یادوں کے دریچے

نومبر کی نیم سرد شام میں جب ہر طرف خنکی ہے۔
میں ہوں پندرھویں کا چاند ہے؛ ایک کپ چائے کی بھری اور ایک خالی سامنے ہے۔ یادوں کی جھرمٹ کی حسیناؤں کی پاؤں میں زیب تن کئے پازیب کی جھنکار ہے۔
ہر چیز پر رات کی خاموش سسکیوں میں پڑنے والی اشکوں کی بھرمار ہے جو شب کے اس حصے میں نم ہونے کے ناطے “شب نم” کہلاتی ہے۔

اپنی یادوں کو پرے دھکیل کر رات کی ارمانوں کا سوچتا ہوں کہ کس نے ان کے ارمانوں کا خون کیا تو کہیں دور سے کسی کتے کی “وو….ووووو” سنائی دیتی ہے اور یادیں پوری طاقت کے ساتھ تازہ دم ہوکر یلغار کرتی ہیں۔
آس پاس کو بالکل بھلا کر اس دور میں جا پہنچتا ہوں جب جون جولائی کی گرم راتوں میں کسی عظمت کی مینار پاس ہوتی تھی؛ گھر کے سامنے “پیڈی” پر لیٹے ہوتے تھے؛ اور کہیں دور سے “اوووووو” کی آواز کانوں کو پھاڑتی ہوئی دماغ  اور دل میں اتنی زوردار انداز میں داخل ہوتی کہ چاند کے خدوخال کو پرکھتے آنکھوں کو کچھ دیر کیلئے کچھ نہیں دکھائی دے رہا ہوتا ۔


اسی دوران “لومڑی” کی بھی آواز گونجتی اور مرغا مرغیوں کی غم خواری کرتے ہوئے اپنے اوسان بحال کرکے پاس لیٹے نفس کی کان میں سرگوشی کرتے کہ یہ لومڑی کی آواز تھی؛ بڑے ہونے کے ناطے یہ ہمارا فرض منصبی ہوتا۔ سینہ پھیلائے کسی ننے پہلوان کی طرح ستاروں اور چاند کو تکتے جب ایک بار پھر “کوووو” کی آواز آتی تو بالکل ہماری نفس کی طرح لومڑی کی آواز بھی کچھ دیر کے لئے رک جاتی۔
بڑی مشکل سے پوچھ لیتے کہ آواز کس چیز کی ہے؟ “اما۔۔۔۔!!”
دنیا جہاں کی اعتماد کو سموئے ہوئے آواز آتی کچھ نہیں بیٹا۔ سوجاؤ۔

آج جب میں ہوں؛ چاند ہے؛ نومبر کی نیم سرد رات ہے؛ شبنم کا  حسن ہے؛ تو بچپن زندگی کے اس سفر میں کہیں کھوگیا ہے۔
اور وہ عظیم پہلو جس میں جنت کا  سا  سکون تھا  جنت کو سدھار گئی ہے۔
خاموش نگاہوں سے ایک بار پھر چاند کی خدوخال جانچ رہا ہوں۔ آنکھیں شبنم کی مانند بھیگی ہیں۔
شکوے شکایتیں ہیں؛ مگر چاند دور اور رات خاموش ہے۔ یہی کچھ سوچ رہا ہوتا ہوں تو کہیں دور سے آواز آتی ہے۔
“وووووووو……وو…….وو”

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں