زندگی

زندگی نام ہے تسلسل کا, یہ صدیوں سے چلتی آئی ہے اور چلتی ہی رہے گی, یہ رواں رہتی ہے, رنگ و روپ بدل کر, موسموں کے ہیر پھیر میں, پورے چاند کی راتوں میں، گہرے پانیوں پہ جھومتی, سیاہ آسمان کی چادر پہ ٹانکے تاروں میں ٹمٹماتی, پربتوں کے پیچھے سے اگلتے سورج کی پہلی کرن میں جھلملاتی, ہوا کے دوش پہ رقص کرتی, کسی پنچھی کے آزاد پروں کے سنگ پرواز کرتی, نرم برف پر سردی سے پھدکتے کسی وحشی جانور کے منہ سے بھاپ بن کر اڑتی, کسی چیل کے پنجوں میں جکڑے ننے پرندے کے حلق سے آخری چیخ بنتی, یہ زندہ رہتی ہے, کسی بھوک سے بلکتے بچے کو دی وہ ماں کی آہ بھری صدا میں , کہیں کسی یاد میں غرق عاشق کی مستی میں, کسی ادھی کھلی کلی کی چٹخ میں, کہیں پھولوں کی پتیوں سے اڑتی مہک میں, بارش کے قطروں سے بنتے بلبلوں میں, دوستوں کی محفلوں سے اٹھتے قہقہوں میں, تلخیوں میں مستیوں میں, درد سے پھٹتے دلوں, زخموں سے رستے لہو میں, یہ زندگی یونہی رواں ہے صدیوں سے, تبدیلیوں کو اپناتی, رنگوں سے کھیلتی, نظاروں میں ڈھلتی, یہیں موجود ہے-

ہم جہاں سے آئے ہیں ہمیں لوٹ جانا ہے, وقت سیدھا نہیں گھڑی کی سوئیوں میں گول گھومتا ہے, یہ سیدھا بھی ہو سکتا تھا, روز سورج چڑھتا ہے, دن ڈھلتا ہے, رات ہوتی ہے, چاند نکلتا ہے, دنیا کا چکر بھی گول ہے, یہ سیدھا بھی ہو سکتا تھا, موسموں کی گردشیں زمانوں سے چکروں میں ہی چلی ہیں, یہ زندگی یہیں کی باسی ہے, ہم اپنا چکر مکمل کرینگے, اپنی زندگی کی گھڑی کی سوئیوں کو چلاتے, جہاں ہمارا چکر پورا ہوا ہم اس گھڑی کی قید سے آزاد, خلا میں پرواز کرینگے, ان زمانوں کی گردشوں سے پرے, وقت کے گرداب سے آزاد, مگر وہ سب میرے تخیل کی باتیں ہیں, ہم پیدا ہوئے, ہم جینے آئے ہیں, ہم گزر جانے یا گزار دینے نہیں آئے, اس زندگی کے حسن کو اپنے اندر سمیٹنے, اس کی ایک ایک مستی سے لطف اٹھانے, پیار بانٹنے, خوشیاں دینے, مسکراہٹیں بکھیرنے, کائنات کے ایک ایک زرے کے کمال سے آنکھوں کو حیران کرنے, دماغ کو کھول دینے, ایک ایک شے کا اصل سمجھنے, اسے تسلیم کرنے, اسکے مقام کی قدر کرنے, اپنی زندگانی کا حصہ ڈال کر اسے پر کرنے آئے ہیں-

ہمیں یہ زندگی اپنی اور دوسروں کی ذات کے ساتھ زیادتی کرنے کو نہیں ملی, انسان کی سرشت میں ہر کہیں نا کہیں محبت بھی بستی ہے, ایسا ممکن نہیں کے انسان بھی ہو اور محبت سے خالی, درندوں میں بھی محبت رکھ چھوڑی ہے, ہم تو انسان ہیں, ضرورت اس امر کی ہے کے ہم دوسرے کو بھی اپنی ہی طرح کا ایک زندہ انسان سمجھیں, جو دل رکھتا ہے, جسے چوٹ آنے پہ درد ہوتا ہے, جسے غصہ بھی آتا ہے اور پیار بھی, اسے بھی تمھاری طرح سردی گرمی تنگ کرتی ہے, وہ بھی سانس لیتا ہے, اس کے وجود میں بھی خون گردش کرتا ہے, اسے بھی بھوک لگتی ہے,, وہ بھی فکر کرتا ہے, یہاں زندوں کو زندہ تسلیم کیا ہی نہیں جاتا, یہاں تو خود کو بھی مار دینا کمال سمجھا جاتا ہے, اپنے جذبات, اپنے احساسات و خواہشات کا خون کرنا عظیم کام سمجھا جاتا ہے, حالانکہ یہ خود کو مایوسی کی طرف لے جانے جیسا ہے, خود کو اپنی ہی آگ میں جلا کر مار دینے جیسا, اس جگہ جہاں انسان اپنے وجود کا ہی قاتل بن جائے وہاں دوسروں کے لیے کیسے ممکن ہے کے وہ کچھ ایسا سوچ سکتا ہے جسے وہ خود پہ حق نہیں دیتا-

ہم مشینیں بناتے انہیں استعمال کرتے خود ایک مشین بنتے جا رہے ہیں, محبتوں کو فراموش کرنا آسان ہو چکا ہے, ہم خود اپنے آپ سے ہی لڑنے بیٹھے ہیں, زندگی جینے سے زیادہ عذاب بناتے جا رہے ہیں, وقت اتنا قیمتی ہو چکا ہے کے خود اپنے لیے ہی وقت نہیں بچتا, بھوک مٹانے کو اتنا کچھ جمع کرتے ہیں. مگر اتنا وقت نہیں ہوتا کے کھانا ہی کھا سکیں, ہم خود کو ترجیحات میں پہلے نمبر پر رکھتے ہیں اور اتنا اوپر کے ہمیں خود ہی اپنا آپ یاد نہیں رہتا, یہاں ضرورت ہے ہمیں خود سے بات کی, دو لمحات خود کو دینے کی, اپنے ساتھ زندگی کو دو پل جینے کی, ہمارا خود کو تسلیم کرنا , خود سے محبت کرنا, خود کو تھوڑا وقت دینا, ہمیں اس زندگی میں زندہ رکھتا ہے, جینا سکھاتا ہے, اور یہی چیز ہمیں اپنی قدر کے ساتھ سامنے والے کی قدر سکھاتی ہے, اسے ایک زندہ اور ہماری طرح کا جیتا جاگتا فرد تسلیم کرنے میں ہماری مدد کرتی ہے, تو اس چھوٹی سی زندگی میں خود کو اہمیت دیجیئے ,خود سے اور دوسروں سے محبت کیجئیے, یہ زندگی تو یہیں کی باسی ہے, فقط ہمیں گزار دے گی, اسے ڈھنگ سے جی جئے , اسے خود کو ہر گز گزارنے نا دیں, فقط ایک بار ملتی ہے, اسے اپنے اور دوسرے کے لیے عذاب نا بنائیے کہ آپ کے جانے پہ شکر ادا ہو, اسے محبتوں سے بھر دیجیئے کے آپ کو ہمیشہ اپنے دلوں میں زندہ اور زندگیوں میں شامل رکھا جائے-

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں