بوڑھے برگد کی التجا

میں ایک برگد کا درخت ہوں ….

میری عمر تقریباً ڈيڑھ دو سو، سال ہے میں جہاں اج اکیلا کھڑا ہوں.. میں ایسے اکیلا نہ تھا… صدیوں پہلے ایک دنیا آباد تھی میرے اردگرد.. یہ جو تمہیں بنجر اور خشک زمینیں نظر آ رہی ہیں یہ بھی ایسی نہ تھیں کبھی، بہت آباد و شاداب تھیں… وہ جو دور تمہیں ریت کے ٹیلے نظر اتے ہیں کبھی وہاں دریا بہتا تھا…
ہزاروں قافلے اور مسافر میری چھائوں میں اکر سستائے ہیں…
کتنی ڈولیاں کہاروں نے اکر میرے پہلو میں سستانے کو اتاری ہیں…
گرمیوں کی شدت میں بوڑھے بچے جوان میرے سائے تلے جمح ہوتے… بچے کھیلتے.. بوڑھے حقہ پیتے ہوئےپرانے وقتوں کے قصے دوہراتے …جوان اپنے اپنے محبوب کا نام سب سے چھپ کر میری کسی شاخ پر کندھ کرتے… انسان تو انسان جانور بھی کھا پی کر میرے سایے تلے ہی جگالی کرتے..

یہ سب دیکھ کر میں ہوا کے سنگ جھوم جھوم جاتا..
میری چھاؤں اور ٹھنڈی ٹھنڈی اور ميٹھی ہو جاتی..
پھر ایک دن قدرت خدا کی ہوئی اور میرے پہلو، سے ایک چشمہ پھوٹا گاوں کی ناریاں آکر وہاں سے پانی بھرتیں کپڑے دھوتیں اور نہاتیں ..مائیں جب کپڑے دھو رہیں ہوتیں تو بچیاں بالیاں میری ٹہنیوں سے لپٹ کر جھولے لیتیں… ایسے میں جھوم جھوم جاتا… میرا قبیلہ مجھ پر رشک کرتا.. میں جتنا بوڑھا اور پرانا ہوتا گیا. میرے سائے میں لوگوں کا ہجوم بڑھتا گیا…

پھر نجانے ایک دن کیا ہوا دور سے دھواں سا اٹھتا نظر ایا. میں بہت پریشان تھا گاؤں کی صاف ستھری فضا میں دھواں.. کچھ اچھا نہیں معلوم پڑتا تھا… ایک دن کچھ بوڑھوں کو میں نے کہتے سنا گاوں ترقی کرنے لگا ہے گاوں میں بجلی بھی آ گئی ہے اور فیکڑی بھی لگ گئی ہے…
نجانے یہ فیکڑی اور بجلی کیا بلائیں تھیں جس نے اہستہ آہستہ لوگوں کو میرے پاس آنے سے روک دیا..، سب سے پہلے جوان گئے، پھر بچے اور عورتین بھی۔۔ سنا تھا گاوں میں کنواں اور بجلی سے چلنے والی موٹر لگ گئی تھی …
میری اخری امید وہ بوڑھے تھے جو گپیں لگاتے اور حقہ پیتے تھے.. یا پھر نیند کے مزے لوٹتے تھے… پھر ایک دن وہ بھی آنا چھوڑ گئے… کیونکہ ہر گھر میں پنکھا اور ٹی وی آ گئے تھے..
بوڑھے بھی اب گھروں میں مقید ہو کر ٹی وی دیکھتے اور پنکھے کی ہوا لگاتے ہیں۔۔ اور بہت ساری بیماریاں جو اچانک آ گئی تھیں انکی دوائیں کھاتے.
لیکن میں پھر بھی خوش تھا کوئی بھولا بھٹکا مسافر میری چھاوں میں سستانے آ ہی جاتا.. اور اپنے دل کی باتیں مجھے بتاتا میں سن کر اس پر اور بھی ٹھنڈی چھائوں برستا…
غضب تو تب ہوا جب ترقی کے نام پر میرے سارے قبیلے کو کاٹ دیا گیا جہاں کبھی جھنڈ کے جھنڈ ہوا کرتے تھے وہاں اب سوکھی گھاس اور درختوں کی باقیات پڑی ہیں…
بارشیں بھی اس دھرتی سے روٹھ گئی ہیں..
بارش نہ ہونے سے زمیں بنجر ہو گئی ہے…
دریا نے بھی اپنا رخ موڑ لیا ہے جو ہمشہ بھرا بھرا رہتا تھا اب سوکھ گیا ہے…
انسان نے بہت ترقی کر لی ہے سنا ہے اب ہر کام مشینیں کرتی ہیں.. انسان بس راج کرتے ہیں… مشینوں سے نکلنے والا دھواں جو کبھی ہم اپنے وجود پہ سہتے تھے اب انسان سہتا ہے… اور طرح طرح کی بیماریوں میں جکڑا رہتا ہے..
میری شاخیں بھی اب سوکھنے لگی ہیں پتے جھڑ گئے ہیں۔۔
جڑيں بھی شاید کمزور ہو گئی ہیں… میں جو اپنے وجود پہ زہریلی اور تباہ کن گیسسز لیتا ہوں اور اس کے نتیجے میں انسان کو صاف ستھری آکسیجن دیتا ہوں، سوچتا اگر انسان نے اور درخت نہ لگائے تو میرے بعد اس زمیں کا کیا ہو گا۔۔ اگر یونہی فضا زہریلے مادوں سے بھرتی رہی توانسان زندہ کیسے رہ پائے گا… پھر شاید ہم جو صاف ستھری آکسیجن مفت میں دیتے تھے انسان کو ہزاروں روپے میں خریدنی پڑے.. امیر تو شاید خرید بھی لیں گے… میری دھرتی کے ان غریبوں کا کیا ہو گا جو دو وقت کی روٹی بھی مشکل سے پوری کر پاتے ہیں.. انسان یہ کیوں نہیں سمجھتے ہمارا وجود ان کی بقا کے لیے کتنا ضروری ہے…..کاش کوئی یہ بات انہیں سمجھا دے…

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں