الا بلا

زندگی کی چند مشکل ترین چیزوں میں سے ایک توازن کا حصول ہے۔ اول تو یہی الجھن رہی کہ یہ توازن ہے کس بلا کا نام؟
عموما اس کی ضرورت اس وقت پڑتی ہے، جب زندگی کی نت نئی فرمائشوں اور ضروریات کو پورا کرتے کرتے بدن کے ساتھ روح بھی تھکنے لگتی ہے۔ پھر بندہ سوچتا ہے کہ کیا کم کرے، کسے چھوڑے اور کسے جاری رکھے؟ ھزارہا زمہ داریاں، پھر دل ناداں کے اپنے شوق اور فرمائشیں، خواب دیکھنا اور ان کی تعبیریں بننا۔ عشق اور کام، کام کا عشق ، کیا ضروری ہے اور کیا غیر ضروری؟ ضروری میں سے بھی کیا زیادہ ضروری ہے اور کیا کم ضروری؟
آج کا پکانا، کیلگری کے موسم کی طرح بے اعتبار جاب شفٹس، بچوں کے ہوم ورکس، شہزادی کی آنکھوں میں آنسوں کیوں تھے، شہزادے ایک دوجے کو غصہ سے کیوں دیکھ رہے تھے؟ آج کل جو ناول آپ لوگ پڑھ رہے ہیں، اس کا مرکزی خیال اور خلاصہ کیا تھا؟ سورہ انشقاق میں جو یہ فرمایا ہے کہ “اے انسان ! تو کشاں کشاں اپنے رب کی طرف بڑھا جا رہا ہے” اس سے کیا مراد ہے؟ کل سکول لنچ کے لیے کیا لے جانا ہے؟ ہر وقت ہر چیز کے طلب کیے جانے پر مل جانے کے نقصانات، ابو امی اج کل اتنی محنت کیوں کر رہے ہیں؟ ان سب موضوعات پرتبادلہ خیال کے لیے وقت نکالنا، آئے روزکسی نہ کسی قسم کے کاغذات کی تیاری، امی سے باتیں، ابو کودھوپ سے لطف اندوز ھونے کے لیے تیار کرنا، امتحانات کی تیاری، سرہانے رکھے قرآن کریم پر حاشیے لکھنا، دس طرح کی رضاکارنہ سرگرمیاں، نائٹ سٹینڈ کی دراز میں رکھی تازہ خریدی “سلماریلیون” اور “دا پکچر آف ڈورین گرے” کے کسی نہ کسی طرح چار صفحات پڑھ لینے کو ممکن بنانے کی کوشش، ڈاونلوڈ کی گئی کتب پر نظریں دوڑانا، “ان” سے دل لگی اور جھگڑنے کے معمولات کو مذہبی باقاعدگی سے ادا کرنا، دوستوں اور رشتے داروں سے علیک سلیک ۔ ان سب کے بیچ اپنی “ناآسودہ خواہشات” کی تسکین کے لیے چپکے سے آنکھیں بند کر کے کچھ رومانی خواب دیکھنے کی عادت کی مجبوری۔
اور نہ جانے کیا کیا! ان سب میں سے کس کو کم کیا جائے کہ “توازن” کا حصول ممکن ہو سکے؟
سوچتے ہیں کہ توازن شاید اس آئیڈیل صورتحال کا نام ہوتا ہے جس میں خواتین ایک دوجے سے کہتی ہیں کہ ملنے ہی آجایا کرو۔ دن اتنا لمبا ہوتا ہے کہ سمجھ نہیں اتا کہ گزارا کیسے جائے؟
یا کبھی اس قدر فراغت ممکن ہوتی ہو گی کہ انسانوں کی دنیا سے دور کسی پہاڑی جنگل کے ایک چھوٹے سے کیبن میں کچھ دن ان کے ساتھ تنہا گزارنے کی عیاشی کے لیے وقت میسر ہوسکےگا۔ یا لایبریری میں بیٹھ کر کم از کم ایک کتاب سکون سے پڑھی جا سکے گی۔ سب کام اس طرح ہو جایا کریں کہ گاڑی تیزی سے نکال کر بھگانے کی کوشش میں ٹریفک دیکھ کر پارہ ہائی نہ ہوتا ہو۔ اورہر دن اپنا کیلنڈر نہ چیک کرنا پڑتا ہوکہ کل، اگلے ہفتے، اگلے ماہ اور اگلے سال کے اھداف چیک کیے جاسکیں۔
کچھ بزرجمہر اور چاہنے والے کہتے ہیں کہ کچھ کم کیجے، “نہ” کہنا سیکھیے اور اس کی باقاعدہ عادت ڈالیں۔ ہم پوچھتے ہیں کہ کیا کم کریں؟ کہیں انگلی رکھ دیجیے تاکہ آسانی ہو!
مشورہ یہ بھی ہے کہ خود کو منظم کیجے، کیلنڈر بنائیے، کاموں کو بروقت کیجے، وقت ضائع کرنے سے پرہیز کیجے۔ عرض ہے کہ یہ سب بھی مستقل مشین کی طرح یکے بعد دیگرے کاموں میں لگائے رکھنے کی سازش ہے۔ دوسرا مسئلہ یہ کہ اگر کاموں کے بیچ کہیں کہیں وقت “ضائع” نہ کیا جائے تو دم گھٹنے لگے گا۔ انسان فارغ بھی بیٹھتا ہے۔ اور کبھی کبھی دیر سویر بھی کرنا اسے انسان بنائے رکھنے کے لیے ضروری ہے۔
تو پھر توازن کیا ہو؟
اس بار جب “رومانی خواب” دیکھنے کے لیے انکھیں موندیں ، تو ایک بازیگر کسی راہ دکھانے والے بابا جی کی طرح ملگجے اندھیرے کی چادر سے نمودار ہوا۔ دو اونچے بانسوں کے درمیان تنے رسے پر ایک پہیے والی سائیکل چلاتا ہوا اور چھ گیندوں کو “بیلنس” کرتا بازیگر۔ رنگین پھندنے والی ٹوپی کے نیچے سے جھانک کر دیکھا اور گیندیں اچھالتے ہوا بولا : “جن کے قدموں کو زمیں نے تھاما ہوا ہے، اور وہ دو چار تھیلے سنبھالے خراماں خراماں چلے جارہے ہیں۔ ان سے توازن کا کیا پوچھنا! توازن بس یہ ہے کہ ہوا میں معلق رسے پر پائوں سنبھال کر اس طرح بڑھتے جاو کہ گیندیں نہ گرنے پائیں۔ گر جائیں تو کھیل دوبارہ شروع کرو۔ اور ہاں ! یا تو باغ میں چہل قدمی کرنے والوں کو دیکھ ٹھنڈی اہیں نہ بھرو یا کوئی اور کام تلاش کرو۔”
آنکھیں کھولیں، تو “انہوں” نے پوچھا : ” پھر کیا طے پایا؟”
ہم نے”بازیگر بابا جی” کی عقیدت سے سرشار لہجے میں جواب دیا: “ایسے ہی چلنے دیا جائے! ہاں ہاں جب جب موقع ملے۔۔۔ وقت “ضائع” کرنے سے نہ چوکا جائے!”
“انہوں” نے بیزاری سے جواب دیا: “اسی لیے ان رومانی خوابوں کے دیکھنے کے خلاف ہوں!”

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں