خود شناسی

بائیس اگست کی رات کراچی میں ابر کرم ٹوٹ کے برسا تھا. اس رات تقریباً گیارہ بجے گاؤ تکیہ پہ ٹیک لگائے ہوئے اپنے کزن کی رہائش گاہ پر خود کو بھیگی ہوئی حالت میں پایا. میں مسلسل اپنے موبائل فون میں مصروف ان-باکس اور سینٹ آئی ٹم کو ٹٹول رہا تھا. موبائل کا ان-باکس پیغامات سے خالی تھا اور سینٹ آئی ٹم میں کچھ بھیجے گئے پیغامات موجود تھے.

جنہیں میں یاد کرنے کی مسلسل کوشش کر رہا تھا کہ یہ پیغامات کب اور کسے بھیجے. دماغ ان پیغامات کے سیاق و سباق سے خالی تھا. میں موبائل فون میں اس طرح منہمک تھا جیسے ایک بچے کے ہاتھ پہلی بار موبائل فون لگا ہو اور وہ دنیا سے بے خبر موبائل فون کی دنیا میں کھو گیا ہوں. اتنے میں مجھے سر اور ہونٹوں پر درد محسوس ہوا اور میں نے پاس بیٹھے چچازاد سے مخاطب ہوکر کہا مجھے سر میں درد ہورہا ہے. اس نے جواب میں کہا ہاں مجھے بھی گردن اور کمر میں درد ہورہا ہے.
میں نے چونک کر پوچھا تمہیں کیسے لگی؟ اس نے کہا ہمارا ایکسیڈنٹ ہوا تھا بھول گئے تم، میں نے کہا کب اور کیسے؟ میرا یہ کہنا ہی تھا کہ کزن کے چہرے کا رنگ اڑ گیا اور پھٹی آنکھوں سے مجھے گھورنے لگا. وہ چپ ہوگیا اور کہا کچھ نہیں ہوا چھوڑو تمہارے کپڑے بہت گیلے ہوگئے ہیں. انہیں تبدیل کرلو. اتنے میں اچانک میرے دماغ نے مجھ سے استفسار کیا کہ اتنی رات گئے میں اپنے چچا کے ہاں کیا کر رہا ہوں. اپنے گھر پر کیوں نہیں ہوں. میں نے اپنے دماغ پر زور دیا تو مجھے کچھ یاد نہ آیا. پھر میں اپنے چچازاد سے اپنی اس پراسرار موجودگی کے متعلق سوال پر سوال کرنے لگا. جس سے میرے چچازاد کی حیرت پریشانی میں بدل گئی.مجھے گھر جانے کی فکر ہونے لگی اور اپنے کزن سے اجازت چاہی تو کزن نے یہ کہہ کر روک دیا کہ اس قدر تیز بارش میں تمہارا گھر جانا ممکن نہیں. رات یہیں ٹھہرو. کیونکہ میں نے تمہارے والد صاحب کو فون پر بتادیا ہے.میں نے چونک کر کہا ابو تو پنجاب میں ہیں. چچازاد نے کہا کیا ہوگیا ہے تمہیں. آج ہی تو تمہارے ابو پنجاب سے لوٹے ہیں . میں نے پھر یاد کرنے کی کوشش کی دماغ پر زور دیا مگر کچھ یاد نہ آیا ذہن میں پھر ایک سوال پیدا ہوا کہ ابو پنجاب کیوں گئے تھے مگر میرے دماغ نے جواب دینے اور یاد دلانے سے صاف انکار کردیا. پھر اتنا یاد آنے لگا کہ میں کسی دفتر میں ملازمت کرتا ہوں مگر یہ یاد نہیں تھا کہ دفتر آخری دفعہ کب گیا تھا. مجھے دن اور تاریخ تک یاد نہ تھی. چچازاد سے پوچھنے پر پتہ چلا کہ آج منگل تھا. دن بھر میں کیا کرتا رہا، پیر کو میں کہاں تھا، اتوار کیا کرتے گزرا. مجھے کچھ یاد نہیں تھا. مجھے یہ تک یاد نہ تھا کہ میں آخری مرتبہ کام پہ کب گیا تھا. یہاں تک کہ گزشتہ تین سالوں کی سرگزشت دماغ کے صفحات سے مٹ چکی تھی. اتنے میں چچی جان کپڑے لیکر حاضر ہوئیں اور مجھے کپڑے تبدیل کرنے کو کہا میرا رویہ اور بات چیت کا انداز اور مسلسل موبائل میں لگے رہنا دیکھ کر چچی جان بھی شش و پنج میں مبتلا ہو گئیں. مجھے یہ گمان ہونے لگا کہ میری یادداشت چلی گئی ہے. یہ بات جب مجھے محسوس ہوئی تو پریشانی نے گھیر لیا. میں انتہائی مغموم ہونے لگا. کیا ہوگا زندگی کیسے گزرے گی؟ میں اپنی اس جوانی میں کیا کروں گا. لوگ مجھے پاگل سمجھنے لگے گیں. میرے دل ودماغ میں بیک وقت بہت سارے سوالات نے جنم لیا.
میں کپڑے لیکر واش روم چلا گیا. دل پر مجھے بوجھ سا محسوس ہورہا تھا. تھوڑی ہی دیر بعد میرے منہ سے زور دار پریشر نما فوارے کی طرح پیٹ میں موجود دن بھر کا کھایا پیا سب واش بیسن کی نظر ہوگیا. مجھے زندگی بھر کبھی اتنی خطرناک الٹی نہیں ہوئی تھی. جس نے مجھے کچھ دیر تک حواس باختہ کردیا. اور پیٹ ایسے خالی ہوا جیسے پانی سے بھرے ڈرم کو کوئی چند سیکنڈ میں خالی کرے. میں نے اپنے آپ کو پہلے سے بہتر اور کچھ سکون کی حالت میں میں پایا. کپڑے پہن کر واپس آیا کزن نے مجھے اپنا فیس بک اکاؤنٹ کھول کر دیا. میں نے اس سرچ بار میں جاکر اپنی پوسٹ پڑھنے لگا. جوں ہی میری وال پر موجود پہلی پوسٹ پر نظر پڑی تو میں حیران ہوکر دیکھنے لگا کہ یہ پوسٹ کب لگائی میں نے پوسٹ انگلش میں تھی جس نے مجھے مزید حیرت میں ڈال دیا چونکہ میری حالیہ پوسٹس اردو رسم الخط میں ہوتی ہیں. میں بارہا یاد کرنے کی کوشش کرتا رہا مگر ناکام رہا. بہت دیر تک یوں ہی لیٹے کروٹیں بدلتا رہا نہ جانے کب نیند کی آغوش میں چلا گیا. پھر تقریباً صبح سویرے پانچ بجے کے قریب نیند سے بیدار ہوا. پھر رفتہ رفتہ مجھے گزرے ہوئے کل کی ساری باتیں یاد آنے لگی یہاں تک کہ میری ساری یادداشت بحال ہوگئی. سوائے اس حادثے کے.
طبی معائنہ کرانے کے بعد ڈاکٹر کے اس فقرے نے مجھے حیرت میں مبتلا کردیا کہ تمہارے دماغ سے وہ واقعہ دراصل ‘ڈلیٹ’ نہیں بلکہ ‘سیو’ ہی نہیں ہوا تھا.
اگر چہ مجھے بائیک کے اس حادثے میں ظاہری اور جسمانی کوئی چوٹ نہیں آئی تھی. مگر میڈیکل رپورٹ کے مطابق سر زمین پر لگنے سے دماغ کی چولیں ہل گئی تھیں.

سوچتا ہوں یاداشت بھی قدرت کا کتنا بڑا تحفہ ہے جن لوگوں کی پوری یاداشت غائب ہو جاتی ہے وہ بیچارے کیا کرتے ہونگے

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں