بے حجابانہ معاشرے میں خوداحتسابی ضروری

خالہ جان نے میری بڑی بیٹی کے جملے پر چونک.کر پیچھے دیکھا اور دیکھتی رہ گئیں….مجھے احساس ہوگیا تھا کہ وہ کس بات پر حیران ہوئی ہیں اور میں اپنے آپ میں کافی شرمندہ سی بھی ہورہی تھی….
خالہ جان سینئیر جماعتی خاتون تھیں کراچی سے جب بھی لاہور تشریف لاتیں ہمارے ہاں رونق افروز ہوتیں کبھی محسوس نہ ہوا کہ مہمان ہیں…ایسے گھل مل جایا کرتیں
انکے ساتھ ہم انارکلی فوڈ اسٹریٹ گئے تھے…..میرا ڈیڑھ سال کا بیٹا ….چلتے چلتےپتھر سے ٹھوکر لگی تو ساڑھے تین سال کی بیٹی کے منہ سے جو جملہ سن کر خالہ جان چونکی تھیں وہ تھا
“میرے چندا میری جان دھیان سے چلو “……..
ایک دور تھا کہ جہاں خواتین موجود ہوتیں محفل یا نشست یا کوئی بھی فورم تو مرد حضرات ادب آداب ملحوظ خاطر رکھتے تھے اور مرد آپس میں بھی گفتگو میں احتیاط پیش نظر رکھتے تھے۔
جدیدیت اور غیروں سے مانگی تہذیب نے، کو ایجوکیش اور دفاتر میں مخلوط ماحول نے حالات یہ کردئیے ہیں کہ مرد آپس میں بھی زبان و کلام کی احتیاط نہیں رکھتے اور خواتین سے انداز تخاطب بے تکلفی یا سافٹ امیج ظاہر کرتے کرتے بے احتیاطی کر بیٹھتے ہیں۔
ایسا ہی خواتین کی جانب بھی ہوا…..کو ایجوکیش اور مخلوط ماحول کے دفاتر نے مردوں سے بلاوجہ گفتگو کو معیوب نہ رہنے دیا….خود کو خود مختار اور مضبوط دکھانے کی خوش فہمی نے حجابانہ گفتگو کی احتیاط کہیں پیچھے چھوڑ دی……
سوشل میڈیا نے جلتی پر تیل کا کام کیا…….
اب حال یہ ہے کہ آج کی نئی نسل کو اگر ہم محتاط گفتگو کی جانب متوجہ کریں تو وہ ہمارا منہ دیکھتی ہے کہ کیسی عجیب بات کررہے ہیں ہم…..
اور ہم بھی اس جدت کے طوفان میں ایسے بہتے چلے جاتے ہیں کہ ایسے الفاظ جن کی ہمیں قطعا عادت نہ تھی وہ لبوں سے رواں ہوجاتے ہیں…….بعد میں خیال آتا ھے کہ یہ زبان سے پھسل چکا ہے۔
یہ سوچے سمجھے بنا کہ ہم خواتین آپس میں بھی گفتگو کررہی ہیں اور بے حجابانہ سنسرڈ الفاظ کا یہ سوچے سمجھے بنا استعمال کررہی ہیں کہ سوشل میڈیا پر دیگر مرد بھی یہ سب سن رہے ہوں گے تو……
اسی طرح “اسمائلیز” کے استعمال میں بھی شئیرنگ کرتے ہم یہ احتیاط بھول جاتے ہیں کہ کونسی کی جاسکتی ہے اور کون سی نہیں!!”””
اسلام نے محفل کے آداب اور خانگی زندگی میں جو ہدایات دی ہیں ہمارے اکابر انہی پر عمل کیا کرتے، نتیجتا ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے بچپن میں فیملی لائف ایک تربوز اکٹھے بیٹھ کر کھانے کو بھی خوشگوار بنادیتی تھی جبکہ آج ہم ہزاروں ہوٹلنگ پر لٹا کر بھی وہ لطف حاصل کرنے میں ناکام ہیں۔
زبان و کلام کا مہذب ہونا اور پبلک و خانگی ماحول کا لحاظ رکھنا دراصل ہماری تہذیب تھی…..
لفظ “محبت” تک.کے استعمال پر ہماری پچھلی نسل عموما جھجھکتی تھی اور آج بات بات پر ہر ایک دوسرے کو “لو یو” کہنا عام ہوگیا ہے۔
جزاک اللہ، الحمدللہ، سبحان اللہ، حسبی اللہ، استغفراللہ…ایک دوسرے کو بہن کہہ کر مخاطب کرنا شاید اولڈ فیشن ہوتا جارہا ہے۔
بے حجابانہ الفاظ کے غیر ضروری اور بے جا استعمال نے ان کے جائز مقام پر اصل لطف تک کھودیا ہے….
اللہ تعالیٰ اللہ جی…اللہ میاں کے بجائے اللہ ربّی ….اگرچہ کہنے میں قطعا قطعا حرج نہیں اللہ کو تو ہم ہر طرح سے مخاطب کرسکتے ہین لیکن کیا ضروری ہے کہ جیسے ہم تنہائی میں اللہ کو مخاطب کرتے ہیں ویسے پبلک میں بھی.کریں…خرم مراد صاحب کی مناجات مقبول پڑھیں…..یہ سارے گڑگڑاوے یہ ساری عرضیاں پیارے پیارے تخاطب تنہائی میں اپنے اور رب کے راز و نیاز تھی۔
مگر جب ہم ان کو پبلک میں بولتے ہیں تو کہیں پیچھے چھپا ایک جذبہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ.لوگ جان سکیں ہم کتنے سافٹ اسپوکن ہیں…….
شاید کہ میں کچھ سخت بات کرجاؤں لیکن کیا بطور مسلم خاتون بالخصوص ضروری ہے کہ میں اپنا “سافٹ اسپوکن” ہونا پبلک میں ظاہر کروں؟؟؟
اور اسی طرح کیا یہ ضروری ہے کہ بطور مرد ہوتے میں خود کو جدت کا علمبرادر اور مضبوط کردار ثابت کرتے عورتوں کی موجودگی میں بھی زبان و کلام کی احتیاط نہ.کروں…….
اور گالیوں سمیت ذومعنی الفاظ کا استعمال کرنے میں جھجھک ختم.کردی جائے…..ایسے الفاظ جو شرم و حیا کے دائرے سے بھی نکلتے محسوس ہوں.اسی طرح خواتین کو مخاطب کرتے چٹکلے چھوڑے جانا۔۔

تازہ مثال ….اسپورٹس نیوز رپورٹر زینب عباس کی سیلفیز پر ہمارے تحریکی مردوں کے کمنٹس دیکھے جاسکتے ہیں…اسی طرح مریم نواز، جمائما، ریحام خان سمیت خواتین پر طنز چٹکلے چھوڑنا کبھی بھی تحریکی مزاج نہیں رہا.
اپنے پاؤں بجاتی زمین پر نہ چلو
خوشبو لگا کر باہر نہ.جاؤ
بجتا ہوا زیور نہ پہنو
ایسی آواز لجا کر نہ بولو کہ دوسرے کے دل میں کچھ غلط خیال آئے
اور پھر مردوں کے لئے یہ کہ
اپنی.نگاہیں نیچی رکھو…..
یہ.سب کیا صرف نقاب اور داڑھی تک محدود ہے یا وہ ماحول ہے جو اسلام اپنے پیروکاروں کو تعمیر کرنے کا حکم.دیتا ہے……
ہر ہر ادا کئے گئے لفظ…..ہر ہر جملے کی ہمیں ایک دن اللہ کے ہاں جوابدہی کرنی ہے…..کیا نظر اٹھا کر اس سوال کا جواب دے سکیں گے کہ فلاں لفظ فلاں جملہ بلاضرورت کیوں بولا گیا ؟؟؟
قارئین …جدید دور کی اس سخت آزمائش سے شاید میں خود بھی اپنا دامن بچا نہیں پاتی……
مگر کبھی کبھی کٹہرے میں خود کو کھڑا کر کے اپنے سب خیر خواہوں کو متوجہ کرنے کو بھی دل کرتا ہے۔
خود احتسابی کے آئینے میں اپنی ذات سے لے کر معاشرے میں جہاں جہاں جھول نظر آتے ہیں اس سے ایک دوسرے کو خبردار کرنے کی اشد ضرورت ہے……
جدت پسند اور ترقی یافتہ ہونےکے لئے اپنے زبان و کلام کو غیروں کی نقالی میں ارزاں کرنے کی چنداں ضرورت نہیں ہے………
امت مسلمہ اوج ثریا پر صرف اپنی مہذبانہ اقدار و روایات کے ذریعے ہی پہنچ سکتی ہے۔ دجالی دور کے اس چکا چوند طوفان بلاخیز میں اپنی بنیاد کو ہمیں ایک دوسرے کو یاد دلاتے رہنا چاہئے۔

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں