آپ اکیلے نہیں، خدا بہت قریب ہے۔۔

حضرت انسان اپنی تخلیق سے لیکر آج تک صرف اسی خوف میں مبتلا ہے کہ کیا وہ اکیلا ہے ؟
جب حضرت آدم علیہ السلام کے جسم میں روح کو اترنے کا حکم ہوا تو اندر داخل ہوتے ہی روح گھبرا گئی کہ کیا وہ اس کھوکلے جسم میں اکیلے رہے گی ؟ اور جب جسم اور روح کے ملاپ سے انسان بنا تو اس نے یہی سوچا کہ کیا وہ اکیلا رہے گا ؟ لہٰذا بی بی حوا کو پیدا کیا گیا اور جب بابا آدم اور اماں حوا کا جوڑا زمین پر اتارا گیا تو انہیں یہی خوف لاحق ہوا کہ کیا اتنی بڑی زمین پر ہم اکیلے ہوں گے ؟
لہذا الله کے حکم سے انھوں نے اپنی نسل بڑھانا شروع کی ، یعنی اپنی تخلیق سے لے کر آج دن تک انسان کی جتنی بھی کھوج ہے وہ صرف اور صرف اپنا یہ اندیشہ ، خدشہ یا اس خوف سے لڑنے کی ہے کہ “کیا ہم اکیلے ہیں” ؟
جب نسل بابا آدم زمین پر پھیل گئی تو انسان نے پہلے اپنی نسل کو تلاش کرنا شروع کیا ، جنگلوں ، صحراؤں ، پہاڑوں میں اپنی نسل ڈھونڈی اور جب یہ تلاش مکمل ہوئی تو جنگل کے اوپر جانوروں کو تلاش کرنا شروع کیا ، ان جانوروں کو بھی تلاش کیا جو انسان کے زمین پر آنے سے قبل ہی معدوم ہو چکے تھے ، حشرات العرض اور پرندوں کو تلاش کیا ، اور پھر یہی تلاش اسے دریاؤں اور سمندروں کی تہ تک لے گئی .
پھر ایک دن آیا جب انسان کی سوچ کا دائرہ وسیع ہوا تو اسے ایک نیا خوف لاحق ہوگیا کہ کہیں ہم اس کائنات میں اکیلے تو نہیں ؟ یہ خوف اسے دنیا کے مدار سے باہر لے گیا ، چاند پر پہنچا مریخ کی خاک چھانی اور اب تک اس شوق / خوف یا جستجو سے باز نہیں آیا ہے . یعنی انسان کی فطری تلاش اس وقت تک ختم نہیں ہوتی اور وہ اس وقت تک پرسکون نہیں ہوسکتا جب تک اسے یہ احساس نا ہوجائے کہ وہ اکیلا نہیں ہے . کچھ حضرات کو اندھیرے سے ڈر لگتا ہے اور کچھ کو جن بھوت بلاؤں سے ، پر در حقیقت ان کا خوف محض تنہائی ہوتی ہے جسے وہ مختلف نام دے دیتے ہیں ، اگر آپ کسی اندھیرے سے ڈرنے والے شخص کو یہ بتا دیں کہ کمرے میں دو اور لوگ بھی موجود ہیں تو اس کا ڈر فوری ختم ہوجائے گا ، چاہے کوئی جگہ کتنی ہی ویران کیوں نا ہو اگر آپکے ساتھ کوئی دوسرا ہمسفر بھی ہے تو آپکے دل پر کوئی انجانا خوف نا ہوگا .

اس خوف یا تلاش سے سکوں پانے کا حل کیا ہے ؟
بے شک اس کا جواب وہی ذات بہتر جانتی ہے جس نے حضرت انسان کو تخلیق کیا ہے ، ایجاد یا تخلیق کوئی بھی ہو اس کی ہر کمزوری اور طاقت کو صرف وہی ذات جان سکتی ہے جو اس کا خالق ہو . لہٰذا قرآن پاک میں انسانوں سمیت تمام کائنات کا خالق الله پاک فرماتا ہے

﴿ وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ ﴾ …
’’اور اے نبیﷺ، میرے بندے اگر تم سے میرے متعلق پوچھیں، تو اُنہیں بتا دو کہ میں ان سے قریب ہی ہوں، پکارنے والا جب مجھے پکارتا ہے میں اُس کی پکار سنتا اور جواب دیتا ہوں۔ ” سورة البقرة: 186

﴿ هُوَ أَنشَأَكُم مِّنَ الْأَرْضِ وَاسْتَعْمَرَكُمْ فِيهَا فَاسْتَغْفِرُوهُ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ إِنَّ رَبِّي قَرِيبٌ مُّجِيبٌ ﴾ … ’’وہی ہے جس نے تم کو زمین سے پیدا کیا ہے اور یہاں تم کو بسایا ہے لہٰذا تم اس سے معافی چاہو اور اس کی طرف پلٹ آؤ، یقیناً میرا رب قریب ہے اور وہ دعاؤں کا جواب دینے والا ہے۔ سورة هود: 61

بلکہ اللہ تعالیٰ نے تو یہ کہہ کر بات ہی ختم فرما دی
﴿ وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ ﴾ … کہ’’ہم اس (انسان) کی رگِ گردن سے بھی زیادہ اُس سے قریب ہیں ۔ سورة ق:16

صرف اسلام اور قرآن پاک ہی نہیں بلکہ جتنی الہامی کتابوں کا مطالعہ کرلیں ، الله پاک کی ذات حضرت انسان کو اسکے سب سے بڑے خوف سے آزادی دلانے کا احساس دلاتے ہوئے مختلف انداز میں بتا رہا ہے کہ تم تنہا نہیں ہو ، میں تمہارے قریب ہوں !!
یعنی ہر وہ شخص جو خدا کے کلام کو سمجھ لے وہ پرسکون ہوجاتا ہے ، چونکہ انسان کے جسم میں موجود روح اپنے اصل خالق کو جانتی ہے ، یہ تو جسم ہے جو اس قربت کو پہچان نہیں پاتا ہے.
اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ جن تک خدا کا پیغام نہیں پہنچا وہ کیا کرتے ہیں ؟

جناب تلاش وہ بھی خدا کو ہی کرتے ہیں ، امریکہ میں جب انسان تلاش کئے گئے تو وہ جنگلوں میں قبیلے بنا کر رہتے تھے ، اور خدا انھوں نے بھی مختلف اشکال میں بنائے ہوئے تھے ، اور یہ خدا اسلئے بنائے کہ انکے پاس تلاش کرنے کو اور کچھ رہا نہیں تھا . چونکہ روح خدا کی ذات کے بنا سکوں نہیں پا سکتی لہٰذا الہامی نہ سہی ، زمینی اور خود کا بنایا ہوا خدا ہی سہی …
حتیٰ کہ خود کو ملحد کہنے والے بھی خدا کے ہی پیروکار ہیں وہ الگ بات کہ وہ خدا کو سائنس کی شکل میں مانتے ہیں اور جب تک انکی روح کا کھلونا اس جھنجھنے سے خود کو تسلی دیتا رہتا ہے وہ الحاد میں چپکے رہتے ہیں اور جب روح پہچان جاتی ہے کہ یہ تو محض ایک کھلونا نما خدا ہے تو پھر سے انسان کو کسی تلاش میں مگن کردیتی ہے . آپ جتنے بھی انسانوں سے مل لو جو زمینی مذاھب سے الہامی مذاہب میں آئے ہیں وہ یہی کہتے ملیں گے کہ ہمیں سکون میسر نہیں تھا اور جب سے اسلام قبول کیا ہے اب ہم سکون میں ہیں . چاند تاروں کی تسخیر سے لیکر پہاڑوں میں موجود کیڑوں تک کی رسائی انسان نے سکون کی ہی تو تلاش میں کی ہے ، پر تکمیل تو تب ہی ہوگی جب روح کو اس کا خالق ملے گا .
ہم خوش نصیب ہیں کہ الله پاک نے ہمیں مسلمان گھرانے میں پیدا کیا اور ہم میں سے مجھ جیسے لوگ بد نصیب ہیں جنھوں نے کھلی نشانیاں اور علاج سامنے ہوتے ہوئے بھی بے سکونی بھگتی ، ہمیں تو بس دل سے اقرار کرنا تھا کہ خدا ہمارے قریب ہے اور سب ٹھیک ہوجاتا حضرت عیسی علیہ السلام پر نازل ہونے والی الہامی کتاب بائبل میں الله پاک فرماتا ہے ” انھوں نے مجھے زبان سے تو عزت دی پر دل سے یقین نہیں رکھا ” ( میتھیوز 15:18)

دیکھا جائے تو کیا ہم بھی ایسے ہی نہیں ؟ ہم نے بھی زبان سے دعوے تو بہت کئے پر کیا دل سے خدا پر یقین رکھا ؟ اپنے دین کو ہر شے سے مقدم رکھا ؟ اپنے نسلی فضول غرور سے اسلام کو اونچا رکھا یا کیا ہم نے ہر گھڑی ہر جرم و گناہ ہر مصیبت میں دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلانے سے قبل یہ یاد رکھا کہ خدا ہمارے ساتھ ہے ؟
صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کا یہ خوف ختم کرنے کا نسخہ محض ایک یہی آیت ہے
﴿ وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ ﴾ …
’’ہم اس (انسان) کی رگِ گردن سے بھی زیادہ اُس سے قریب ہیں ” ۔ سورة ق:16

اگر اس نسخہ پر عمل نہیں کیا تو پھر مریخ و چاند کیا آپ سورج کو بھی کھنگال لو ، روح بے چین ہی رہے گی ، جسم تھکتا ہی رہے گا …!!

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں