محبت کا دائمی استعارہ

کئی راتیں بیت گئیں ۔ بہتیرے ساون برس گئے ۔ چلچلاتی دھوپ ڈھل گئی ۔ جاڑوں کی سخت سردیاں گزر گئیں ان ہی گزرے دنوں کے بعد مجھ سے انکا فون نمبر ڈائل نا ہوسکا ۔ اس طویل دوری کے بعد اس نمبر پراب میں بالکل بھی کال نہیں کرسکتا جو کئی برس پہلے میں نے اپنے سیل فون میں بہت چاہت کے ساتھ فیڈ کیا تھا ۔ آج جب اپنے اسمارٹ فون پر انکا لینڈ لائن نمبر نظر آیا تو آنکھیں آبدیدہ ہوگئیں ۔ پھر انکی یادیں تواتر سے میرے خیالات کی دھلیز پر آبیٹھیں ۔ جنھیں میں سدا اپنی آغوش میں رکھنا چاہتا ہوں ۔

برسہا برس پہلے جب میرے سیل فون پر انکا نمبر ٹمٹماتا ہوا ایک دلفریب ساز چھیڑتا تھا تو میرے دل کے تار بجنے لگتے تھے میں انتہائی عجلت میں اسے وصول کرتا ۔ مجھے ایسا لگتا جیسے کائنات میں جلترنگ بج اٹھے ہیں ۔ ایک خوشگوار فضا میرے اردگرد کے ماحول پر جیسے چھا گئی ہو ۔ ایک نیا موسم میرے لیئے آ پہنچا ہو ۔ یا خزاں میں رنگ برنگے پھول کھل اٹھے ہوں ۔

مجھے اچھی طرح سے یاد ہے کہ ایک نیم دھند زدہ صبح جب میں انکے کمرے میں پہنچا تو انکا کمرہ سادہ مگر پروقار انداز میں سامان استراحت سے آراستہ تھا۔ جسکی نفاست اپنے منہ سے خود بول رہی تھی ۔ کھڑکیوں پر پستائی دبیز پردوں سے کمرہ کا ماحول بے حد نفیس، دلکش اور پرسکون لگ رہا تھا ۔ کشادہ اور ہوادار کمرہ جس میں پھول دارایرانی قالین اور شیشم کی لکڑی کے بنے خوبصورت فرنیچرانکے ذوق کی گواہی دے رہے تھے ۔۔

یادیں سیلاب کی لہروں کی مانند میرے دماغ میں اتھل پتھل کررہی تھیں ۔ انکی رحلت کے بعد وہ لینڈ لائن نمبر اب ختم ہوچکا ہے ۔ مگر میں نے اسے محفوظ کررکھا ہے کسی معصوم بچے کی خواہش کیطرح ایک خوش فہمی کیطرح کہ ابھی امی مجھے اس نمبر سے کال کرینگی میرا حال پوچھیں گی ۔۔۔ پوچھیں گی کہ کشور وقت پر کھانا دیتی ہے یا نہیں وہ تیرا خیال رکھتی ہے کہ یا نہیں ۔ تیرا ٹھکانہ کیسا ہے کسی قسم کی کوئی پریشانی تو نہیں ۔۔۔ تیری طبعیت کیسی ہے ۔۔۔

میرے لئے وہ نمبر کیا خاموش ہوا جیسے زندگی کا رومانس مجھ سے چھین لیا گیا ہو ۔
کیونکہ ۔۔
محبت اعانت اور شفقت کا انتہائی مضبوط استعارہ اپنے ساتھ کال کے جوابی حقوق عارضی اور فانی دنیا سے دائمی دنیا تک لے گئی هیں ۔

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں