محبت ہے درمیان

اسکی پيدائش ايک مذہبی گھرانے ميں ہوئی. جہاں شروع سے پردے کی پابندی تھی، حتی کے چچیرے اور خالا زاد بھائیوں سے بھی پردہ کیا جاتا۔ ابا مسجد کے پيش امام تھے سو گھر ميں نماز روزے جیسے فرائض بھی خشوع وخضوع سے ادا کئے جاتے….
وہ اسکی جوانی کے اولین دن تھے جب اس کا پھوپھو زاد يونیورسٹی سے تعليم مکمل کر کے سب سے ملنے آیا تھا۔ ابا نے آکر اسے اطلاع دی تھی کہ تمارا پھوپھی زاد شہر سے آیا ہے۔اسکے کھانے کا بندوبست کرو۔

تجسس نے اسکے دل ميں سر اٹھايا کے ديکھوں کہ کيسا ہے؟ برآمدے کی چلمن کو ذرا سا کھسکا کر اس نے صحن ميں جھانکا۔وہ  شخص نانا کے پاس بيٹھا تھا۔  ٹھيک اسی لمحے اس نے بھی نگاہيں اٹھائیں، نظریں ملیں ۔۔ وہیں کہيں محبت گھات لگے بيٹھی تھی..
لاکھ پہرے بٹھا لو لاکھ پردوں ميں چھپ جاؤ۔۔ محبت صرف ايک نگاہ کا کمال ہے .. چاہے وہ نگاہ جھک جائے يا اٹھ جائے يا پھر کبھی نا جھک پائے ..
ايسا ہی کچھ ہوا تھا ان دونوں کے ساتھ محبت نے ان پہ وار کر ديا۔ محبت کا وار کبھی خالی نہيں جاتا۔ اس نے گھبرا کر چلمن گرا دی..
سانسيں بے ترتیب ہو رہی تھی دل سينے سے باہر آنے کو مچل رہا تھا۔ کھانا مہمان کو دينے کے بعد وہ اپنے کمرے ميں آگئی اور اس نگاہ کوبار بار سوچنے لگی،جو اٹھی تو اپنے ساتھ اسکا سب کچھ لے گئی۔ لمحے بھر میں جذبات بدلے، اب اسے خود سے ہی لجا محسوس ہونے لگی ۔ دل تھا کہ عجیب سی کیفیت میں گھرا تھا۔  کب ظہر ہوئی کب عصر گزری اسے پتہ ہی نا چلا ….ابا نے آ کر کھڑکيوں کے پردے کھسکائے تو اسے وقت کا احساس ہوا ..
کيا بات ہے پتر اج تم نماز کے ليے بھی نہيں اٹھیں۔ طعبيت تو ٹھيک ہے ناں؟ ابا اسکے ليے يوں ہی فکر مند رہا کرتے۔ ماں کے انتقال   کے بعد سے ابا نے ہی اس کمی کو پوری کرنے کی کوشش کی تھی ۔

کچھ نہيں ابا بس آنکھ لگ گئی تھی ۔وہ اٹھی اور نماز کی تياری کرنے لگی … ايک ہفتے بعد جب پھوپھو ان کے گھر آہيں اور ساتھ يہ نويد لائیں کے وہ اسکا رشتہ مانگنے اآئی ہيں۔ اس وقت اسے لگا کے اسکا پھوپھی زاد ايک کامل مرد ہے‫‫‫.محبت کی کامليت يہی ہے کہ جس سے ہو اسے عزت بنا کر گھر لے آؤ …
ہمارے معاشرے ميں مرد کو ہی حکمرانی حاصل ہے، سربراہ کی حیثیت سے آخری فیصلہ اسی کا ہے۔ ابا نے چھوٹی بیٹی کے ذريعے اس سے اسکی مرضی دریافت کی۔ اسکی جانب سے تو رضا مندی ہی رضا مندی تھی۔ ليکن چھوٹی بہن نے نقطہ اٹھایا کہ پھوپھو کے پہلے تين شادی شدہ بيٹے ہيں اور وہ سب ايک ساتھ رہتے ہيں۔ سب سے تشويش ناک بات يہ تھی ان کے يہاں اللہ نے اپنی رحمت نہيں دی تھی وہ اس نعمت سے تاحال محروم تھے..چھوٹی نے کہا کہ اگر خدانخواستہ انکے يہاں بھی اولاد نہ ہوئی تو ؟
اس نے اسکی بات کا فقط اتنا جواب دياتھا رب بہت مہربان ہے اگر وہ دينا چاہے تو ناممکن کو ممکن بنا ديتا ہے۔ صرف اسکے کن کی دير ہوتی ہے ليکن اگر اس نے ہميں اس نعمت سے محروم رکھا تو ہمارے درمياں محبت ہی کافی ہے اور کسی چيز کی ضرورت نہيں …. ڈھیروں خواب آنکھوں ميں لے کر وہ بياہ کر پھوپھو کے گھر آگئی…
ہر لڑکی کی طرح اس کے خواب بھی محبوب شوہر کے ساتھ کے تھے۔ وہ خواب جس ميں ہر دن سہانا ہوتا ہے وہ نہيں جانتی تھی زندگی کی حقيقتيں حسين خوابوں جیسی نہیں ہوتیں… معيد اسکا شوہر شادی کے کوئی ايک ہفتہ اسکے ساتھ رہا، پھر وہ شہر چلا گيا کيونکہ نوکری شہر ميں ہی تھی ۔ جانا تو تھا ہی پيچھے وہ بھرے پرے گھر میں بھی خود کو اکیلا محسوس کرتی۔

گزرے سات دنوں ميں معيد نے ايک بار بھی اسے يہ نہيں کہا تھا کہ وہ اس سے محبت کرتا ہے۔ ليکن اسکا نرم نرم سا خيال رکھنے والا تاثر اسے باور کرا رہا تھا …کہ محبت ادھر بھی ہے۔ معيد ان مردوں ميں سے تھا جو اظہار سے زيادہ عمل پہ يقين رکھتے ہيں دن مہینے بنتے گے اور مہينے سال ..

وہ سسرال میں رہتی تھی۔ معيد شہر ميں نوکری کرتا تھا۔ ساس اسے اسکے ساتھ اسے جانے  نہيں ديتی تھیں۔  ان کا خيال تھا کے اگر بہو بھی بيٹے کے ساتھ چلی گئی تو بيٹا مڑ کر گاؤں ائے گا ہی نہيں…
جب معيد آتا تو اسکے ساتھ دن ايسے گزر جاتے مانو پر لگا کر اڑتے ہوں۔ ليکن اسکے جانےکے بعد ايک ايک دن صديوں برابرلگتا۔ کبھی کبھی اسے معيد پہ غصہ بھی آتا کہ وہ اسے ساتھ لے کر کيوں نہيں جاتا..
اسے يہ خيال بھی بری طرح ستاتا کہ شاید معيد کو اس سے محبت نہيں ہے۔ جہاں محبت ہو وہاں يہ وسوسے بھی دلوں کو کھائے جاتے ہيں۔ محبت ہو تو اسکا اظہار بھی ضروری ہوتا ھے تبھی تو محبت نمو پاتی ہے ،،محبت ايسا بوٹا ہے جيسے اظہار کی آبياری نا ملے تو مرجھا جاتا۔ وہ بھی مرجھانے لگی تھی۔  معيد مہینے ميں ايک آد بار ہی گھر آتا ..ايک دن گزار کر لوٹ جاتا اسکے جانے کے بعد وہ بولائی پھرتی کچھ سمجھ نہ اتا تو بيٹھ کر رونا شروع کر ديتی..
اب تو ساس بھی اس سے جھگڑنے لگی تھی بات بے بات ٹوکنا اب تو اولاد نہ ہونے کی چہ مگوئياں بھی ہونے لگی تھی.. ہمارے معاشرے کا الميہ يہ ہے کے اگر شادی شدہ جوڑے کے يہاں اولاد نہ ہو تو اسکا سارا الزام عورت ہی کےسر تھوپاجاتا ہے..
اُسے ہی بانجھ کہا جاتا ہے، حالانکہ کمی مرد ميں بھی ہو سکتی ہے۔ ليکن مرد کو کوئی کچھ نہيں کہتا۔ عورت کو اس جرم کی سزا ملتی ہے…
اور مرد کو نئی بيوی انعام کی صورت ملتی ہے ، حالانکہ اولاد پيدا کرنے پہ انسان قادر نہيں.. يہ تو سوھنے رب کی تقسیم ہے جسے چاہے نوازے جسے چاہے محروم رکھے..
ساس کے بہت تنگ کرنے پر اس نے معيد سے کہا کے اسے شہر کسی اچھے سے ڈاکٹر کے پاس لے جائے حالانکہ معيد نے اسے بہت سمجھايا تھا جب رب کو منظور ہوا توانہیں  يہ خوشی مل جائے گی،  کوئی جلدی نہيں ہے،  ليکن وہ نا مانی۔  ضد کر کے اسکے ساتھ شہر کے بڑے ہاسپٹل گئی جہاں ڈاکٹر نے بہت سارے ٹيسٹ کرنے کے بعد اسے بتايا کے وہ بلکل ٹھيک ہے.. بچہ پيدا کر سکتی ہے وہ بس دعا کريں کہ خدا انہيں نوازے..
اس اميد کے ساتھ وہ لوٹ آئی کےاس معاملے میں بھی خدا مہربان ہو ہی جائے گا۔  اسی آس ميں سالوں بيت گے اور انکی شادی کو دس سال کا عرصہ ہو گيا۔ ان دس سالوں ميں کتنے موسم آکر گزرگئے۔ کتنے تہوار ائے ميعد کوگھر آنے کی چھٹی کبھی ملتی کبھی نہ ملتی اب تو اسکو اپنا اپ کسی خالی گھر کی بدروح کی طرح لگنے لگا تھا۔
انہی دنوں اسکی ساس نے معيد کی دوسری شادی کا شوشہ چھوڑ ديا۔ ماں نے معید سے بات کی تو وہ ہتھے سے اکھڑ گيا کے مجھے دوسری شادی نہیں کرنی ۔  اگر خدا نے اولاد نوازنی ہوئی تو اسی عورت  سے نوازے گا..نہيں تو نا سہی۔  ماں نے جب ديکھا معید نہيں مان رہا تو اس نے اسی سے بات کی کہ تم معید کو مناؤ۔ تم خود غرض ہو، تم اپنی غرض کے ليے اس سے باپ بننے کی خوشی چھين رہی ہو۔ تم يہ چاہتی ہو لوگ ميرے بيٹے کو بے اولاد اور بانجھ کہيں؟  وہ کچھ نہ بولی بس چپ چاپ سنتی رہی کہتی بھی کيا اور کيسے سمجھاتی کے محبوب کی تقسيم کس قدر جان لیوا عمل ہے …
حد تو اس دن ہوئی جب اسکی ايک سہيلی نے اس سے کہا کے سنا ہے تمارا شوہر بانجھ ہے اس ليے تمارے يہاں بچہ نہيں ہے..
تب اسکی برداشت جواب دے گئی بات جب اپنی زات تک ہو تو انسان ہر چيز برداشت کر ليتا ہے ليکن اگر اسکے محبوب کے بارے ميں کہے تو وہ برداشت نہيں ہوتا …جب تک اسے بانجھ کہا جاتا رہا وہ چپ چاپ سنتی رہی ليکن اج اس نے معید سے بات کرنے کا فيصلہ کر ليا تھا۔ معید چھٹی ايا تو وہ اسکے اگے ہاتھ جوڑے کھڑی تھی معید تم دوسری شادی کر لو اتنے سال ميں نے بانجھ ہونے کا طعنہ اپنی ذات پہ سہہ ليا ليکن کوئی اپکو کہے مجھ سے يہ سہا نہيں جاتا کتنے برسوں کی بعد وہ معید کے سامنے پھوٹ پھوٹ کے رو رہی تھی…

معید نے بھی اسے رونے ديا جب وہ جی بھر کے رو چکی توپھر دھيرے سے اسکے کندھوں پہ ہاتھ رکھ کر اسے اپنے پاس بٹھايا اسکے آنسو صاف کيے پھر گويا ہوا
برسوں پہلے جب تماری بہن نے تم سے کہا تھا کے اگر تماری اولاد نہ ہوئی تو تم کيا کرو گی تب تم نے کہا تھا کے ہمارے درمياں محبت ہی کافی ہوگی آج ميں تم سے کہتا ہوں ہمارے درمياں محبت ہی کافی ہے ميں محبت اور تم کافی ہيں تم ميرے ساتھ ہو تو مجھے اور کچھ نہيں چاہيے ہم يہاں نہيں رہيں گے ہم شہر جا کر رہيں گے يہ باتيں سن کر اسےايسا لگا جيسے برسوں کی تھکن اتر گئی ہو اب اسے يقين ہو گيا تھا کے ان کے درمياں محبت ہے
اسنے آسودگی سے آنکھيں موند کر سر معيد کے کندھے پہ ٹکا ديا۔

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں