داستاں ختم ہونے والی ہے

کراچی یونی ورسٹی کی راہداریوں میں کتنے ہی خواب مسلے گئے ، کتنے ہی سپنے نو چ لیے گئے  ، کتنے ہی مہندی والے ہاتھ مہندی سوکھنے کا انتظار کرتے رہے ، کتنی امیدیں ، کتنی برساتیں دم توڑ گئیں۔ پوائنٹس سے لٹکے کتنے ہی لڑکے آس میں لٹکے رہ گئے ،مینی کیور، پیڈی کیور کرتی کتنی ہی لڑکیاں ، اپنے ناخن کھرچتی رہ گئیں۔ جب وقت قبولیت آیا تو انہوں نے رسومات اور فرسودہ روایات کے آگے سر جھکانے میں ہی عافیت سمجھی۔

جامعہ کراچی میں پنپنے والی کہانیاں مجھے کبھی کبھی قربان گاہ کی آخری سسکیوں جیسی لگتی ہیں۔ خاص طور پر  آرٹس ڈیپارٹمنٹ کی لابی میں بیٹھے طلبا وطالبات ریت پر ایک دوسرے کے نام لکھتے رہ گئے اور روایتوں کی آندھی نے انہیں حقیقت کی دنیا میں لا پٹخا۔

ایک سے تو مجھے بھِی پیار ہو گیا تھا ، پر اس وقت تک اس کا نکاح ہو چکا تھا۔ اس لیے صرف ایم ایس این چیٹ تک ہی بات محدود رہی پھر وہ بیاہ کر امریکا چلی گئی  یا شاید کینیڈا ، اب تک تک تو میں اس کی زندگی کا کوئی بھولا بسرا،ردی پیپر یا کوئی گمنام گوشہ بن چکا ہوں۔ یا اگر مجھے ایک کہانی کا ایکسٹرا کہا جائے تو بھی غلط نہیں ہوگا، اس کا ذکر تو صرف اس لیے آگیا کہ وہ شاید جامعہ کراچی میں  کامرس یا  اکنامکس  کی اسٹوڈنٹ تھی۔ اب تو نام بھی یاد نہیں اور یہ کہانی اس کی ہے بھی نہیں ، اس نے تو غنچے بن کھلے ہی مرجھا دئے ، نجانے لڑکیاں نکاح کر کے یونی ورسٹی میں کیوں آتی ہیں، یا  پھر وہ منکوحہ لگتی کیوں نہیں؟

ویسے بھی وہاں شاید یہ سب عام  ہے۔ لڑکیوں کا لڑکوں سے بات کرنا وغیرہ وغیرہ اور سن دو ہزار چار میں تو مجھے لگتا تھا کہ جو لڑکی آپ سے بات کرلے وہ آپ سے پیار کرتی ہے گویا  لڑکیاں آئی ہی اس لیے ہیں دنیا میں ، آج تیرہ سال بعد بھی میرا ماننا یہی ہے کہ لڑکے لڑکی میں کشش کے علاوہ کوئی دوسرا رشتہ ہو ہی نہیں سکتا اور ظاہر ہے یہاں بات محرمات کی نہیں ، سارہ کو میں نے پہلی بار یونی ورسٹی میں دیکھا تھا اور اس کے بعد تقریبا پانچ سال بعد اپنے آفس میں وہ چہرہ یادوں سے ایسا چپکا تھا کہ یونی ورسٹی سے نکلنے کے کافی عرصے بعد بھی میں اس کی شبیہ کتنے ہی چہروں میں ڈھونڈتا رہ گیا۔

لیکن جب وہ چاند طلوع ہوا تو آفس میں میرے کیوبل سے بس پانچ کیوبکل کے فاصلے پر ، وہ شاید جانتی نہیں تھی مجھے,  پر پہچانتی ضرور تھی۔ اس کی آنکھوں میں ایک شناسائی کی رمق ضرور دیکھی تھی میں نے. ہونٹ جیسے کچھ کہنا چاہتے ہو پر کہہ نہ پاتے ہوں ، ایسا اجنبیوں کے ساتھ تو نہیں ہوتا. ہونٹوں کی سلوٹیں ، ان کا کچھ کھل کربند ہوجانا، بار بار زبان سے ہونٹوں پر مساج دینا ، اپنی ہی زبان سے اپنے ہی ہونٹوں کو چکھنا ، یہ  کسی شناسا چہرے کو دیکھ کر ہی ہوتا ہے ، ایسا مجھے لگتا تھا ، اب میراا ڈیپارٹمنٹ الگ تھا اس لیے بات چیت کم ہی ہوتی تھی ۔۔جو ہوتی تھی وہ بس رسمی سی ہوتی تھی  اور رسمی بات چیت میں وہ چاشنی کہاں ۔اور کیا یونی ورسٹی سے آج تک اس کا تعاقب یا پھر یوں کہیے کہ آج قسمت سے نے جو اسے میرے سامنے لا کھڑا کیا تھا ، اس کا مقصد کوئی رسمی گفتگو تھی یا احساسات کی نمائندگی کا وقت آچکا تھا ؟

اب تو میری عمر بھی  شادی کی تھی اور وہ بھی کوئی کچی کلی نہیں تھی، پاکیزہ ضرور تھی ، بیضوی چہرے ، کو اسکارف سے لپیٹے رکھتی ، نماز پڑھتی تو لوگ گھڑیاں ملا لیتے ، جن جن سے رقابت کا خطرہ تھا ، ان کو وہ بھائی بنا چکی تھی ، کچھ کولیگز بے چارے اتنے ترسے ہوتے ہیں وہ لڑکیوں کے بھائی بن کر ہی خوش رہتے ہیں کہ چلو اسی بہانے بات تو کر رہی ہیں ، میں کوئی ہیرو نہیں تھا لیکن اس کو ہیروئن بنانا چاہتا تھا ، میں اس سے پیار ویار نہیں کرتا تھا ، پر لگتا تھا اس کے آنے سے زندگی میں تکمیل کا ایک پہلو در آئے گا ، ہلکی سی روشنی آجائے گی ، ہمارے شوق بھی کچھ ملتے تھے ، ایسا نہیں تھا کہ میں سگریٹ پیتا تھا تو وہ بھی پیتی تھی بس کہتی تھی کہ تم پیتے بہت اچھے لگتے ہو کم پیا کرو ، وغیرہ وغیرہ ، مزے کی بات بتاؤں و ہ کوئی بہت خوبصورت نہیں تھی لیکن اس کو میک اپ کی ضرورت نہیں پڑتی تھی ، بلکہ میک اپ تو اس کی سادگی چھپا کے اس کو بدنام کردیتا تھا ، لگتا تھا صرف منہ دھو کر آجاتی ہے ، لپ اسٹک بھی بس کبھی کبھار کوئی میٹنگ ہو تو لگا لیا کرتی تھی ورنہ نہیں۔ ایک بار ایک میٹنگ میں سب ڈیپارٹمنٹس شامل تھے ، میں لاشعوری طور پرسب کے جوتوں کا جائزہ لے رہا تھا پتا نہیں لڑکیوں کے پاؤں مجھے کیوں اتنے پر کشش لگتے ہیں. عجیب وحشت ہے نظر دوڑاتاہوا میں اس کے پاوں تک پہنچا اور سب کی نظر بچا کر پلکوں سے اس کے پاوں کو چوم لیا ، شاید اس کو احساس ہوا تھا کہ میں بہت گاڑھی نظروں سے اس کے پاوں کا جائزہ لے رہا ہوں ، اس نے پہلو بدلا میں نے محسوس کیا کہ سب لڑکیوں نے ایک سے ایک سینڈلز پہنی تھیں اور اس نے پتا ہے کیا پہنا تھا ؟ حیرت ہوگی آپ کو بھی ، مجھے بھِی ہوئی تھی ، وائٹ کلر کی پمپی ٹائپ شوز ، میں حیران ہوا کہ اس کو کوئی پروا ہی نہیں سجنے سنورنے کی ، اس دن مجھے اس کے چہر ے پر اداسی نظر آئی تھی ،

“ارے شہریا ر ، کیا سوچے جار ہے ہو کب سے چائے میں ٹی بیگ ہلا رہے ہو۔۔ ہٹو بھئی ہمیں بھی جگہ دو چائے پینی ہے “۔

یہ شہنیلا تھی ، میری گروپ میٹ.میں نے چائے کا سپ لیا وہ برف ہو رہی تھِی.

“یار دوبارہ گرم کردینا ذرا چائے. میرا دماغ پریزینٹیشن میں لگا ہوا تھا پتاہی نہ چلا”- میں نے کپ شہنیلا کی طرف بڑھایا ۔

“میں جانتی ہوں تم کس پریزینٹیشن پر نظریں جمائے بیٹھے تھے میٹنگ روم میں ” وہ شوخی سے ہنسی ۔۔

” لو وہ آگئی تمھاری پریزینٹیشن “۔

اس نے ہولے سے کہا ،سارہ کچن میں داخل ہو رہی تھی ،

“اچھا میں چلتی ہوں ، ایک منٹ بعد چائے کا کپ نکال لینا “۔  شہنیلا شرارت سے ہنستی چلی گئی ۔

اب کچن میں میں اور سارہ رہ گئے تھے ، آج وقت آگیا تھاکہ میں اس سے بات کرلوں ، کم از کم کہہ ڈالوں کہ میں کیا چاہتا ہوں  ، مجھے معلوم تھا وہ خود سے نہیں کہے گی بڑی رکھ رکھاو والی تھی۔

“سنو”—

“ہوں “۔۔ وہ بھی منتظر تھی کہ میں شاید کچھ کہنا چاہتا ہوں ۔۔

“آج کل کون سا ناول پڑھ رہی ہو”۔

“دھت تیرے کی” میں نے خود کو کوسا ۔۔ “یہ بھی کوئی پوچھنے والا سوال ہے ؟”

“شاباش ۔۔ تو نے کر لیا اظہار اور اس نے کردی ہاں “، میرے اندر ایک اور شہریار مجھے برا بھلا کہتا باہر نکل گیا ۔

اس کے بعد کیا ہونا تھا اس کی دبی دبی مسکراہٹ  میری جھنجھلاہٹ  میں کہیں کھو گئی تھیں ۔

اس نے ناول کا نام بتایا ، اور میں نے گوگل پر اس ناول کی پی ڈی ایف نکال کر پڑھنا شروع کردی ، تاکہ اگلی بار بات کرنے کے لیے کوئی موضوع نکال سکوں ،

جو ناول اس نے بتایا تھا وہ خالص پیار محبت جیسی چیزوں پر مبنی تھا میں ٹھہرا سیرئل کلر فلمیں دیکھنے والا ، خیر کچھ صفحات پڑھ کر باقی کہانی خود سے بنالی اور کرداروں کے نام یاد کر کے اگلی ملاقات کے لیے تیار ہوگیا ۔

اگلا موقع بھی کچن میں ہی ملا ۔۔ اس کو ناول کی جزیات بھول چکی تھیں ۔۔ اور میرے پاس اب کوئی مدعا نہیں تھا بات کرنے کو ۔۔

مجھے لگتا تھا میری کیفیات ، کچن سے شروع ہو کر کچن میں ہی دم توڑ جائیں گی

اور ایسا ہی ہوا ایک دن اس نے چائے بناتے ہوئے کہا

“تئیس اپریل کو میری شادی ہے ” – آوگے ؟

میرا اپریل فول اب اپریل تئیس پہ شفٹ ہوگیا تھا. میں اظہار کرتے کرتے رہ گیا اب مجھے اس کے اقرار کا انتظار کرنا تھا وہ بھی کسی اور کے لیے ، نکاح کے وقت قبولیت کے لیے سر ہلانے اور قبول ہے قبول قبول ہے سننا تھا ۔

میری چائے ایک بار پھر ٹھنڈی ہوچکی تھی ۔

“میرے کپ میں میری بچی ہوئی چائے کا آخری گھونٹ ہے ، اپنی چائے میں مکس کر کے پی لو – میری جھوٹی چائے تو پی ہی سکتے ہو”۔اس وقت وہ مجھے کوئی چڑیل لگی ، جس نے سینے میں اپنے بڑے بڑے ناخن گھسا کر میرا کلیجہ باہر نکالا ہو اور چبا کر مجھے ہی واپس کرکے کہتی ہو ، کھا لو میرا جھوٹا ۔۔

میں نے چپ چاپ اس کی چائے اپنے کپ میں انڈیل لی.

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں