اللہ پر بھروسہ

فردوس مارکیٹ کے سٹاپ پر بس کے انتظار میں خاصی دیری ہو گئ تو میں نے سوچا رکشہ کر لیتی ہوں۔
مہینے کی آخری تاریخوں میں صرف بس کے کرایے سے پیسے ہی پرس میں رکھے ہوتے تھے ۔۔
میں نے سوچا اللہ پر توکل کرکے آج رکشہ سے جاتی ہوں کل کی کل دیکھیں گے۔۔
رکشہ والے اس وقت فردوس مارکیٹ سے 150 سے کم پیسوں میں کسی صورت نا جاتے تھے میرے گھر تک۔۔
اور میرے پاس 100 روپے اضافی تھے
میں کبھی سٹاپ پر رکے رکشہ سے سفر نہیں کرتی یہ لوگ ہمیشہ ڈبل سے بھی زیادہ پیسوں کا تقاضہ کرتے ہیں اور پسنجر جب انہیں چھوڑ کر اگلے رکشے کی طرف جاتے ہیں تو میں نے کبھی انکے چہرے پر مایوسی یا  پریشانی نہیں دیکھی۔۔۔کبھی کبھی لگتا ہے جیسے یہ لوگ خود ہی چاہتے ہیں کہ جانا نا پڑے۔۔ جبھی منہ پھاڑ کر اتنے پیسوں کا تقاضہ کرتے ہیں کہ دل چاہتا ہے رکشہ سمیت انہیں آگ لگا دی جائے۔۔
بہرحال بات یہ کہ میں چلتے رکشے کو جو خالی ہوں ترجیح دیتی ہوں ۔ یہ عام طور پر جلدی میں بھی ہوتے ہیں اور اکثر و بیشتر اسی راستے سے گزرتے ہیں جہاں ہمارا جانا بھی مقصود ہوتا ہے
لہذا کرایہ پر زیادہ چوں چراں نہیں کرتے ۔۔
ایسے ہی میں زرا عمر میں ضغیف افراد کو بھی ترجیح دیتی ہوں ورنہ کم عمر اور نوجوانوں کے تو اپنے سٹائل ختم ہونے میں نہیں آتے کچھ نوجوان رکشہ ڈرائیور تو بہانے بہانے سے بات کرنے کی کوشش کرتے ہیں کچھ رکشہ آہستہ آہستہ چلاتے ہیں جیسے یہ جناح گارڈن کی سیر پر نکلے ہیں۔۔۔اور انہیں کہنا پڑتا ہے کہ مجھے جلدی ہے ذرا جلدی پہنچا دیجئے۔۔۔۔
کچھ اسی قسم کے نمونے ڈرائیوررکشہ کو ہوائی جہاز بنا لیتے ہیں اور نا خراب روڑ دیکھتے ہیں نا خطرنآک ٹریفک ۔۔ گولی کی سی سپیڈ میں کھڈوں میں مارتے ہوئے رکشہ چلاتے ہیں کہ تھوڑی دیر کے لئے گماں ہوتا ہے کہ یا تو ہم کسی فلم کا سین ریکآرڈ کروا رہے ہیں یا پھر پولیس ہمارے پیچھے لگی ہے۔
مجبوراً ان سے بھی کہنا پڑتا ہے کہ آرام سے اور دھیان سے اتنی بھی جلدی کیا ہے۔ جان ہے تو جہان ہے.
کچھ رکشہ والے انتہائی مہذبانہ انداز میں بات چیت کرتے ہیں جو کرایہ آپکو مناسب لگے اس پر مسکرا کر مان جاتے ہیں زیادہ بحث نہیں کرتے اور اترتے ہوئے اکثر اپنا نمبر دے جاتے ہیں کہ آئیندہ ضرورت ہو تو کال کر لجئے گا میں پاس میں ہی رکشہ چلاتا ہوں ۔۔جب آپ کہیں گی میں آجاؤں گا۔۔
خیر جو لوگ رکشہ سے سفر کرتے ہیں انہیں ان ساری باتوں کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے ۔۔۔اور وہ رکشہ ڈرائیور سے ڈیلنگ کرنا جانتے ہیں۔۔
واپس فردوس مارکیٹ کے سٹاپ پر آجائیں ۔۔
میں نے ایک انکل نما رکشہ ڈرائیور جو اپنے راستے پر تھا کو اشارہ دیا اور وہ رک گیا اس وقت میری عمر 20 کے قریب تھی ۔۔ اور زیادہ تر بڑی عمر کے افراد بیٹی سمجھ کر ایسی سواریوں کو فوقیت دیتے ہیں ۔۔۔
یہ بیچارے انکل بھی رکے میں نے مطلوبہ سٹاپ کرایہ پوچھا اور انہوں نے کم سے کم وہی 150 بول دیا۔۔۔ (کریم۔ اور اوبر ٹیکسی کے بعد اب یہ مسئلہ بھی ختم ہو گیا ورنہ بارگینگ پر اچھا خاصا وقت صرف ہو جاتا تھا )
خیر میں نے کہا میرے پاس 100 روپے ہیں اور اگر آپ چاہیں تو رستے سے کسی بھی سواری میل فی میل کو بٹھا سکتے ہیں لیکن رستہ ایک ہو بشرط۔ ورنہ میں پہلے ہی کافی دیر سے جا رہی ہوں تو مزید سفر زیادہ دیری کی وجہ بن سکتا ہے۔۔
وہ مان گئے کیونکہ میرے گھر سے انہیں آگے 2 کلومیٹر جانا تھا وہاں ایک کالونی میں یہ رہتے تھے ۔۔ اور کھانا گھر سے کھانے کے بعد انہیں وہاں سے کسی سواری کو لیکر واپس آنا تھا ۔۔ یہ انہوں نے مجھے راستے میں بتایا ۔۔۔
وہ اس بات سے بہت خوش تھے کہ میں نے انہیں کسی اور سواری کو بٹھانے کی اجازت دی اور اس طرح وہ چاہتے تو جتنے مرضی پیسے مزید وصول کر سکتے تھے۔ وہ شاید مجھے بھی لے ہی جاتے کیونکہ انکا گھر جانا ضروری تھا اور اگر کوئی سواری نا بھی ملتی تو خالی رکشہ ہی لیکر جانا پڑنا تھا۔۔
کلمہ چوک سے اس وقت مآڈل ٹاؤن جانے والے راستے پر نا ہی میٹرو ٹریک تھا نا ہی موجودہ روٹ۔ لہذا وہ ماڈل ٹاؤن کے راستے نکل آئے اور میرے کہنے کے باوجود کہ سواری مرد عورت کوئی بھی وہ بٹھا سکتے ہیں انہوں نے پھر بھی وہاں ایک برقعہ والی عورت سے کہا کہ ایک سواری بیٹھی ہے اگر آپ چاہیں تو میں آپکو کم پیسوں میں آنے والے راستے میں آپکے سٹاپ تک پہنچا سکتا ہوں ۔۔۔ وہ خاتون بیٹھ گئیں اور مطلوبہ سٹاپ آنے پر آتر گئیں۔۔
خاتون نے پوچھا کتنے پیسے؟
رکشہ ڈرائیور نے کہا جو آپ چاہیں,
خاتون نے 50 روپے کی ادائیگی کی اور روانہ ہوئی۔۔
رکشہ سٹارٹ کرتے ہوئے وہ بولا میں نے آپ سے جتنے پیسے مانگے مجھے اتنے ہی ملے۔۔
وہ کآفی خوش نظر آ رہآ تھا ۔۔ لیکن وھ بار بار یہی دہرا رہا تھا ۔۔۔
کہ میں نے جتنے پیسے کہے مجھے اتنے مل گئے ۔۔
میں نے اس وقت سوچا انسان اللہ سے جو مانگے گا جتنا سوچ کر نکلے گا یا جتنے کا تقاضہ کریگا وہ بیشک اتنا ہی پائیگا ۔۔۔

اب یہ انسان پر منحصر ہے وہ کیا چاہتا ھے اور کتنا چاہتا ہے۔ آپ نے مجھ سے جتنے پیسے مانگے اللہ نے آپکو اتنے ہی آپکے ایک ہی سفر میں آپکو دے دیئے۔۔۔
اور وہ بھی یہی کہتا رہا  کہ میں نے جتنے مانگے اتنے مل گئے۔۔ اسکا وہ پرمسرت چہرہ 12, 13 سال بعد بھی مجھے یاد ہے ۔۔۔ اس نے میری مدد کی تھی اور میں نے اسکے بدلے اسے حق دیا کہ وہ مزید سواری بٹھا کر مزید کرایہ وصول کر سکتا ہے۔

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں