نوجوان بچے

وہ آہستہ آہستہ قدم اُٹھاتی ادھر اُدھر دیکھتی کلاس روم میں یوں داخل ہو رہی تھی، جیسے یا تو کُچھ اُٹھانے آئی ہو یا پھر پہلے کبھی  چوری کرتے پکڑی جاچُکی ہو۔ وہ دورازے کی اوٹ سے بار بار جھانک کر دیکھتی تھی۔ کُچھ ڈری ہوئی، کسی بات سے خوفزدہ سی، کبھی پیر اندر رکھتی کبھی پیچھے کر لیتی۔
آخرکار ہمت مجتمع کرکے نظریں نیچے کئےاسکارف کو اچھی طرح لپیٹ کر قمیض آگے پیچھے سے درست کر کے بڑے بڑے قدم اُٹھاتی تیزی سے اپنے بینچ پر جاکر بیٹھ گئی۔
اوئی سُنا ہے کل تیرا بھائی ہوا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ہاہاہاہاہا۔۔۔۔۔تیری ماں ہسپتال میں ہے۔۔۔۔۔۔ہاہاہاہاہاہ۔۔۔۔۔ہو ہو ہو۔۔۔۔۔۔۔عجیب معنی خیز ہنسی ہنستے ایک دوسرے کے ہاتھوں پر ہاتھ مارتے اسکی کلاس کے لڑکے نادیہ کا مذاق اڑانے لگے۔
نادیہ ناسمجھی سے انھیں دیکھ کر سوچنے لگی ۔ گھر میں تو سب مٹھایاں کھا رہے تھے۔ خوش ہو رہے تھے کہ الله نے انکے گھر سالوں بعد اپنی نعت بھیجی، ۔پھر یہاں مذاق کیوں اڑایا جارہا ہے؟
ابھی انہیں اس شہر میں منتقل ہوئے ایک ہی مہینہ ہوا تھا۔ نادیہ کے ابّو ایک سرکاری ملازم تھے۔ ٹرانسفراس شہر میں ہواتو اپنی بچّی اور بیوی کو بھی یہیں لے کرآگئے۔ یہاں تک تو سب ٹھیک تھا نیا شہر، نیا گھر، نئے لوگ ۔ مسئلہ تب ہوا جب نادیہ نے نئے سکول میں ایڈمیشن لیا۔ ساتویں کلاس میں پڑھتے بچے نہ توہر راز سے واقف تھے اور نہ اتنے انجان تھے کہ بچے فرشتے لاکر دے جانے والے جھوٹ کو سچ مان لیں۔
تمہیں پتہ ہے سارہ کل گھر جلدی کیوں چلی گئی؟۔۔دبی دبی سی سرگوشیوں کی آواز اسکے کانوں میں اتری۔

نہیں تو،تو بتا کیا ہوا تھا۔؟ ۔ویسے تو سارہ پچھلے کُچھ مہینوں سے انہی دنوں ایسے ہی جلدی چلی جاتی ہے۔سرفراز کی چسکا لیتی آواز نے اسکے کانوں سے دھواں نکلوا دیا۔
ہاہاہا سارہ کیا۔۔۔۔۔۔میں تو تُجھے باقی لڑکیوں کی بھی تاریخ بتا سکتا ہوں۔ تو جانتا نہیں ہے بھائی کو۔ایک دھچکا سا تھا جو اسکو لگا۔ کیا ہمارا کوئی بھی معاملہ ان لڑکوں سے چھپا ہوا نہیں ہے۔ لڑکیوں کے ایسے معاملے کو لڑکوں کے درمیان ڈسکس ہوتا دیکھ کراسکا دل بے اختیار ہی دُکھ کی عمیق گہرائیوں میں ڈوب گیا۔ اُسے لگا کہ وہ بھری کلاس میں رسوا ہو گئی ہے۔دن بدن بڑھتا دباؤ اور ماں باپ سے شرم کے مارے بات نہ کر سکنےکی گھٹن اُسے پڑھائی سے دور اور چڑچڑا بنانے لگی۔لڑکوں کے ہر روز فقرے کسنے اور تنگ کرنے پر ایک دن بیزار ہو کر اپنی کلاس میٹ کو ہمراز بنانے کا ارادہ کر لیا۔
کیا کروں مہناز دوپٹہ بھی پہلے سے بڑا لینے لگ گئی ہوں۔؟کسی بات کا جواب بھی نہیں دیتی ؟پھر بھی انکی بے باکی حد سے بڑھتی جا رہی؟کبھی تو نظروں سے ہی ناپ لینا شروع کر دیتے ہیں؟۔
تم ایسا کرو ان میں سے ہی کسی ایک کو دوست بنا لو پھر باقیوں کو وہ خودہی پوچھ لے گا۔۔ویسے بھی تم کُچھ ضرورت سے زیادہ ستی ساوتری بنتی ہو۔ ۔ہم بھی تو ہیں ۔ ہمیں تو کوئی اتنا تنگ نہیں کرتا۔ تم جانتی ہو سرفراز کو وہ میرا فرینڈ ہے۔بوائے فرینڈ۔۔وہ جو اسکا دوست ہے نا وہ تمہیں بہت لائک کرتا ہے۔تم کہو تو دوستی کرا دوں پھر عیش ہی عیش۔ ۔مہناز کے لہجے میں جلن تھی ،اسکی معصومیت سے اسکے محتاط رویے سے،اسکی خوبصورتی سے،اور ترغیب سب ختم کرنے کی ، سب ہی بول رہا تھا۔۔۔۔۔۔کُچھ تو ایسا تھا اُسکے لہجے میں جس سے وہ مُتاثر ہوئی۔۔۔۔۔۔۔کہیں تو اُسے لگا راہ نجات ہے۔
فرق پڑا تھا ۔۔بہت اُسکے بعد سے
دوپٹہ چھوٹا ہوتے ہوتے بس ایک باریک وی کی شکل کا پٹہ رہ گیا تھا۔
بالوں کی دو چار لٹیں اگے سے کٹی ہوئی نکل آئی تھیں۔انکھوں میں کاجل سج گیا تھا۔ اب اُسے کسی بات پر شرم نہیں آتی تھی۔اور اگرآتی بھی تھی تو وہ عادی ہو گئی تھی۔۔اسے کسی نے سمجھا دیا تھا اس عمر میں ایسے ہی معاملات زیرِ بحث ہوتے ہیں۔
اسکا بھی اب ایک بوائے فرینڈ تھا۔ اور سمجھتی تھی کہ اُس نے معرکہ مار لیا۔۔۔۔۔دوستوں میں سر اونچا ہو گیا۔
بس اتنا ہوا کہ پہلے ہی امتحان میں فیل ہو گئی۔
اچھا ہوا نا اب بوائے فرینڈ کے ساتھ کُچھ وقت اور گزارے گی۔
چودہ پندرہ سال کے یہ جوان بچے جو کہ پتہ نہیں کھاد زیادہ ڈلنے کی وجہ سے یا سورج کی روشنی تیز ہونے کی وجہ سے۔۔وقت سے پہلے پک گئے تھے،اور اب اپنے ساتھ کے پودوں سمیت گلنا سڑنا شروع ہو چُکے تھے۔۔

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں