظر آتا۔ جب ان کا کوئی دوست یا مداح گاڑی روک کر انہیں لفٹ دینے کے لیے اصرار کرتا تب وہ مسکراتے ہوئے کہتا کہ ’’حیدرآباد بہت چھوٹا سا شہر ہے۔ مجھے حیرت ہے لوگ شہر کے اندر کاروں میں سفر کیوں کرتے ہیں‘‘ اور وہ یہ بھی کہتے کہ ’’اچھی صحت کا راز یہ ہے کہ تھوڑا کھاؤ اور زیادہ چلو‘‘ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کی صحت بہت اچھی تھی۔ وہ صحت کے ساتھ ایک صدی اور دو برس تک زندہ رہے۔ وہ ایک برس قبل مجھ سے ملے تھے تب شکایت کرتے ہوئے کہنے لگے تھے کہ ’’اب کتابیں نہیں پڑھ سکتا۔ اب جینے کے لیے دل نہیں کرتا۔ جیسے انہوں نے کتابیں پڑھنے کے لیے جنم لیا تھا۔ ان کی زندگی کا مقصد علم حاصل کرنا اور حاصل کیے ہوئے علم کو معاشرے میں عام کرنے کے علاوہ اور کچھ نہ تھا۔ مگر اس مقصد کے ساتھ ساتھ انہیں موسیقی کے ساتھ بھی شغف تھا۔ وہ دھیمے سروں میں شاہ لطیف کے کلام کو سنتے تھے اور کبھی خود گنگناتے ہوئے رودیتے تھے۔وہ اپنے ملنے والوں سے کتابوں کی کہانیاں بیان کرتے۔ وہ انہیں بتاتے کہ کس کتاب میں کون سے نئی کہانی ہے؟ وہ صرف ادب اور شعر و شاعری کے حوالے سے کتابیں نہیں پڑھتے تھے بلکہ انہوں نے بہتر اور معیاری تعلیم کے سلسلے میں برازیل کے عوامی دانشور پائلو فریری کی کتاب ’’علم تدریس مظلوموں کے لیے‘‘ کا ترجمہ بھی کیا۔ وہ ایک بار سمندری حیات کے سلسلے میں کتاب پڑھ رہے تھے تو میں نے ان سے پوچھا کہ اس کتاب کو آپ کیوں پڑھ رہے ہیں؟ انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں مسکراہٹ کے ساتھ کہا کہ ’’یہ بہت دلچسب کتاب ہے۔ اس کتاب میں مصنف نے تحقیق کی ہے اور بتایا ہے کہ مچھلیاں کس طرح تہذیب کے ساتھ رہتی ہیں۔ سوچ رہا ہوں کہ اس کتاب کا ترجمہ کروں۔ ممکن ہے کہ ہمارے لوگ مچھلیوں سے ہی کچھ سیکھیں۔ ‘‘وہ ہمیشہ سیکھنے اور سکھانے کے لیے تیار رہتے تھے۔وہ سکھانے والے شفیق استاد عمر کا فرق ایک طرف رکھ کر نوجوانوں سے دوست بن کر ملتے اور اپنے پوتوں اور نواسوں کی عمر کے نوجوانوں کا تعارف اپنے دوست کے طور پر کرواتے اور ان کی باتیں غور سے سنتے اور انہیں مفید مشورے دیتے۔
اب وہ کہانیاں سنانے والا اور کتابیں پڑھانے والا اور تہذیب کے معیارات بتانے والا شخص اب اس دنیا میں نہیں رہا۔ وہ شخص جو سندھی ادب کے آسمان کا قطبی تارہ تھا۔ وہ رہنمائی کرنے والا ادبی استاد ایک سرکش دانشور کی حیثیت سے اس ہنس جیسا تھا جو وفا کے علامت سمجھا جاتا ہے۔ جس کے بارے میں ہندی شاعر نے لکھا ہے:
’’تال سکھے سر بیتوے ہنس کہیں نہیں جائے
پچھلی پریت کے کارنی کنکر چن چن کھائے‘‘
یعنی: اگر تالاب سوکھ بھی جاتا ہے تب بھی ہنس کہیں نہیں جاتا
وہ محبت نبھاتے ہوئے کنکریاں کھا کر گذارا کرتا ہے!!

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں