بدگمان محبت

 “محبت اگر بدگمان ہوجاۓ تو پھر عمر بھر کی وضاحتیں بھی اس پل کا تاوان نہیں بھرسکتیں ،جس گھڑی محبت بدگمان ہوئی ہو،پھر عمر بھر ماتھا رگڑتے رہو ،مگر بدگمانی کی دھند چھٹتی ہی نہیں۔۔  لکھتے لکھتے میری انگلیاں شل ہوگئیں .تھکن پوروں سے ہوتی ہوئی میری آنکھوں میں اتر آئی اور ساتھ ہی وہ پل بھی جس گھڑی محبت بدگمان ہوکر روٹھ گئی تھی مجھ سے ۔

“پانچ سال ،پانچ سال میں نے تمہارا انتظار کیا ۔پتہ ہے نا ؟ پانچ سال میں کتنے پل ، کتنے لمحے میں نے خود پہ آئی خوشیاں حرام کیں .کتنے پل تمہارے انتظار میں آنکھوں کو لہو کیا۔۔ کتنی اذیت سہی۔ اور تمہارے اپنوں کے فیصلوں نے میری محبت کو تمہارے وجود ، تمہاری زندگی سے یوں اکھاڑ پھینکا جیسے اسکا کوئی وجود ہی نا ہو اور تم نے میری معصوم محبت کو اپنوں کی خوشیوں کی بھینٹ چڑھا دیا ” وہ چیخ چیخ کر کہنے لگی اور اب …اب تم راستے جدا کرنے کا سوچ رہے ہو ؟ ہے نا ؟ اسکا نازک وجود لرزنے لگا اسکے آنسو میرے دل پہ قطرہ قطرہ گرنے لگے. میں آگے بڑھا اسکی آنکھوں سےگرتے موتی چننے کیلئے ….اسے بدگمانیوں کی دھند سے نکالنے کے لئے اسے پھر سے اعتبار سونپنے کے لئے .مگر میں وضاحتیں دیتا آگے بڑھتا رہا اور وہ بدگمان سی پیچھے ہٹتی چلی گئی اور پھر بدگمانی کی دھند نے ہمارے بیچ سب کچھ دھندلادیا….. میں نے آج اسے بارھویں ای میل بھیجی .شاید اس بار میری وضاحتوں سے وہ اپنا فیصلہ بدل دے .اس برس بدگمانی کی دھند چھٹ جاۓ اور وہ لوٹ آۓ …. میں نے کھڑکی سے باہر پھیلی دھند سے نکلتے مدھم آفتاب کو دیکھ کر امید سے سوچا۔

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں