سال نو

جب سے اٹھی ہوں نوٹس کھول کر بیٹھی ہوں ۔ ایک دو لائینز لکھتی اور پھر پڑھ کر مٹا دیتی, ابھی پھر لکھنے لگی تو دی دی نے بڑا سنجیدہ ہو کر ایک سوال کیا تو سوچا اسی کو لئے چلتے ہیں, میرا جواب بڑا مختصر تھا مگر۔۔۔۔اس کے پیچھے یادوں کا ایک سیلاب امڈ آیا جو بیان کی قید سے آزاد ہی رہے گا, میری آنکھیں پڑھنے والوں کے لیے اپنا جواب آپ ہی ہیں, شرط اتنی ہے کے سامنے والے کا احساس سلامت ہو اور دل زندہ-

سوال اتنا سا تھا کے سال 2016 میں تم نے زیادہ کھویا یا زیادہ پایا؟ اور میرے مسکراتے لبوں سے اتنا ہی ادا ہو ‘ صرف پایا ہے’-

بات کچھ یوں ہے۔۔۔ آخری لمحات میں کیا گیا یہ سوال کسی حد تک احتساب تھا۔ میرے لیے میری ذات کا, ایک لمحہ میں امڈ کر آنے والی وہ تمام یادیں جو میں نے سمیٹ کر اپنے من کے سمندر میں قفل پڑے اس صندوق میں رکھی ہیں جس تک کسی کی رسائی ممکن نہیں, وہ سمندر میری آنکھوں میں چھلک جاتا ہے, یادیں یکا یک ان میں امڈ آتی ہیں, کیا کھویا, کیا پایا؟

سال 2016 کو میں نے بڑی خوبصورتی سے اپنی زندگانی کی ڈائیری کے اوراق پہ یادوں کے قلم میں انمول لفظوں کی بھری سیاہی کو حرف حرف بے باکی اور خوش اخلاقی سے سینا چوڑا کر کے بکھر دیا۔ کسی لفظ کے حصے کہیں کھلکھلاتی ہنسی آئی تو کسی ورق پہ اسی حرف کے حصے ذرا سا غم اور کچھ آنسو بھی آئے, گو کہ میری زندگی کی طرح مجھ سے ادا ہوئے, میری ذات سے جڑے, ڈائری کے پنوں پہ اترے ہر ہر لفظ کے حصے میں ویسا ہی اتار چڑھاؤ آیا جیسا لمحات نے میری زندگی میں ظرف کے ساتھ تناسب برقرار رکھا, کہیں مسکراہٹ بکھیری, کہیں گیلے چمکیلے انمول موتی, کہیں کچھ اپنے خاک تلے دب گئے تو کہیں ننی کونپلیں پھوٹیں, کہیں دھوپ نے بہت جلایا تو کہیں کسی سائے نے راحت بخشی, کہیں کانٹوں نے قدم چھلنی کیے تو کہیں کسی کے گداز ہاتھوں نے سکون دیا, کبھی کسی کے ادا کیے الفاظ نے کلیجہ چیرا تو کہیں کسی پیارے نے ہمت دی, کہیں جو زخموں سے چور گر پڑی تو کسی اپنے کے کندھوں نے سہارا دیا, کہیں راتوں میں ماضی کے کرب سے جلی تو اس پاک ہستی نے آنکھوں سے آبشار بہا ڈالے-

زندگی جمود کا شکار قطعاً نہیں ہو سکتی, اور جن انفاس پہ ہو چکی ہے وہ زندہ ہی نہیں رہے, چلتے پھرتے لاشے تو ہمیں بہت ملیں گے مگر ان میں زندگانی کی رمق باقی نا ہو گی, بس مٹی کی مورتیں, زندگانی نام ہے تغیر کا, اتار چڑھاؤ کا, مسلسل بدلاو کا, خواہ وہ کدی بجی قسم کا کیوں نا ہو, روانی کا, چلتے رہنے کا, اس میں رکنا موت ہے, زندگی کی موت, وہ زندگی جو ہمارے اندر روح کی طرح بستی ہے, تخیل کی کے جسکا اصل ہی پرواز میں ہے, کھوج کی جستجو کی کے جس کی سرشت پہ ہماری تخلیق ہوئی, اس کے بغیر تو ایسا ہی ہے جیسے ہم بس ربوٹس ہیں-

سال گزرتے ہیں, گزرتے جائیں گے, ایک دن جیے نا جانے کا غم لیے ہم بھی گزار دیے جائیں گے, صدیوں سے یہی عمل جاری ہے, اور صدیوں جاری رہ سکتا ہے, اس میں اصل اتنا ہے کے ہم اس چھوٹے سے گزرتے لمحات میں جینا سیکھ لیں اور کھل کے جیں, گزار دینا کمال نہیں ہوا کرتا, گزر جانے والے کی ہستی ایسے ہی مٹ جاتی ہے جیسے کبھی وہ پیدا ہی نا کیا گیا ہو, جب تک سانس باقی ہے, دل دھڑکن کو بھول نا جائے, جسم میں لہو کا جوش برقرار ہو, آنکھیں جذبات سے دہکتی ہوں, لب مسکراہٹ کا دامن پھیلائے رکھتے ہوں, اپنے آپ کو جینے دیں, وقت کا قیدی نا کریں, جیں اور دامن میں سب لمحات سمیٹتے اور خوشیاں بکیھرتے جائیں-

دنیا کے یہ دھندے چلتے رہیں گے ان سے ہاتھ چھڑانا ممکن نہیں. یہی اصل ہیں زندگانی کا, بس زندہ لمحات میں زندگانی کا بھر پور لطف اٹھائیے اور مسکراتے رہیے, کے اگلا لمحہ ادھار کا ہے, ہمیں اسکی خبر نہیں, جو چل رہا ہے اسے کھل کے جیجیے, اور اس کے بعد اسے دھج سے سمیٹیے اور اندر اتار دیجیے, چھوٹی سی زندگانی ہے ہر لمحے کو بھر پور انداز میں جیجیے, کے وہ لمحہ آپکے جیے جانے کے انداز پہ فخر کرے’ خاک میں اتر جانے کے بعد بھی آپ کی داستانیں سنائی جائیں, لمحات میں ایک تو قصہ آپ کے نام کا بھی زندہ رہے, جس میں مثال وہ دھج ہو جس سے آپ جیے ہوں-

تو میری طرف سے آپ سب کو سال نو بہت مبارک اس عہد کے ساتھ کے ہم لمحات میں جییں گے اور مسکراہٹ کو ہونٹوں کی دہلیز پہ سجائے رکھیں گے۔

شیئرکریں
mm
رابعہ خزین ایک منفرد لکھاری ہیں جن کی قلم اور الفاظ پر کمال کی گرفت ہے۔ ویسے تو محترمہ میڈیکل کے شعبے سے منسلک ہیں لیکن قابل ذکر بات ان کا منفرد "فلسفہ محبت" ہے جو اپنے ساتھ میٹھی تلخیوں کا امتزاج رکھتا ہے۔ رابعہ خزیں معاشرے میں روایتی سوچ کا زاویہ تبدیل کرنے کی مہم پر یقین رکھنے والی ایک باصلاحیت فرد ہیں۔

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں