*”ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں”*

فقیہ ابواللیث سمر قندی نے فرمایا: “اسلام کے پانچ قلعے ہیں۔ 1-یقین 2- اخلاص 3- فرائض 4- تکمیل سنن 5- حفظ آداب۔

جب تک آدمی آداب کی حفاظت و نگرانی کرتا رہتا ہے شیطان اس سے مایوس رہتا ہے۔ اور جب یہ آداب چھوڑنے لگتا ہے تو شیطان سنتیں چھڑوانے کی فکر میں لگ جاتا ہے۔ حتیٰ کہ پھر فرائض، اخلاص، اور یقین تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔ آداب نفس حاصل کرنا علم حاصل کرنے سے زیادہ اہم ہے۔ حضرت عمر فاروق کے رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ:” پہلے ادب سیکھو پھر علم سیکھو۔ کیوں کہ ادب انسانوں کے لیے ڈھال ہے۔ ادب جیسی کوئی میراث نہیں۔

ایک اللہ والے فرماتے ہیں کہ:”جس انسان کی زندگی میں آداب و اکرام کا جوہر نہ ہو وہ انسان نما حیوان مطلق ہے۔ اسی وجہ سے غیر مسلم اقوام ترقی و عروج کے دور میں بھی حیوانی صفات کو اپنائے ہوئے ہیں۔ جانوروں کی طرح چلتے پھرتے کھائیں گے۔ گدھوں کی طرح سر بازار پیشاب کریں گے۔ نہ نجاست سے بچاؤ کا خیال، نہ غلاظت سے نفرت کا جذبہ، نہ اخلاقی اقدار سے انس و محبت نہ حیا۔بس دنیا کے دھندے، پیٹ کے بندے، فطرت کے گندے، باطن کے درندے، فضائل انسانی سے عاری، فضائل آدمیت سے تہی۔

اور ہمارے مسلمان نوجوان ان غیر مسلموں کے طور طریقوں اور انگریزی تہذیب کے دلدادہ بن چکے۔ لباس، طعام، نشست و برخاست میں انگریز کی نقالی میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ جب کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ غیر مسلم اقوام نے مذہب ایک جگہ سے تو آداب دوسری جگہ سے لیے۔ مثلاً نصاریٰ نے مذہب انجیل سے، تو آداب معاشرت روم و یونان سے حاصل کیے۔ جب کہ اسلام ایک کامل و مکمل ضابطہ حیات ہے۔ جس نے ایمان م، عبادات، اخلاقیات، آداب کے لیے سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کو سر چشمہ و ماخذ قرار دیا۔ اسی وجہ سے جب جب اسلام وحشی قوموں کے پاس قرآن و نبوی فرمان لے کر گیا تو ان کو چند روز میں مہذب اور شائستہ بنا دیا۔

آداب کی پابندی سے ہی انسان تہذیب یافتہ و مہذب گردانا جاتا اور شائستہ لوگوں میں شمار ہوتا ہے۔ انسانی زندگی کے نشیب و فراز کے اعمال اٹھنا بیٹھنا، کھانا پینا، سونا جاگنا، لیٹنا بیٹھنا، چلنا پھرنا اسی طرح رہن سہن، میل جول کے عمدہ اصول و ضوابط کو آداب کہا جاتا ہے۔ آج کل مادہ پرستی کے اس دور میں جب ہر طرف نفسا نفسی کا سماں ہے اور انسان مشین کی سی ذندگی گزارتا ہے۔ کام کاج کے بوجھ، معاشی و معاشرتی پریشانیوں نے خوب الجھا کے رکھا ہے۔ دنیا گلوبل ویلج کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ ایک طرف مادی ترقی تو دوسری طرف سائنسی علوم و نت نئی ایجادات نے عقل کو مسحور کر رکھا ہے۔

دین و دینی علوم کی اہمیت دلوں سے اور آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ زندگیوں سے نکلا جارہا ہے۔ لوگ کفار و مشرکین کو اپنا امام و پیشوا مانتے ہیں۔ ان کے طریقے کو لپک کر تھام لیتے ہیں۔ تعجب ہے ایسے لوگوں پر کہ ایمان لائیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اور طور طریقے اپنائیں یہود ہنود کے۔ آقا کی اتباع میں خفت محسوس کریں اور احساس کمتری کا شکار ہو جائیں۔ اور آداب کو اچھا نہ سمجھیں یہ ذلت و پستی کی بات ہے۔ فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے :”مجھے میرے رب نے ادب سکھایا اور بہترین ادب سکھایا۔” ہمارا جو بھی عمل آداب سے خالی ہو گا گویا حسن و جمال سے خالی ہوگا۔

“الدین کلہ ادب” دین سارے کا سارا ادب ہے۔ جس شخص کو ادب نصیب ہوا اسے سعادت ملی اور جو ادب سے محروم ہوا اسے شقاوت ملی۔ گویا باادب بانصیب، بے ادب بے نصیب۔ اور ہر کام میں سب سے بڑا ادب یہ ہے کہ اسے اس کے مطابق کیا جائے۔ مثلاً پینسل لکھنے کے لیے بنی، اب اس سے ہم کھجلی کریں یہ بے ادبی ہے۔ اسی طرح ٹوپی سر پر پہننے کے لیے ہے اسے ہم پاؤں پر پہنیں یہ بے ادبی ہے۔ کاغذ لکھنے کے لیے ہے اسے کوڑا کرکٹ میں پھینکنا بھی بے ادبی ہے۔ ہم چھوٹے چھوٹے آداب کا خیال رکھیں گے تو کچھ بعید نہیں کہ اللہ تعالیٰ مؤدب بنا دیں۔

ادب ایسی چیز ہے جس کی وجہ سے کئی مقدس ہستیوں کو معرفت الہٰی نصیب ہوئی۔ حضرت بشر حافی رحمہ اللہ ابتدائے جوانی محکمۂ پولیس میں ملازم تھے۔ غفلت و بے پرواہی کی زندگی تھی۔ کم کوش بھی تھے۔ اکثر اوقات نشے میں دھت ملتے۔ ایک مرتبہ جب نشہ ہرن ہوا تو آپ کسی سلسلہ میں گھر سے باہر نکلے۔ گلی سے گزرتے ہوئے ایک گرے ہوئے کاغذ پر نظر پڑی۔ دیکھا کہ اس پر اللہ کا نام لکھا ہوا تھا۔ بڑھتے قدم رک گئے،آپ نے کاغذ کو اٹھایا۔ ازراہ ادب صاف کیا اور کسی بلند جگہ پر رکھ دیا تا کہ اللہ تعالیٰ کا نام کہیں پاؤں تلے نہ آئے۔

جب آپ فارغ ہو کر گھر پہنچے تو ایک ولی کامل آپ کی ملاقات کے لیے آپ کے گھر آئے اور فرمانے لگے: “مجھے اللہ تعالیٰ نے الہام فرمایا ہے کہ بشر حافی سے کہہ دو کہ جیسا تم نے میرے نام کو عزت بخشی اسی طرح میں تمہارے نام کو بھی عزت دوں گا۔ “یہ الفاظ آپ کے دل پر بجلی بن کر گرے۔ آپ توبہ تائب ہوئے اور روحانی دنیا کے اولیاء میں سے ہوئے۔ لفظ اللہ کے ادب نے آپ کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا

ادب بڑی فضیلت والی چیز ہے۔ ادب عظمت و شرافت اور ترقی کی علامت ہے۔ بے ادب انسان ہمیشہ کے لیے عظمت و ترقی سے محروم رہ جاتا ہے۔ شیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا:”بے ادب خالق و مخلوق دونوں کا معتوب و مغضوب ہوتا ہے۔ عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ نے فرمایا:”میرے پاس ایک ایسے شخص کا ذکر آئے جسے اولین و آخرین کا علم ہو مگر وہ آداب نفس سے کورا ہو تو مجھے اس کی ملاقات میسر نہ ہونے پر کبھی افسوس نہیں ہوتا اور جب کبھی سننے میں آتا ہے کہ فلاں شخص آداب نفس کا حامل ہے تو اس کی ملاقات نصیب نہ ہونے پر افسوس ہوتا ہے۔”

ادب ایک تاج ہے لوحِ ربانی سے۔ یہ تاج سر پر رکھئیے اور جہاں جی چاہے جاییے، کامیابی میسر ہوگی۔ ایک شاعر نے کہا:

” خموش اے دل، بھری محفل میں چلانا نہیں اچھا
ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں۔
اللہ تعالیٰ سے ادب کی توفیق مانگتے رہنا چاہیے کیوں کہ بے ادب اللہ تعالیٰ کی مہربانیوں سے محروم رہتا ہے۔

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں