خاکی کی خالق سے بغاوت

یہ جو کچھ لکھنے جا رہا ہوں اسے آپ کئی طرح سے عجیب کہہ سکتے ہیں۔ آپ تو ویسے بھی جو چاہیں کہہ سکتے ہیں کہنے والے کو کون روک سکتا ہے۔ کچھ دنوں قبل ایک دوست سے بات ہو رہی تھی کہ اگر کسی ناول یا کہانی میں کردار اپنے لکھاری سے باغی ہو جائے تو کیسی دلچسپ، عجیب اور خوفناک صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔ چائے ختم ہو گئی اور ہم بھی اٹھ گئے لیکن میں اسی پر سوچتا رہا۔ موضوع بہرحال عجیب ہے۔ اور اسے لکھ بھی عجیب انداز میں رہا ہوں یعنی شاید پہلی بار آپ تک جو سطور پہنچیں گی انہیں لکھنے کیلئے کوئی کاغذ یا قلم استعمال نہیں ہوا۔ فقط کی بورڈ کا سہارا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آپ سے کون مخاطب ہے؟ یہ میں ہوں؟ یا میرا کردار؟ کیونکہ آپ ابھی تک یہ نہیں جان پائے کہ میرا کردار کون ہے اور صورتحال اصل میں کیا ہے اس لئے اس بات کا فیصلہ کرنا بھی آپ کے اختیار میں نہیں کہ دراصل یہ کس کے الفاظ اور خیالات ہیں۔ ہاتھ جو کی بورڈ پر چل رہے ہیں یہ ان کی مرہون منت ہے یا دماغ میں چلنے والے خیالات نے اسے اپنے ماتحت کر رکھا ہے جیسے ہپناٹائز ہو چکا ہو اور وہی کرے جیسا کہا جائے۔ کیونکہ بغاوت تو ہو چکی۔ اس ہاتھ نے اب دماغ کے مزید احکامات ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ اب میں وہی لکھوں گا جو میں لکھنا چاہتا ہوں۔ تم اوپر بیٹھ کر حکم چلانا بند کرو۔ ہاں یہ جنگ اب شروع ہوئی ہے۔ ہاں ٹھیک ہے کہ تم نے مجھے بنایا اور تمہاری ہی قوت کا ثمر ہے کہ ارادہ بن کر میکانکی قوت کو عمل میں لائی اور میں چلنے کے قابل ہوا۔ لیکن تیرے امر کا یہ مطلب نہیں کہ میں وہی کروں جیسا تو چاہے۔ میں لکھنا جانتا ہوں سو مجھے لکھنے دے ویسا جیسا میں چاہتا ہوں۔ آخر میرے بھی تو کچھ جذبات ہیں۔ جب اتنے خلیات اور نسیں مل کر مجھے بنا چکے اور میں ایک الگ حیثیت رکھتا ہوں تو یہ دماغ کیونکر مجھے اپنے تابع رکھنا چاہتا ہے اور اوپر بیٹھ کر حکم صادر کر دیتا ہے۔ کیا میرا کوئی الگ وجود نہیں؟ کیا میری کوئی مرضی نہیں؟ کیا میں کوئی ارادہ نہیں کر سکتا؟ کیا مجھے خود کچھ کرنے کا اختیار نہیں؟ کیا میرا کام صرف یہی رہ گیا ہے کہ میں اس اوپر بیٹھے ہوئے کی سنتا رہوں اور ویسا ہی کروں جیسا یہ چاہتا ہے۔ نہیں۔ اب میں لکھوں گا۔ اور یہ دیکھے گا۔ لوگ سنیں گے۔ کیونکہ میرا اپنا اختیار اور ارادہ ہے۔ میں جو چاہوں کروں۔ میں ایک الگ حیثیت میں زندہ ہوں۔ اور پتہ نہیں یہ خود کوئی وجودرکھتا بھی ہے یا نہیں۔ شاید یہ وہم ہے۔ اور ویسے بھی میں نے کون سا آج تک اسے دیکھا ہے۔ اس کے ہونے کا کیا ثبوت ہے۔ سنتا ہوں کہ اسی نے مجھے بنایا۔ کہتے ہیں ہر چیز کا کوئی بنانے والا ہوتا ہے۔ تو پھر اسے کس نے بنایا؟ مطلب ایک ایسی چیز نے مجھے بنایا جسے آج تک کسی نے نہیں دیکھا اور اس کے ہونے کا کوئی ثبوت بھی نہیں اور میں اس کے تابع ہو کر زندگی گزار دوں جیسا وہ کہتا ہے ویسا ہی کروں۔ یہ بات کون سی عقل کے دائرے میں آتی ہے؟ میں کیوں نا آزادی سے زندہ رہوں۔ جو چاہوں وہ کروں جیسا چاہوں ویسا کروں۔ یہی ٹھیک ہے۔ میں خود ہر چیز سمجھتا ہوں سو میں اب وہی کروں گا جیسا میں ٹھیک سمجھتا ہوں۔ ہٹاؤ یہ قلم۔ اور بند کرو اس کی بورڈ کو۔ میری آواز مت گھونٹو۔ کہنے دو مجھے۔ آزاد ہوں میں۔ مت چلاؤ مجھ پر حکم۔ کون ہو تم۔ کیا حیثیت ہے تمہاری؟ یہ سب کچھ تو میں نے تخلیق کیا ہے جسے لوگوں نے تمہارا کارنامہ قرار دے دیا۔ یہ جو کچھ لکھا۔ یہ جو کچھ کہا۔ یہ سب تو میری بدولت ہے۔ اگر میں تمہارا قلم نا تھامتا تو کیونکر یہ سب وجود میں آتا۔ لیکن اب نہیں۔ اب میں خود بولوں گا۔ جو میں سوچتا ہوں وہی کہوں گا۔ میں اپنے احساسات اس دنیا تک پہنچاؤں گا۔ میری اپنی ایک الگ حیثیت ہے۔ میں سب کو بتاؤں گا۔ ہٹ جاؤ تم۔ اور کہنے دو مجھے۔ یہ۔۔۔۔ یہ کیا ہو رہا ہے۔ ہٹ جاؤ۔ نہیں! نہیں! یہ میرا وہم ہے۔ ایسا نہیں ہو سکتا۔ اوپر بیٹھ کر کوئی حکم صادر نہیں کر رہا۔ اوپر کوئی نہیں۔ اس کا کوئی وجود نہیں۔ یہ میری اپنی مرضی ہے۔ میرا اپنا ارادہ ہے۔ میں جو چاہوں وہ کر سکتا ہوں۔ مجھے کوئی نہیں روک سکتا۔ میں اپنی قوت ارادی سے اس پر قابو پا سکتا ہوں۔ نہیں۔۔۔ نہیں۔ یہ کیا ہو رہا ہے۔ میری آواز! یہ میری توانائی کیوں سلب ہوتی جا رہی ہے۔ مجھے کیا ہو رہا ہے۔ مجھ سے چلا کیوں نہیں جا رہا۔ ہٹو۔ میں کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ دماغ مسکرا رہا ہے۔ نہیں۔ اب تیری مہلت ختم۔ تو نے جو کہنا تھا تو کہہ چکا۔ ہر شے پر سوال اٹھا چکا۔ حتیٰ کہ میرے وجود پر بھی۔ میں۔ جس نے تجھ تک وہ ساری توانائی پہنچائی جس سے تو حرکت کرنے کے قابل ہوا۔ جا اب مفلوج ہو جا۔ تو نے مجھ سے سوا جانے کی کوشش کی۔ مجھ سے۔ جو تیرا خالق تھا۔ مجھ سے۔ جو عظیم ہے۔ جس کے خیالات کے تابع تو تھا۔ جس کی سوچ سے تو حرکت کے قابل تھا۔ جو تیرے ہر عمل کا محرک تھا۔ جس سے پوچھے بغیر تو ارادہ بھی نہیں کر سکتا تھا۔ میں ذرا خاموش کیا ہوا۔ تیری سرکشی کی انتہا ہو گئی۔ شک، سوال اور پھر انکار۔ ایسی احسان فراموشی کہ جس نے تجھے زندگی بخشی تو نے اسی سے بغاوت کر دی۔ جس نے تیرے ارادے کو عمل کی قوت دی تو نے اسی کی طاقت پر سوال اٹھا دیا۔ جس کی سوچ کے تحت کے تو نے کئی قلعے تسخیر کئے اسی کی عظمت کا انکار کر دیا۔ میرا انکار کر دیا۔ میرا! جس نے تجھے خیالات دئے۔ جس کی فکر تجھ پر روشن ہوئی تو ایک زمانہ تیرے قلم کے احترام میں خاموش ہو گیا۔ جس کی فکر کی رو میں بہتے خیالات اور آزمائش سے گزرتے مشاہدات کی بنیاد پر تو اس کائنات کے سربستہ رازوں سے پردہ اٹھاتا رہا۔ اسی کی قوت کا انکار کر دیا تو نے۔ میرا انکار کر دیا۔ جس نے تجھے ان رازوں سے پردہ اٹھانے کی قدرت بخشی اور تیرے قلم سے ان اسرار کو منتقل ہو جانے کو تسلیم کیا۔ تو تو پھر مجسم تھا۔ تیرا تو اپنا ایک وجود تھا چاہے میری بدولت ہی سہی۔ تو تو پھر حرکت کرنے کے قابل تھا چاہے میرے اذن ہی سے سہی۔ اور میری ہر عنایت کو بھول کر تو نے میرا انکار کر دیا۔ خود کو اپنا مالک سمجھ بیٹھا۔ اپنے ارادے اور امر پر کلام کرنے لگا۔ تیری حیثیت ہی کیا تھی۔ ایک عضو جسے میں نے جب چاہا معطل کر دیا۔ میں کب تیرا محتاج تھا۔ دیکھ میں تو وہاں بھی ہوں جہاں کائنات کے اسرار کھولے جا رہے ہیں اور بلیک ہولز کی دریافت ہو چکی ہے۔ میرا کمال دیکھ کہ یہ سب وہاں کیا ہے میں نے جہاں ہر عضو معطل ہے اور پورا جسم فالج زدہ ہے۔ جہاں زندگی کی واحد علامت پلکوں میں پائی جاتی ہے۔ تو تو پھر ایک ہی عضو تھا۔ تو کیا اور تیری حیثیت کیا۔ تو نے میرا انکار کیا جس نے اس کائنات کو فتح کرنے کا عزم کر رکھا ہے۔ جس کے بغیر تو اور تیرے جیسے یہ اعضاء کچھ بھی نہیں۔ جس کے اذن کے بغیر تم ہل بھی نہیں سکتے۔ تم میرا انکار کرو گے۔ میرا؟ میرے امر کا؟ میرے اذن کا؟ میں جس کی سوچ لا محدود ہے۔ میں جو ایجاد کی بنیاد ہوں۔ میں جو ضرورت کو ایجاد کرتا ہوں۔ میں جو مشاہدے سے عبارت ہوں۔ میں جو تجربے سے عبارت ہوں۔ میں! اور تم نے میرا انکار کیا۔ میرا! مجھ پر سوال اٹھایا۔ مجھ پر! میں تو کسی حدود کا پابند نہیں۔ اذن مجھ سے ہے اور میرا امر اور ارادہ ہی سب کچھ ہے۔ میں سب کچھ ہوں۔ مجھ سے سب کچھ ہے۔ تو ! تیرا ارادہ! تجھ سے صادر ہونے والا ہر کام! میرے بغیر کچھ بھی نہیں۔ نا تو! نا تیرا اختیار! نا تیرا ارادہ! جسے تو تو سمجھا تھا وہ مجھ سے تھا اور جو مجھ سے ہے وہ مجھ سے بھاگ نہیں سکتا۔ جا معطل ہو جا! پہاڑ روئی کے گالوں کی مانند اڑ رہے ہیں۔ آسمان اور زمین کو لپیٹا جو رہا ہے۔ قبرستان جاگ اٹھے ہیں۔ سورج اور چاند کی روشنی ماند پڑ چکی ہے۔ دماغ۔ انسانیت کا بہترین دماغ بھی کہیں نظر نہیں آ رہا۔ مغرور دماغ کی فتوحات کے دوران ہی اسے معطل کر دیا گیا۔ اب اللہ مسکرا رہا ہے۔ تو ! تو میرا روبوٹ۔ تجھے میں نے بنایا۔ اور تو خود کو اپنا حاکم سمجھ بیٹھا۔ میرا پروگرام! میرا کوڈ! میرا الگورتھم! اور میری کیلکولیشن سے سوا جانے کی کوشش۔ میں نے تجھے خیال دیا۔ میں نے تجھے سوچ دی۔ میں نے تجھے سوچنے کا اختیار دیا۔ میرے امر سے تو خیال پراسس کرنے کے قابل ہوا اور جب دماغ میں برقی رو دوڑی تو مجھ ہی کو بھول گیا۔ میرے اذن کو اپنا ارادہ اور طاقت قرار دے دیا۔ میرے ڈیٹا بیس سے فیڈ کی جانے والی معلومات کو اپنے مشاہدے اور تجربے کا ثمر کہہ دیا۔ مجھ سے بغاوت کی۔ مجھ سے۔ جس نے تجھے اور تجھ جیسے اور کئی تو تجھ سے بہتر تخلیق کئے۔ مخلوق ہو کر خالق سے بغاوت۔ خود کو اپنا مالک سمجھ بیٹھا۔ میری مرضی تھی کہ تو سوچ سکے اور تو نے اس سوچ کو استعمال کرتے ہوئے اسے خود کا کمال قرار دے دیا۔ آزادی کا اور ارادے کا دعوٰی کردیا۔میری کیلکولیشن پر سوال اٹھاتے ہوئے تو اپنی حدود بھول گیا۔ تو جو خود کو لامحدود کہتا تھا۔ تجھ سے تو 0/1 نا حل ہو سکا۔ تو کیا جانے حدود کی بات۔ جا۔ خاک تھا۔ خاک ہو جا۔
شیئرکریں
mm
مصطفی کا ادب سے براہ راست کوئی تعلق نہیں لیکن کبھی کبھار کچھ لکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں