ھم سب فحاش ہیں

بھری جوانی میں بیوہ ہونے کے بعد کوئی اس کا پرسان حال نہ تھا. شروع شروع میں محلے والوں نے تھوڑی بہت ہمدردی کی اور کچھ کھانے پینے کو دے دیتے، لیکن آہستہ آہستہ لوگ اپنے کاروبار زندگی میں کھو کر اسے بھول گۓ…
پڑھی لکھی تھی نہیں کے کوئی چھوٹی موٹی نوکری کر کے اپنا اور بچوں کا پیٹ پالتی..
میرا والدہ کے ساتھ اس کے گھر جانا ہوا تو بتانے لگی کے گھر میں فاقے ہیں اور اسے سمجھ نہیں آ رہی کے وہ کیا کرے، میں نے اس سے پوچھا وہ کوئی کام کرنا جانتی ہے. تو کہنے لگی تھوڑے بہت کپڑے سی لیتی ہوں. اور کچھ نہیں آتا لیکن مجھ سے کپڑے سلوائے گا کون. محلے میں پہلے سے کپڑے سلائی کرنے والیاں ہیں. میں نے اسے مشورہ دیا کے کچھ رعایتی ریٹس پر کپڑے سی لو پھر جب اچھے سے سینا آجائیں  تو اپنی محنت کے حساب سے پیسے لے لینا،
سب سے پہلے میں نے اس سے کپڑے سلاۓ پھر اپنے اڑوس پڑوس کو بتایا، اس طرح اہستہ اہستہ اس کا کام چلنے لگا.
اب یہ ہوتا کہ آمدنی تو اس کی ہو گئ لیکن بازار سے چھوٹی موٹی چیزیں لے کر آنے کے لیے گھر کے کچھ کام کاج کے  لیے اسے کسی مرد کی ضرورت پڑتی. یہ کام محلے کے ایک لڑکے نے اپنے زمے لے لیا وہ اکثر اس کے گھر اتا جاتا کوئی کام ہو تو کر دیتا. محلے کے وہ لوگ جو پہلے سوۓ ہوۓ تھے وہ اچانک جاگ گےاور آپس میں چہ میگوئیاں کرنے لگے  کہ یہ لڑکا کیوں جاتا ہے اس کے گھر، حد تو اس دن ہوئی جس دن محلے کے ایک اور صاحب اس کے دروازے تک گۓ،  اس نے اگے سے دروازہ نہیں کھولا. یہ بات ان صاحب کو گوارا نہ ہوئی، محلے کے بیچوں بیچ کھڑے ہو کر اس عورت کو فاحشہ کہا. لوگوں کو اکھٹا کر کے بتانے لگے کہ اتنی شریف زادی بنتی ہے، میں گیا تو دروازہ نہیں کھولا اور فلاں تو اس کے گھر رات دن ہوتا ہے وغیرہ وغیرہ….
ہمارے معاشرے کا ایک افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ اگر کسی عورت کا کسی سے کوئی تعلق ہو تو باقی مرد سمجھتے ہیں وہ ہر کسی کے لیے ایویلیبل ہو گئی ہے… اور ہر کوئی یہ مان لیتا ہے یہ اب پبلک پراپرٹی ہو گئ ہے. سوشل میڈیا پہ پچھلے دنوں قندیل بلوچ کے لیے ایک لفظ فاحشہ استعمال کیا گیا اور اس پہ بہت بحث بھی ہوئی کہنے والوں نے یہاں تک کہا کہ اس نے اپنی نا آسودہ خواہشات کو پورا کرنے کے لیے فحاشی کا راستہ اپنایا. اس لیے اسکے لیے لفظ فحاشہ بلکل مناسب ہے..
ہم جس دین کے پیروکار ہیں وہ یہ کہتا ہے جو شخص مر جاتا ہے اس کا نامہ اعمال بند ہو جاتا ہے. اس لیے مرنے والے کے لیے ہمیشہ اچھے الفاظ ادا کرنے چاہیے. لیکن ہم اس کے برعکس کرتے ہیں ہم زندہ تو کیا مرنے والے کو بھی نہیں بخشتے. ہمارے معاشرے میں کتنے ایسے لوگ ہیں جو کسی بیوہ اور یتیم کے گھر جا کر اسکی جائز ضرورتیں بھی پوری کرتے ہیں.
دین کہتا ہے جو صاحب مال و دولت ہیں انکے مال میں یتیموں مسکینوں غریبوں کا بھی حصہ ہے تو ایسے کتنے دولت مند ہیں یا صاحب حثیت ہیں جو اپنے گلی محلے کے غریب اور سیفد پوش کے گھر اس کی ضرورت کی چیزیں پہنچاتے ہیں. آپ میں سے کتنے ہیں جو غریب باپ کی دیلیز پر بوڑھی ہوتی ہوئی بیٹی کو نکاح کا پیغام بھیج کر اس کی جائز ضرورت کو پورا کرتے ہو؟
ہمیں یہ تو نظر آتا ہے کہ عورت نے جس بھی مرد سے بات کرلی اس سے اسکا ناجائز تعلق ہے لیکن ہمیں اس عورت کی مجبوری نظر نہیں اتی. اس کے گھر میں پڑنے والے فاقے نظر نہیں اتے. ہمیں قندیل بلوچ جیسیوں کے ننگے بدن تو نظر اتے ہیں لیکن ان کی روح کی چیر پھاڑ نظر نہیں اتی،
کوئی بھی عورت خوشی سے فحاشی کا راستہ نہیں اپناتی. ہر وہ عورت جسے فحاشہ پکارا جاتا ہے معاشرے کے منہ پہ اور اس نا انصافی کے نظام پہ ایک زوردار تمانچہ ہے. وہ بھی بیٹی، بہن. بیوی ہوتی اگر معاشرہ عزت سے انہیں گھر کی دیلیز پہ انکی جائز ضرورت کی چیزیں پہنچا دیتا. ایسا کر کے کسی پر احسان نہیں کر رہے ہوتے. بلکہ اپنا فرض ادا کرتے ہیں. ہر فحاشی کا راستہ اپنانے والی عورت کے ساتھ یہ معاشرہ میں اور آپ بھی برابر کے مجرم ہیں تو پھر یہ گالی اکیلے اسے ہی کیوں؟؟ وہ سارا معاشرہ ہی فحاشہ ہے جس کی بیٹی مجبوریوں سے تنگ اکر فحاشی کا راستہ اپنا نے پہ مجبور ہو اور کوئی اس کا مدد گار نہ ہو.

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں