تم میری آخری محبت ہو

تم مری آخری محبت ہو۔۔۔۔ یہ کہانی میں نے تحریر نہیں کی۔ یہ کہانی صرف سنی ہے اور سمجھی ہے ، اس کہانی کے حقیقی کردارمختلف ناموں کے ساتھ آج بھی ہمارے اطراف میں زندہ ہیں اور رہیں گے، جب تک روایت پرستی کے آگے ہم سجدہ ریز رہیں گے ایسے کردار وجود میں آتے رہیں گے۔ ایسی کہانیاں پیدا ہوتی رہیں گی۔اس کہانی کا اصل خالق کوئی اور ہے جویہ نہیں چاہتا کہ اس کہانی کی تپش سے اس کا پریم گھونسلا جھلس جائے جس میں وہ آج کل اکیلا ہی رہتا ہے ۔
میری اور اس کی ملاقات کراچی پریس کلب کے نجیب ٹیرس پرایکعرصحے بعد ہوئی۔
اور مہاجر کیسا ہے؟ اس پ نگاہ پڑتے ہی میں نے گرمجوشی سے یہ جملہ کہا۔۔
ہاں پنجابی ٹھیک ہوں۔اس نےماضی کی طرح اپنے مخصوص بھر پور انداز میں جواب دیا۔  لیکن آج اس کی آواز میں کھنک نہ تھی جو کبھی اسکا خاصہ ہوا کرتی تھی۔وہ مجھے  ٹوٹے پروں والاپرندہ معلوم ہوا۔ میں زمانے کا شغل آدمی ہوں لیکن سمجھ گیا آج شغل لگانےسے پہلے اس کے غم کا اندازہ لگانا ہو گا۔  آج شاید اس کو جوڑنا پڑےگا میں نے سامنے پڑے لال ڈبےسے موت کی ایک سلائی سلگائی اور لمبا سانس کھنیچ کر اس کی آنکھوں میں دیکھا۔
میں نہیں بول پائوں گا آج۔  آفس میں کام زیادہ تھا۔ تھک چکا ہوں۔تو بول بس۔ ۔میں نے اس کا غم ہلکا کرنے کے لئے جماعتیوں اور مہاجروں کو گالیوں سے دھونا شروع کیا۔ وہ بنا رکےڈبہ کرتا گیا۔
 ابے پاگل ہو گیاتو؟ نے تو کم کردی تھی نا؟ میں نے غصے سے کہا۔ وہ بے ساختہ زیر لب مسکرایا
جس کے لئے کم کی تھی وہی انجان ہو گئی ۔ دھیمی آواز میں اس نے بھید کھولنے کی کوشش کی ۔
چل بے کتا پنا نہ کر۔سچ بتا مسئلہ کیا ہے۔
 تجھے سے دل لگاہوا ہے لیکن اب اتنا بھی نہیں. پنجابی تم لوگ بڑے بے وفا ہوتے ہو۔ دیکھ بھائی تو آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ہر لڑکی پیچھے چلانے کا فن جانتا ہے ۔ہمیں نہیں بنا۔اس کی آنکھوں کی نمی اور مسکراہٹ نے مجھےسارا قصہ سمجھا دیا۔
سیکٹر انچارچ بتا یار مجھ سے بھی شئیر نہیں کرے گا؟ میں اس کے قریب ہوتے ہوئے بولا۔ میں جانتا تھا کہ وہ یہ بات صرف مجھ سے ہی کر سکتا ہے اور اس کےگھر میں اور جماعتی غیر جماعتی دوستوں میں کوئی دوسر ایسا نہیں۔
 کب انسیت ،عادت اور محبت میں تبدیل ہوئی، پتا ہی نہیں چلا ۔ بس جب ہوش آیا تو لگا کہ پاؤں تلے زمین ہی نہیں۔  دو دن کھانا نہیں کھا سکا۔ بیمار ہوا تو گھر والوں کو اندازہ ہواکہ بچہ جو پنجابی اور مہاجر کی دیوار گرانے کی بات کررہا گرانے دینی چاہئیے۔
اماں آئیں کہنے لگیں بیٹا یہ لوگ اچھے نہیں ہوتے۔ ہمارے ماحول کے نہیں لیکن پھر بھی بات کریں گے۔ بھابھی نے بھی احسان جتایا کہ ارے یار پریشان نہ ہوں میں نے سمجھا دیا امی کو۔ میں نے کہا اب وہ مر گئی میرے لئے۔
ایسا کیوں کہا؟
بس کیوں کہ مجھے لگا کہ میں اس سفرمیں اکیلا ہی تھا۔ ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟ تو لوگوں کو اتنا غلط نہیں پرکھ سکتا۔
نہیں یار میں ہمیشہ سے ہی ولن رہا ہوں۔ بس اس محبت کی کہانی میں سائیڈ رول تھا۔ پھر بھی ایک افسوس رہے گا اس نے دوست ہونے کے ناطے زرا اعتبار نہیں کیا اور کچھ بھی شئیر نہیں کیا۔ حاصل کرنا یا فتح کرنا کبھی  خواہش نہیں تھی جتنا اس کو اپنے پاؤں پر کھڑا اورخوش دیکھنے کی تھی۔ بس اس نے وہ بھی چھین لی ۔
ابے بد معاشی کر لیتا تجھ سے بہتر کون جانتا ہے یہ کام۔ ایک وقت تھا کہ توتو ماہر تھا ۔
نہیں یار بدنام ہوجاتی ۔
لعنت نامرد آدمی۔ تو اس کو راضی کرتا۔وہ مان جاتی۔ نہیں تو بتا تو دیتا۔
نہیں یار وہ دم والی نظر نہیں آتی ہے۔ ایسے میں اس کو مجھ سے زرا بھی دلچسپی ہوتی تو ممکن تھا کہ اس کو دکھ پہنچنا دیتا۔
پاگل ہے یار تو۔ یہ کہہ کر میں نے اس کو بھینچ لیا۔۔۔
پاگل نہ بول۔ وہ رندھی آواز میں بولا۔ اس پر کاپی رائٹ ہے اس کا۔ اور ساتھ ہی اپنی وفا کی نشانی دو آنسوؤں سے میرے کندھے کو نم کر دیا۔۔ اگلے پانچ منٹ کی خاموشی میں وہ دھوئیں کے مرغولے اڑاتا اپنے آپ کو نکوٹین کی ٹکور دیتا رہا اور میں سوچتا رہا کہ لسانی تفر یق کی تلخ حقیقت نے ایک اور نوجوان کو زندگی سے دور کر دیا۔

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں