ناسٹالجیا

 کیا یاد دلایا خورشید ندیم نے. ماضی آہستہ آہستہ اپنا دامن چھڑا رہا ہے۔ اس کا پلو دھیرے دھیرے ہاتھ سے سرکنے لگا ہے؟ سوچتا ہوں ماضی سے کٹ کر زندگی کیسے بسر ہو گی؟ ماضی کیا ہے؟ وہ چہرے جو برسوں نظروں کے سامنے رہے. اس طرح کہ ان کے خدوخال آنکھوں میں کھب گئے۔ کوئی نام لے تو پلک جھپکنے سے پہلے تصویر نظر آ جائے۔ والدین، استاد، عزیز و اقارب، دوست احباب۔ یہ سب یادوں میں تو ہیں، زندگی میں نہیں۔ یا پھر وہ ماحول. کیسا تھا وہ گاؤں جہاں بچپن گزرا. گھر کے بالکل سامنے وہ کنواں جہاں محلے بھر کی لڑکیاں سورج ڈھلنے کے ساتھ جمع ہوتیں، پانی بھرنے کے لیے۔ اس طرح سہیلیاں مل بیٹھتیں، راز و نیاز کرتیں۔ کچھ منچلے حیلوں بہانوں سے گلیوں کا چکر کاٹنے لگتے۔ سب کو معلوم ہوتا کہ کون کس کو ایک نظر دیکھنا چاہتا ہے مگر بتاتا کوئی نہیں تھا۔ کنویں کے پس منظر میں مسجد۔ مغرب کی اذان بلند ہوتی توکنویں کا شور دبنے لگتا۔ لڑکیاں گھڑے اٹھاتیں اور گھروں کی راہ لیتیں۔ تین تین گھڑے سر پر اس طرح سے رکھتیں کہ مجال ہے جو توازن بگڑتا۔ آج بھی سوچتا ہوں تو حیرت ہوتی ہے۔

مغرب کی نماز پڑھ کے لوٹتے تو خاموشی چھا چکی ہوتی۔ . آج یہ ماضی کہیں نہیں ہے۔ وہ سب تہہ خاک سو چکے، جن کو میں نے اپنے چاروں طرف چلتے پھرتے دیکھا۔ وہ منظر بدل گئے جنہوں نے اپنے دامن میں یہ سارے رنگ سمیٹ رکھے تھے۔ مسجد سے اب موذن کی نہیں لاؤڈ سپیکر کی آواز آتی ہے۔ کنواں بھی اب وہ نہیں رہا، پانی کی موٹر لگ چکی۔ بجلی آئی اور لوگوں نے گھروں میں موٹریں لگوا لیں۔ اب کوئی پانی بھرنے یہاں نہیں آتا۔ اور اگر آتا بھی تو ہمارے کس کام کا؟ ہم تو کب کے شہروں کا رخ کر چکے۔ گھر اب کہاں ہیں، ٹوٹی دیواریں اور اکھڑے پلستر۔۔۔ ایک ویرانی ہے جو کھانے کو آوے ہے۔ بےبے شفیداں دنیا سے رخصت ہو گئیں۔ بھٹی کی آگ بھی ٹھنڈی ہو گئی۔ لالہ عزیز کو مرے بھی کئی سال گزر گئے۔ اس کے ریڈیو کی تصویر میری آنکھوں میں محفوظ ہے مگر میں کسی کو دکھا سکتا نہ اس کی آواز سنوا سکتا ہوں۔ . مسجد کی عمارت، گھروں کے نقشے، سب بدل چکے۔ اب گیت بھی نہیں لگتے۔ گاؤں کے اکثر لوگ شہر منتقل ہو چکے۔ گاؤں جائیں تو خالص دودھ نہیں ملتا۔ دیسی مرغی ملتی ہے نہ دیسی انڈہ۔

میرا ماضی باہر کہیں نہیں ہے۔ میرے اندر ہے مگر کسی کو دکھا نہیں سکتا۔ دکھانا تو دور کی بات سمجھا بھی نہیں سکتا۔ میرا دل چاہتا ہے کہ میں بچوں کو پاس بٹھاؤں اور انہیں اپنے ماضی سے جوڑوں۔ لیکن میں ایسا کرنہیں سکتا۔ میں انہیں سمجھا نہیں سکتا کہ وہ کنواں کیسا ہوتا تھا۔ ‘اولو‘ اور ‘نِسار‘ کیا ہوتی تھی۔ شام کو آوازوں کے اس شور میں کیسا ترنم تھا۔ کیسے زندگی ان آوازوں کی صورت سانس لیتی تھی۔ کیسے جذبات اس فضا میں رقصاں رہتے تھے۔ لالٹین کی روشنی میں پڑھنا کیسا تجربہ تھا۔ . میرے ساتھ یہ کوئی انوکھا واقعہ نہیں ہوا۔ آپ میں سے کتنے ہوں گے جنہوں نے اس کالم کو اپنی کہانی سمجھا ہو گا۔ یہ ہر نسل کا المیہ ہے کہ ماضی اس کے ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔ وقت پرانے نقوش مٹاتا اور ان کی جگہ نئے نقش قائم کر دیتا ہے۔ میں مگر اپنے ماضی میں جینا چاہتا ہوں۔ میں اس منظر کو محفوظ کرنا چاہتا ہوں۔ میں مگر یہ جانتا ہوں کہ ایسا کبھی نہیں ہو سکتا۔ میں آئیںِ نو سے ڈرتا ہوں لیکن میرا مقدر یہی ہے۔۔۔ کیا مجھے یہ تبدیلی خوش دلی سے قبول کر لینی چاہیے؟ کیا میں ایسا کر سکتا ہوں؟ کاش ایسا ہوتا۔ ایک جبر ہے کہ مسلسل اس کی گرفت میں ہوں۔

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں