جرم

ایک نشے میں دھت نوجوان موٹرسائیکل پر سنسان سڑک سے (تھوڑی سی جو پی لی ہے، چوری تو نہیں کی ہے) گنگناتا ہوا گزر رہا تھا۔ نوجوان نشے میں اتنا دھت تھا کہ اس کی آنکھیں چندھیا چکی تھیں۔ کمر ٹیڑھی ہو کر جھک چکی تھی، اور آواز جیسے کسی ناساز طبیعت کے مالک ضعیف کی سی ہورہی تھی، لیکن موٹر سائیکل کی رفتار گویا ہواؤں سے باتیں کر رہی تھی کہ اچانک سڑک پر موجود گڑھوں کے باعث نوجوان اپنا توازن برقرار نہیں رکھ پایا اور (کوئی ہم کو روکو کوئی تو سنبھالو، کہیں ہم گر نہ پڑیں) گنگناتے ہوئے گر پڑا۔

یہ سڑک رات کے اوقات میں عموماً سنسان ہی رہتی تھی، جس کی وجہ سے سڑک پر پڑا کسی کی مدد کا متمنی نوجوان تڑپتا ہوا اپنی موت کو قریب آتےہوئے دیکھ رہا تھا، لیکن افسوس کہ اس کی مدد کرنے کیلئے وہاں کوئی موجود نہ تھا۔
کچھ ہی دیر گزری تھی کہ دو شریف نوجوان، زوہیب اور رافع (جن کے امتحانات چل رہے تھے) کوچنگ سے ایکسٹرا کلاس لے کر گھر کو لوٹ رہے تھے۔ زوہیب اور رافع اس نوجوان کو سڑک پر زخمی حالت میں تنہا پڑا دیکھ کر اس کی مدد کیلئے پہنچے تو اس کی سانسیں چل رہی تھیں۔ زخمی شرابی کی حالت دیکھ کر زوہیب اور رافع سر سے پیر تک پسینے سے شرابور ہوگئے اور دونوں ہی (اسی شش و پنج میں مبتلا کہ اس کی مدد کیسے کی جائے) ایک دوسرے کو دلاسے دے رہے تھے۔ زوہیب اور رافع زخمی نشے باز کی مدد کی کوشش ہی کر رہے تھے کہ پولیس موقع پر پہنچ گئی جسے دیکھ کردونوں سکون کا سانس لیا۔
پولیس نے موقع پر پہنچ کر زخمی نشے باز کی مدد کے بجائے زوہیب اور رافع سے پوچھ گچھ شروع کردی کہ کیا ہوا تھا؟ کیسے ہوا تھا؟ کب ہوا تھا؟ وغیرہ وغیرہ۔۔۔ زوہیب اور رافع دونوں یہ بات بارہا دہراتے رہے کہ پوچھ گچھ بعد میں بھی ہوسکتی ہے لیکن اگر اس کی جان چلی گئی تو واپس نہیں آسکتی، لہٰذا پہلے اس کی مدد کی جائے۔ دونوں اس بات پر زور دیتے رہے کہ زخمی کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا جائے لیکن پولیس نے ایک نہ سنی اور پوچھ گچھ کے دوران ہی جو کچھ دیر پہلے تک زخمی تھا، اب مر چکا تھا۔
زخمی کے مر جانے کے بعد پولیس نے تمام ملبا زوہیب اور رافع پر ڈالتے ہوئے کہا کہ تم لوگوں کی وجہ سے یہ مر گیا، اب تو کیس بنانا پڑے گا۔ زوہیب اور رافع جیسے ہی کچھ کہنے کی جرات کرتے پولیس انہیں خاموش کرادیتی۔ واقعے کا کوئی بھی عینی شاہد نہ ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پولیس نے مر جانے والے نوجوان کی تلاشی لی۔ اس دوران موبائل فون اور نقدی وغیرہ برآمد کی، جبکہ زوہیب اور رافع کو تھانے منتقل کردیا گیا۔
تھانے میں پولیس نے زوہیب اور رافع کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔ جبکہ دونوں کے اہلخانہ سے رشوت کا سوال بھی کیا۔ زوہیب اور رافع دونوں ایک غریب طبقے سے تعلق رکھتے تھے جس کی وجہ سے ان کے اہلخانہ کے پاس پولیس کے روپ میں قانونی ڈکیتوں کی تجوری بھرنے کیلئے کچھ بھی نہ تھا۔ مگر دونوں کے اہلخانہ کو یقین تھا کہ نوجوان کوئی غیر قانونی کام نہیں کرسکتے۔
زوہیب اور رافع کے ساتھ ناروا سلوک کے بعد انہیں جیل میں اس جرم کی سزا کاٹنے بھیج دیا گیا جو انہوں نے کیا ہی نہیں۔ کئی برس تک جیل میں چکی پیسنے کے بعد جب دونوں نوجوان رہا ہوئے تو ان سے کوئی آنکھ ملانے والا نہ تھا۔ لوگوں کی نظروں میں دونوں کا رتبہ گر چکا تھا۔ کوئی ان سے ڈرتا، کوئی انہیں دیکھ کر منہ موڑ لیتا تو کوئی ان پر طعنے کستا۔
اب دونوں نوجوانوں کیلئے زندگی گزارنا مشکل ہوتا جارہا تھا۔ چند روز تک ذلت بھری زندگی گزارنے کے بعد دونوں نے باہمی سوچ بچار کے بعد ایک اہم فیصلہ کیا اور بالآخر اس پولیس اہلکار کو قتل کردیا جس کی وجہ سے ان کی ہنستی مسکراتی زندگی آنسوؤں کی لڑی بن چکی تھی۔ قتل کے بعد کچھ روز تک دونوں نوجوان ڈرے ڈرے اور سہمے سہمے رہے لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا گیا ان کا ڈر ختم ہوتا گیا اور آہستہ آہستہ دونوں نے قتل، چوری، ڈکیتی اور منشیات فروشی سمیت تمام جرائم کرنا شروع کردیئے ۔۔۔۔۔۔ کیونکہ اب وہ دونوں معصوم نوجوان مجرم بن چکے تھے۔

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں