” دو انسانوں کا ایک خدا”

تڑپتے اداس دلوں سے جھانکتا خدا ایک لمحے کے لئے جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے.

جنوبی افریقہ کے بدنام ترین گینگ “69” کے ایک ممبر سے،ڈاکومنٹری کی ریکارڈنگ کے دوران میزبان نے پوچھا ” آپ خدا کو مانتے ہیں تو کیا سمجھتے ہیں مرنے کے بعد آپ کے ساتھ کیا ہوگا؟”.. گینگسٹر جو درجنوں قتل کرنے کا اعتراف کر چکا تھا، دیگر مختلف جرائم میں سزا بھی بھگت چکا تھا، اسکے اندر کا مجرم اسی لمحے کہیں روپوش ہوگیا اور کہیں سے ایک معصوم انسان بیدار ہوگیا.

وہی انسان جو صدیوں سے بھٹک رہا ہے.

گینگسٹر، کیون بولا ” مجھے یقین ہے کہ کہ خدا مجھے معاف کر دیگا.. اسے علم ہوگا کہ میں نے جرم کیوں کئے.. کیوں وہ مجھے معاف نہیں کریگا؟ وہ تو خدا یے اسے تو معاف کرنا پڑے گا.. مجھے لگتا ہے وہ معاف کر دیگا. مجھے تو یہی امید ہے. آخر وہ اللہ ہے.”

یقین، ایمان، بے یقینی، امید اور مایوسی کے اس ملے جل رسپانس سے انسان ٹھٹھک کر رہ جاتا ہے. ایک جانب اس مجرم کا اللہ اور اسکی رحمت پر یقین مضبوط ہے تو دوسری طرف اپنے ضمیر کی کسک اسے مایوس کر رہی ہے.

یہی عین ایمان ہے. جو ایمان ایک جگہ مستحکم ہوجائے وہ ایمان نہیں اپنی پارسائی کا زعم ہے جو صرف اللہ سے براہ راست تعلق رکھنے والے کو زیب دیتا ہے.

کرشمہ دیوی گیارہ برس کی تھی جب اسے بنگال سے لاکر ممبئی کے قحبہ خانوں میں پھنک دیا گیا. مردوں کی خواہشات کی تکمیل کرتے کرتے وہ خود ایک بھولی بھٹکی خواہش بن گئی تھی. انٹرویو کرنے والے برطانیہ کے مشہور میزبان راس کیمپ نے پوچھا، جب آپ پہلی بار لائی گئیں تو اسکے بعد آپکے کیا احساسات تھے؟ اب کیا محسوس ہوتا ہے؟

یہ معصوم طوائف جب بولی تو اسکی ویران آنکھیں دیکھ کر خوف آتا تھا . ان جبلتوں کے غلاموں کی وحشت کے سامنے یہ آنکھیں کہیں زیادہ خوفناک ہیں. کرشمہ بولی ” صاحب میرا تو بچپن لے لیا مجھ سے.. مجھے تو اب کچھ محسوس نہیں ہوتا. میرے لئے تو یہ روزی روٹی ہے. لیکن مجھے اپنا بچپن یاد آتا ہے. مجھ سے میرا بچپن چھین لیا انھوں نے.. اب مجھے کچھ محسوس ہی نہیں ہوتا”.

حد ہے. یہ ظلم کی انتہا ہے. اس بیچاری کی جذباتی، نفسیاتی زندگی گیارہ برس پر ٹھہر چکی ہے. نہ اسے والدین یاد ہیں، نہ دوست یار، نہ اسے اپنی عصمت کی پرواہ، وہ مظلوم تو گیارہ برس سے آگے نہیں بڑھی. شکر ہے آگے نہیں بڑھی. لوگ اسے طوائف کہتے ہونگے، کنجری کہتے ہونگے. اگر اسکی ویران آنکھوں میں یہ سن کر بھی کچھ ارتعاش پیدا نہیں ہوتا ہوگا تو اچھا ہی ہے.

خدا تو بچوں کو معصوم کہتا ہے. بخدا ایسے معصوم بچے کو طوائف نہ کہو.

یہ خدا کے فیصلے ہیں وہی جانے. زندگی بہت رچ اور بہت گرے ہے. ہم نعوذ باللہ خدا کو بھی اپنی پارسائی کے سامنے گناہگار سمجھتے ہیں. ہم پاکیزگی کی اس مسند پر بیٹھ جاتے ہیں جہاں ہم میں سے کچھ اس جنت میں جانے سے انکاری ہوجاتے ہیں جس میں ڈاکٹر روتھ فاؤ اور ضیاء الحق اگر گئے تو پارسا کہتے ہیں ہم نہیں جائیں گے. ہم نہیں مانتے.

خداؤں کے دیس میں خدا نہیں ملتا.

شیئرکریں
mm
ثاقب ملک ٹی ٹی آئی کے اعزازی لکھاری ہیں۔ ان سے فیس بک کے ذریعے رابطہ کیا جاسکتا ہے

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں