پچھتاوا

 یہ ابھی تھوڑے دن پہلے کی بات ہے… میں اپنی دوست کی برتھ ڈے پارٹی میں گئی.. جوان لوگوں کی رعنائیوں سے بھرپور ایک تقریب…آج تو سارے لڑکے مجھے دیکھ کر گھائل ہو جائیں گے…گھر سے نکلنے سے پہلے اپنے میک اپ کو آخری ٹچ دیتے، خود کو شیشے میں دیکھتے، میں نے سوچا تھا… اور ہوا بھی ایسا… کون تھا جس کی نظر مجھ پر پڑنے کے بعد اردگرد بھٹکنا بھول گئی ہو. میں بھی تتلی کی طرح ادائے بے نیازی سے اڑتی پھر رہی تھی… میں اپنے مقصد میں کامیاب ہوئی… سارا مجمع میری تعریفوں کے پل باندھنے میں مصروف رہا.. دوستیں الگ ایک طرف کھڑی حسد کے مارے جل بھن رہی تھیں.. اور میں دل ہی دل میں ان پر ہنسے جا رہی تھی… ایسا کیسے ہو سکتا تھا کہ میں کسی تقریب میں جاؤں اور نظروں کے حصار میں نہ آؤں… ناممکن..
اس وقت میری خواہش تھی کہ کالج کی میری وہ کلاس فیلو بھی موجود ہوتی جو ہر وقت بڑی سی چادر لپیٹے دوسروں کو جسم ڈھانپنے کے بھاشن دیتی پھرتی… وہ آتی اور دیکھتی… لوگ کیسے مجھ سے متاثر ہوئے جا رہے ہیں… کیا چادر لپیٹ کر، منہ پہ بکل چڑھائے،  ایک کونے میں گھس کر بیٹھے رہنے سے اس معاشرے میں جگہ بنا سکتی تھی… ہنہہ… چھوٹی سوچ کے چھوٹے لوگ… انہیں کیا پتہ زندگی سے کیسے لطف اندوز ہوتے ہیں.. ایک دن کلاس میں آ کر پھر سے شروع ہو گئی…پہلے پہل تو میں اس کا منہ تکتی رہی پھر کندھے اچکا کر اسے جتلایا کہ اس کی بات مجھے میں مجھے کوئی دلچسپی نہیں…
“آپ خود کو ایک بار اللہ کے لیے ڈھانپ کر دیکھیں… پھر دیکھنا کیسا نور ملتا…” وہ میرا حقیرانہ انداز دیکھ کر بھی نرمی سے بولی… نور…؟ اپنا سانولا منہ اور حلیہ دیکھو.. اور میرا چمکتا دمکتا چہرہ دیکھو… اگر نور ایسا ہوتا ہے تو مجھے نہیں چاہیے…. (قہقہہ) میں نے اسے یہ کہا اور اٹھ کر وہاں سے چلی آئی… مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں تھی کہ وہ کیا سوچے گی…ایسے لوگوں کو میں خوب جانتی تھی… پھر میں اپنی زندگی میں مگن ہوتی چلی گئی…ہر وہ فیشن جو نیا آتا میں ضرور آزماتی… چاہے وہ ٹائٹ جینز ہوتی، ٹخنوں سے اوپر ٹراؤزر یا سلیولیس قمیض… مجھے بس خوبصورت لگنا تھا… ہر حال میں…… بیوٹی پارلر میں بھنویں بنوانے سے لے کے ہیئرکٹ تک، ہر چیز پہ کھلے پیسے خرچ کرتی… مجھے اپنا رکھ رکھاؤ برقرار رکھنا تھا… ہر قیمت پر… اسی موج مستی میں دن رات گزارتی رہی… کالج سے یونیورسٹی کا سفر شروع ہوا… اور اب یہاں تو میرا الگ سے امتحان شروع ہو گیا… ہر روز نک سک سے تیار ہو کر جانا پڑتا… آخر کو میں اپنی یونیورسٹی کی سب سے حسین اور فیشن ایبل لڑکی تھی… میرا اپنا مقام تھا… اپنا غرور … لڑکے بھی میرے اردگرد گھومتے رہتے… مجھے یہ سب بہت اچھا لگتا تھا… ان کا میرے اردگرد پھرتے رہنا… مجھ سے دوستی کے لیے درخواستیں کرتے رہنا… میں بھی ان کا دل رکھنے کے لیے ان سے بات کر لیتی…نہ انہیں اپنے ایمان کی فکر تھی اور نہ ہی میری زندگی میں دین کوئی قابل عمل چیز تھا…  زندگی بہت مزے کی گزر رہی تھی اور ایک پارٹی سے واپس گھر کے راستے میں اچانک….
____________
مجھے عائشہ بہت یاد آتی ہے…. اس کا سانولا چہرہ…اس کی باتیں…اس دن جب میں اس پر ہنس کر چلی آئی تو پیچھے اس کی آواز سنائی دی تھی، ” زندگی بھی ایک پل صراط ہے، جس پر چلنے کے لیے روشنی کی ضرورت ہوتی ہے…اس لیے اللہ سے اس کا نور طلب کرتے رہنا چاہیے…کیونکہ جسے اللہ نور نہ بخشے، پھر اس کے لیے کوئی نور نہیں ہوتا…اور وہی ہوا… نہ میں نے نور کی چاہ کی، نہ ہی مجھے روشنی دی گئی… اب میرے پاس کچھ بھی نہیں… میں نور مانگتی بھی ہوں تو نہیں ملتا… میرا چہرہ سیاہ ہو گیا ہے… وہ چہرہ جسے میں سنوارتے نہیں تھکتی تھی اب لوگ اسے دیکھیں تو ڈر جائیں…وہ “سارا” جو تعریفوں کے درمیان گھری رہتی تھی، آج اسے کوئی پوچھنے بھی نہیں آتا… اس تاریکی میں مجھے کچھ سجھائی نہیں دیتا… نہ ہی میں اپنی وحشت کو کم کرنے باہر جا سکتی ہوں… تاریکی پر تاریکی ہے… ہدایت میرے سامنے کھڑی ہے… اطاعت اب میں کرنا چاہتی ہوں…پر میں کیا کروں… میں تو ہل بھی نہیں پا رہی…میری کوئی مدد کرے… مجھے نور چاہیے…مجھے حصار میں لیے اس لمبی تاریک رات کو کوئی ختم کر دے… مجھے ایک بار سجدہ کرنا ہے… اس رب کو جسے میں بھلائے بیٹھی تھی… صرف ایک بار… عائشہ تم  نے جو آیت سنائی تھی مجھے.. “جسے اللہ نور نہ بخشے اس کے لیے پھر کوئی نور نہیں…” تو آج اس کی عملی تفسیر بنی بیٹھی ہوں…

( آنسو) …دیکھو کوئی روشنی نہیں… صرف اندھیرا ہے… میرے گناہوں کا… اور دوسروں کے گناہوں کی کالک بھی میرے چہرے پر مل دی گئی ہے.. میں ان کو گمراہ کرتی پھرتی تھی.. ان کا ایمان میں نے خطرے میں ڈالا…  اللہ کو میں نے بھلا دیا… آج زمین کے نیچے قبر میں پڑی میں بھلا دی گئی ہوں… کوئی مجھے یہاں سے نکال لے…ایک بار.. صرف ایک بار… میں دنیا میں واپس جا کر اطاعت کی زندگی بسر کرنا چاہتی ہوں… (سسکیاں)

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں