وہ خواب کہ دیکھا نہ کبھی

میں نے کبھی خواہش کی تھی کہ بادلوں کی نرمی کو اپنے چہرے پر محسوس کروں، اور یہ اتفاق ہی تھا کہ ایسا ہو گیا. سون سکیسر جیسے پر فضا مقام پر جہاں میں نے خاموشیوں کو دھڑکتے سنا تھا، اور بادل میرے پاس سے مجھے اپنی آغوش میں لیتے عجیب خنکی کا دلفریب احساس دلا کر گزر رہے تھے، لیکن۔۔۔۔

لیکن میرا دل خالی تھا، پتا نہیں کیوں میری خواہش پوری ہو کر بھی احساس سے خالی تھی، مجھے اپنے گالوں پر بادلوں کا وہ لطیف سا لمس محسوس نا ہو پایا، لیکن کئی سال بعد میں اس وقت ساکت رہ گئی جس لمحے تمہاری پہلی نظر مجھ پر پڑی تھی۔ میری آنکھوں میں سرما کی دھوپ اتر آئی تھی، اور مجھے اپنے گالوں پر تمہاری نظروں کے پاکیزہ بادل محسوس ہو رہے تھے، میں نے اپنی پلکوں کو جھکا کر ان بادلوں کو ڈھکنا چاہا اور پتا نہیں کیا ہوا کہ وہ دھنک بن گئے، اس دھنک کو میں نے چہرے پر ہاتھ پھیر پھیر کر ختم کرنا چاہا، لیکن ایسا کہاں ممکن تھا، وہ دھنک میرے دل میں اترنی تھی، اور اتری، اور میں اب بھی اسے اپنی روح میں لمحہ بہ لمحہ گہرا ہوتا محسوس کرتی ہوں، کہ شائد محبت کا وہ اولین احساس میرے لئے میری روح کا تقاضا تھا، اور جب چاہت روح کی ہو تو اس کی حفاظت جسم کا روواں روواں کرتا ہے۔

زندگی کبھی کبھی طے کر لیتی ہے کہ میں تو سب دھان کرنے کو تیار ہوں، بس کوئی چاہنے والا ہونا چاہیے، تمہارے ساتھ کیا گیا وہ کئی گھنٹوں کا طویل ترین سفر جسے میں آرزوئے جاں کہوں گی، میرے لئے پوری زندگی بن گیا ہے، مجھے یاد ہے تمہارے ماتھے پر ہلکا ہلکا پسینہ آتا اور میں اسے کن اکھیوں سے دیکھتی، اور دل میں حسرت سی پیدا ہوتی کہ کاش یہ اپنی انگلیوں کی پوروں پر چن لوں اور اسے اپنی شہہ رگ پر مَل دوں کہ تمہارا میری شہہ رگ سے قریب ہونا تو شائد کبھی ممکن نا ہو سکے لیکن تمہارے کشادہ ماتھے سے پھوٹتا تمہاری مہک لئے ہوئے وہ پسینہ کیوں نا میری سانسوں میں عطر کی طرح بس جائے؟ اور میں نے کہا نا زندگی کبھی کبھی عطا میں خدا بن جاتی ہے کہ عین اس لمحے جب تمہاری وہ روشن پیشانی کندن بنی دہک رہی تھی گاڑی کو زور دار جھٹکا لگا اور تم اسٹیئرنگ وہیل سے جا لگے اور میں نے بے ساختہ تمہارے ماتھے کو چھو لیا لیکن پھر اچانک سنبھل کر ہاتھ کھینچا اور اپنی گردن پر مسل دیا، میں انتہائی قطعیت سے کہہ سکتی ہوں کہ تمہیں اس واردات کا اشارہ تک نہیں ملا ہوگا، لیکن میں نے خود کو پا لیا کہ اچانک۔۔۔۔۔
کہ اچانک میری آنکھ کھل گئی، لیکن پتا ہے کیا؟؟؟ آنکھ کھلنے پر میں نے دیکھا کہ میں نے تب بھی اپنی شہہ رگ پر ہاتھ رکھا ہوا تھا اور میری سانسوں میں تمہاری مہک تھی، میری سماعتوں میں تمہارے انتہائی خوبصورت اور ہموار دانتوں والے دہانے سے بہتے دلکش قہقہے تھے، اور میری صدیوں کی سوئی ہوئی آنکھیں اس خواب کے ٹوٹنے پر بھل بھل بہہ رہی تھیں۔۔۔۔۔۔
کیونکہ۔۔۔۔۔۔
وہ خواب کہ دیکھا نا کبھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لے اڑا نیندیں۔۔۔
وہ درد کہ اٹھا نا کبھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کھا گیا دل کو۔۔۔

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں