محبت، ویلنٹائن ڈے اور ہماری روایات

بہت عرصہ پہلے میں نے انگریزی ادب سے ایک ناول پڑھا تھا.
یوں تواردو ادب سے بھی  میں نے بیشمار ناول  پڑھے ہیں،  بہت سی  محبت کی لازول داستانیں پڑھیں.  لیکن اس ناول کی سحر انگیزی آج بھی مجھے اپنے حصار میں لئے رکھتی ہے۔ اس لازوال محبت کی داستان کا ہر کردار میرے دل پر نقش ہے۔ اس کی شاید بنیادی وجہ یہ بھی ہو ہمارے يہاں ادب میں حقائق کو لفاظی کا پہناوا پہنا کر مسخ کر دیا جاتا ہے۔

یوں تو وہ ایک کہانی ہی تھی۔۔۔۔
جس میں ایک پچاس پچپن سالہ شادی شدہ مرد کو. اپنے سے بیس سال چھوٹی لڑکی سے محبت ہو جاتی ہے اور دوسری طرف لڑکی کا بھی یہی حال ہوتا ہے….  لیکن چونکہ دونوں شادی شدہ ہوتے ہیں تو کھل کر اپنے جذبے کا اظہار نہیں کر پاتے۔ وہ شخص اکثر اپنی بالکنی میں بيٹھ کر اس لڑکی کو آتے جاتے دیکھتا ہے جس سے اسکی بیوی کو شک ہو جاتا ہے۔
اس ناول کا اختتام یہ تھا کہ  اسکی بیوی اس شخص اور اس لڑکی کو گھر میں بنے ہوئے تہہ خانے میں قید کر دیتی ہے جہاں بھوک پیاس کی شدت سے دونوں مر جاتے ہیں اور لڑکی کی گمشدگی اور اپنے شوہر کی گمشدگی کا الزام وہ لڑکی کے شوہر پہ لگا دیتی ہے…..
يوں تو یہ کہانی بظاہر بہت سیدھی سادھی ہے لیکن اس میں جو قابل زکر بات تھی وہ یہ تھی انسان کو خواہ وہ مرد ہو یا عورت زندگی کے کسی مقام پر بھی محبت ہو سکتی ہے۔ ہمارے یہاں عموما یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ مرض صرف نوجوانوں کو ہی لاحق ہوتا ہے….
لیکن ایسا نہیں ہے۔۔  سچ یہ ہے کہ اج کل شادی شدہ لوگ نوجوانوں کی بانسبت زیادہ اس محبت نامی کھیل میں ملوث ہیں
جہاں مرد پہلی شادی تو ماں باپ کی مرضی سے کسی کزن سے کر لیتے ہیں لیکن شادی کے کچھ سال بعد انہیں اپنی زندگی میں خالی پن محسوس ہوتا ہے۔
اور وہ محبت کی تلاش میں سرگرداں ہو جاتے ہیں پھر آتی جاتی ہر لڑکی سے یا تو انہیں محبت ہو جاتی ہے
یا پھر وہ محبت نامی کمی کو جو وہ اپنی زندگی میں محسوس کرتے ہیں….  اسکا سہارا لے کر لڑکیوں سے فلرٹ کرتے ہیں ۔ بات جب فلرٹ تک رہتی تب تو ٹھیک تھا لیکن جب لڑکی سنجیدہ ہوجاتی ہے  تو پھر مرد حضرات اس کو محبت کی اعنچائی سے دھکا دے کر بے عزتی کے پاتال میں گرا دیتے ہیں۔
ہمارے یہاں مردوں کی محبت کا ایک ہی فلسفہ ہے دوستی کر لو… لیکن شادی کا نام نا لینا۔ ہمارے یہاں بہت سارے مرد ایسے بھی ہیں جو سینہ ٹھونک کر یہ بھی کہتے ہیں کے جو لڑکی ان سے دوستی کرتی ہے اسے تو وہ ویلکم کرتے ہیں لیکن جو محبت کی بات کرے اس سے دور ہوجاتے ہیں…
حالانکہ سب سے قابل توجہ شخص تو وہی ہوتا ہے جو آپ سے محبت کرتاہے ۔  اپنی انا کو مار کر کسی سے محبت کرنا کوئی آسان کام ہر گز نہیں ہے…
دوسری طرف خواتین پہلے تو کسی دولت مند سے شادی کی خواہ ہوتی ہیں ایسے میں کسی توند والے انکل سے شادی کر لیتی ہیں
پھر شادی کے کچھ سالوں بعد انہیں احساس ہوتا ہے کہ دولت تو مل گئ لیکن سچا پیار نہیں ملا پھر وہ سچا پیار ڈھونڈتی ہیں اور جب وہ انہیں مل جاتا ہے تو اس کے لیے وہ سب کچھ کرنے کے تیار ہوتی ہیں سواۓ اپنے دولت مند شوہر کو چھوڑنے کے۔ حالانکہ مذہب انہیں اس بات کی اجازت دیتا ہے کے وہ اپنے پہلے شوہر سے خلع لیکر دوسری شادی کر سکتی ہیں…. لیکن ایسی صورت میں دولت ہاتھ سے جاتی ہوئی نظر اتی ہے سو دونوں چیزیں اکھٹی چاہیے.. میں مانتی ہوں سارے کیسزز میں ایسا نہیں ہوتا
چونکہ ہمارا موضوع نوجوانی کی محبت نہیں ہے اس لیے ہم اسکی بات نہیں کرتے ہمارا موضوع وہ لوگ ہیں جہنیں شادی کے بعد محبت ہو جاتی ہے آۓ روز ایسی بیسوں کہانیاں سامنے اتی ہیں
اج صبح سے کتنے لوگ مجھ سے یہ سوال کر چکے ہیں کے محبت کیا ہے ۔
میں تو ابھی خود طیفل مکتب ہوں میں محبت کی رمزوں کو نہیں جان پائی لیکن اتنا ضرورت جانتی ہوں یہ ہو جاتی ہے دنیا کے ہر انسان کو کبھی نہ کبھی کسی نہ کسی سے نہ عمر کی قید نہ مذہب کی نہ سرحدوں کی یہ ایک ایسا احساس ہے جو ساری دنیا کو چھوڑ کر کسی ایک انسان کے لیے اپ کے دل میں پیدا ہوتا
محبت کا تجربہ ہر شخص کا ذاتی ہوتا ہے
لیکن یہ بات بلکل واضح ہے
کے محبت کے قرینوں میں عزت پہلا قرینہ ہے اگر اپ کسی کی عزت نہیں کرتے تو اپ کبھی محبت نہیں کر سکتے
محبت کیا ہے
ایک احساس
ایک دعا
ایک بندھن
جو کسی سے بند جاتا ہے جس کے لیے یہ ضروری نہیں ہوتا کے وہ شخص اپ کےپاس ہے یا دور فون پہ گھنٹوں باتیں ٹیکسٹ کرنا بھی ضروری نہیں ہوتا
وہ شخص کہیں بھی ہو بس خوش ہو یہ دعا ہے محبت

پتا ہے عزت کیا ہے
جب آپکا محبوب فرط جذبات میں اپ کے کندھے سے سر ٹکاۓ تو تب بھی اپکو اپنی حدود کا علم ہواور دونوں اس حد کوپار نہ کريں
لوگ اکثر مجھ سے کہتے ہیں میں محبت کو جسم سے ماروا سمجھتی ہوں۔
ایسا نہیں ہے۔  لیکن میں جسم کی ہوس کو بھی محبت نہیں سمجھتی۔یہ جو فون، انٹرنیٹ، پارکوں میں محبت ہو رہی ہے کیا یہ محبت ہے ؟
اج ہم نے وقتی اٹيرکشن کو محبت کا نام دے دیا ہے۔
ایک ابال کو محبت مانتے ہیں۔۔۔
جو جب چھلک جاتا ہے تو اسکے ساتھ ہی محبت ختم اور کسی نئی محبت کی تلاش جاری
محبت تو محبوب کی مرضی کے بغیر اسکو چھونے کی بھی اجازت نہیں دیتی…..
میں نے پہلے بھی کہا ہے محبت عزت سے مشروط ہوتی ہے۔
محبت وہ احساس ہے جس کے سنگ لوگ برسوں برس بنا دیکھے بنا ملے بتا سکتے ہیں۔
میں یہ نہیں کہتی کے جس سے محبت ہے اسے پانے کی کوشس مت کريں۔
ضرور کريں بلکہ میں یہ کہتی ہوں کے محبت کو پانے کے لیے اگر اپ کو آخری حد تک بھی جانا پڑے تو ضرور جائيں
لیکن جائز طریقے سے۔۔۔۔ محبت کو کبھی رسوا مت کريں۔۔۔۔
محبت تو بہت سینچ سینچ کر رکھنے کی چیز ہے اور محبوب دنیا کا سب سے قیمتی شخص ہے۔
آج کے دن اگر اپ کےمحبوب کی خوشی اس میں ہے کے اپ اسے ایک گلاب کا پھول دیں چاکلیٹ یا گفٹ ديں تو ضرور ديں لیکن پہلے اسکو اپنی عزت بنا کر۔۔
ایسا نہیں ہو سکتا کے اپ محبتیں تو بے شمار کريں شادی ایک ہی کريں اپ سینہ ٹھوک کر اگر کسی سے محبت کر سکتے ہیں تو مرد بن کر اس سے شادی بھی کیجیے اگر ایسا نہیں کر سکتے تو پھر اپنی محبت کو اپنے اندر ہی دبا کر رکھیے اور کسی سے اظہار مت کہجیے
اور خواتین ایسا تو ہو نہیں سکتا کے اپکو ایک ٹکٹ میں دو دو مزے ملیں دولت بھی اور محبت بھی
اگر زندگی اپکو چنے کی گنجائش دے تو ہمشہ محبت کو چنیے یا ماں باپ کی رضا کو رب کی رضا مان کر قبول کر لیجیے ایسا نہیں ہو سکتا کہ اپ محبت کے لیے کوئی اور راستہ تلاش کريں
میں مردوں کے اس ایکسکیوز کو کبھی نہیں مانتی کے وہ اپنی پسند سے شادی نہیں کر سکتے یا نہ کر سکے
یہ معض ایک بہانہ ہی ہے
باقی اپنی حدود میں رہ کر ضرور محبت کہجیے اور اسکا اظہار بھی
لیکن اسکو پانے کا صرف ایک راستہ ہے اور وہ صرف اور صرف شادی ہے
اور ہاں محبت صرف ائی لو یو ائی لو یو بولنے کا نام نہیں ہے بلکہ ایک دوسرے کو سمجھنے کا احساس کرنے کا نام ہے
اگر یہ احساس اپ کے اندر ہے تو اپ مشکل سے مشکل وقت سے بھی ایک دوسرے کے ساتھ گزر سکتے ہیں….

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں