ماں

جمعے کی شب موسم بہت خوبصورت تھا ہلکی بارش کے بعد.. ٹھنڈی میٹھی ہوا چل رہی تھی..چاند بھی اپنے جوبن پر تھا …ایسےحسین موسم میں یا تو بندہ شادی کر لے یا پھر مر جاۓ.. شادی کے لیے ایک عدد بندہ درکار ہوتا ہے جو فوری میسر نہ تھا.. اس لیے ہم نے مرنے کا پروگرام بنا لیا..

ہماری قسمت کی خرابی دیکھیے کے اس کو بھی پایا تکمیل تک نہ پہنچا سکے…چونکہ موسم کو انجواۓ کرنے کے لیے میں اور اماں صحن میں سوۓ ہوۓ تھے . ‫ہم نے بہت کوشش کی کے چپکے سے مر جاتے ہیں اور اماں کو خبر نہ ہونے دیں لیکن اے ہماری برادشت کے . جواب دے گئ اور ہمارے منہ شریف کہنے سے تو اب رہی.. جو منہ خاموشی سے مر نہ سکے وہ شریف کیسے ہو سکتا ہے…

اماں جی نکل گیا پھر کیا تھا اماں اٹھا کر بيٹھ گئيں پوچھنے لگی کیا ہوا میں نے کہا کچھ نہیں بس ذرا سا پیٹ میں درد ہے اپ سو جائیں… اب ہم اپنے پروگرام سے آگاہی تو اماں کو دے نہیں سکتے تھے.. انہیں سلانے کی تھپکی دی لیکن وہ اماں ہی کیا جو سو جاتیں اماں نے ہمارے چہرے پہ ہاتھ پھیرا تو وہ انہیں پسینے میں بھیگا ٹھنڈا ٹھار لگا اماں جلدی سے پاوں کی طرف ہاتھ لیکر گئيں ہم نے احتیاط پاوں پیچھے کر لیے… لیکن اس اثنا میں چھوٹا بھائی بھی جاگ گیا اور ہمارے ہاتھ پاوں دیکھنے لگا جو کے مکمل ٹھنڈے پڑ چکے تھے اب کیا تھا پورے گھر میں زلزلہ آ گیا چلو ہاسپتل چلتے ہیں بھائی گاڑی والے کو فون کرنے لگے ایک نے ہاتھ پکڑ لیے ایک پاوں کی مالش کر رہا ہے… اب سب کو ایسے دیکھا تو ہم نے سوچا پروگرام کینسل کر دیتے ہیں.. ہم نے دو چار جوک مار کر سب کو سلانے کی کوشش کی… لیکن کوئی ٹس سے مس نہ ہوا پھر ہم نے چھوٹے پر غصہ دیکھایا اور کہا جاو سو جاو ہر وقت تم لوگ میری چوکیداری کرتے رہتے ہو اتنی صلواتیں سنے کے بھی میں نے دیکھا چھوٹا بھائی جاگ رہا ہے میں نے اسے کہا میرا مرنے کا ابھی کوئی ارادہ نہیں تم جا کر سو جاو، اور سنو کچھ چیزیں وہاں وہاں پڑی ہوئی ہیں ..چونکہ میں گھر والوں کا بنک ہوں تو سب اپنی اپنی بچت میرے پاس جمح کرواتے ہیں تو وہ میں چھوٹے کو بتانا،چاہتی تھی، کے وہاں وہاں پڑی ہیں پھر کیا تھا اس نے وہ روناشروع کیا ایک تو میرے بھائی اتنے کمینے ہیں کوئی راز بھی نہیں سکتے‫‫‫‫‫‫‫…پھر سارے اکھٹے ہو، گۓ ہاسپٹل چلنا ہے میں نے کہا مجھے نیند آ، رہی سونے لگی ہو جس کو، میرے پاس بيٹھنا ہے بیٹھا رہے لیکن ہاسپتل میں نے کوئی نہیں جانا رات کے تین بج رہے ہیں… نہ میں نے خود دھکے کھانے ہیں.. نہ تم لوگوں کو کھلوانے ہیں..

. یہ کہہ کر میں نے چادر منہ پر کر کےسونے کی خوب ایکٹیگ کی لیکن میری ماں پوری رات نہیں سوئیں وہ بار بار میرے چہرے میں ہاتھ پھیرتی رہیں …کبھی میرا ہاتھ پکڑ کر دباتی کبھی ماتھے پہ ہاتھ رکھتیں….ماں کے بس میں ہو تو بچوں کی طرف انے والی قضا کو بھی اپنے اوپر لے لے….

ہم سب بہن بھائی امی سے امی کی طرح ہی پیارے کرتے ہیں… اور اپس میں بھی ایک دوسرے کے ساتھ بھی ماں والا ہی پیار ہے.. یہ بتانا تو بھول ہی گئ کے اماں کے ساتھ پوری رات میرا دشمن نمبرون بھائی بھی پوری رات جاگتا رہا…جو، ہر وقت مجھ سے جھگڑتا ہے…شاید اس ڈر سے کے مر گئ توجھگڑوں گا کس سے…
کہتے ہیں رب بندے سے ستر ماوں سے زیادہ محبت کرتا..
نجانے اس پر کیا گزرتی ہو گئ
جب وہ کسی ماں سے اس کا لخت جگر واپس لیتا ہو گا….

شاید دنیا وصل اور وصال کے ہی دو پیمانے ہیں..
کسی کو وصال دے کر کسی کو وصل بخشا جاتا ہے…

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں