سائلنسر

اس نے دوبار اس رکشے کو اوور ٹیک کیا۔۔ پہلے جیل چورنگی کے بعد، دوسری بار اسلامیہ کالج سے پہلے۔ ایسا نہیں تھا کہ احمد کوئی انا پرست قسم کا موٹر سائیکل سوار تھا۔جو کسی کو اپنے سے آگے نہیں نکلنے دینا چاہتا تھا – جیسا کہ اکثر بائک والے کرتے ہیں – اس کا اصل مسئلہ اس کی موٹر سائکل کا سائلنسر تھا ، جو ایک مہینہ خراب رہنے کے بعد اب جنگی جہاز کی سی  آوازیں نکالتا۔ جونہی وہ بائک کو کک لگاتا ،۔سائلنسر بے ہنگم قہقہے مار مار کر ہنستا اس کی سستی کا مضحکہ اڑاتا تھا ۔۔ سائلنسر سے نکلتا دھواں اسے منہ چڑاتی زبان محسوس ہوتا تھا ۔۔یہاں تک کہ ایک بار تو اس کے تایا کے بیٹے نے بائک کی گھن گھرج پر پھبتی بھی کس دی تھی

“ہاں بھئی لے آیا اپنے ہیلی کاپٹر کو”۔

سیونٹی موٹرسائکل پر ہیلی کاپٹر ہونے کا طعنہ ۔۔۔ خیر وہ سست تھا اور ڈھیٹ بھی شاید اسی لیے آرام سے پی بھی گیا ۔۔

لیکن اب تو سائلنسر واقعی ہیلی کاپٹر  بن چکا تھا ۔۔و ہ کوشش بھی کرتا کہ آہستہ چلائے تاکہ پٹ پٹ کی آواز کانوں میں کم سے کم سوراخ کرے اور لوگوں کے سماعتی آلے میں شگاف نہ بنائے۔ خود تو وہ عادی ہوچکاتھا اس صوتی ڈرل مشین کا ، اور اب تو اس کا ایک نٹ بھی ڈھیلا ہو کر کہیں گر چکا تھا جوکہ ٹیڑھا ہو کر کک کی طرف آگیا تھا – احمد کک لگاتا تو کک سائلنسر سے ٹکراتی ہوئی نیچے جاتی – ہر کک سے احمد کے دل میں درد سا ہوتا – پر کیا کرتا— چلائے جا رہا تھا — بھگائے جا رہا تھا — مریض آخری سانسیں جب تک نہ لے – وہ علاج کی پروا نہ کیا کرتا۔عجیب مزاج تھا۔ وہ بھی فل سپیڈ میں بھگائے جگائے جاتا، ملنگ سواری تھی – کھٹارا ۔لیکن پرفارمنس کے لحاظ سے پائیدار۔۔ بائیک کی تیزی شور کو کہیں پیچھے چھوڑ دیتی – بہت پیچھے – سنسناتی ہواؤں کا شور پھٹ پھٹ پر غالب آجاتا ۔۔

ابھی بھی وہ کسی خاص جلدی میں نہیں تھا لیکن ٹریفک جام کے ممکنہ خطرے کے پیش نظر گھر پہنچ جانا چاہتا تھا – اپنی دھن میں پہلی بار اس رکشے کو اوور ٹیک کرتے ہوئے  اس کی نظر ایک سڈول سی ٹانگ پر پڑی — وہ ٹانگ رکشے سے باہر نہیں تھی تو اندر بھی نہیں تھی۔ رکشا ڈرائیور اورمسافر کی سیٹ کے بیچ میں سٹینڈ پر ایک کونے میں ٹکی ہوئی تھی –ہرے رنگ کی چست ٹائٹس نما چیز  پہنی وہ ٹانگ کچھ ایسی عیاں تھی کہ اس ایک سیکنڈ میں احمد کی نگاہ پاؤں سے ران تک چلی گئی- اسے یہ حرکت بہت ہی اوچھی  لگتی تھی کہ وہ عورتوں کے جسم کو تاڑے ۔ ویسے بھی وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس سائلنسر کی آواز اندر بیٹھی مہ جبین پر گراں گزرے ۔۔ اس لیے بائیک آگے بھگا لے گیا۔۔ پر دل ہی دل میں وہ یہ چاہ رہا تھا کہ رکشہ پھر سے اس کے برابر آجائے – جیل چورنگی سے آگے نکلتے ہی اس نے خراماں خراماں بائک چلانا شروع کردی ۔۔ اطراف میں موجود شو روم والے ، مکینک لڑکے ۔۔ مسجد سے باہر نکلتے بھانت بھانت کے نمازی ۔۔ اور تو اور پتھارے والے بھی اس کو  گھور رہے تھے ۔۔ ظاہر ہے سائلنسر ان کے لیے بھی اذیت بنا ہوا تھا ۔۔ ان کا بس چلتا تو احمد کو بائک سے اتار کر سنگسار کردیتے – اور بعد میں سائلنسر کو کسی بم کا ٹکڑا بتا کر انعام بھی وصولتے- احمد ان تمام باتوں سے لاپروا پٹ پٹ کرتا آگے بڑھ رہا تھا۔۔

اسلامیہ کالج کے پاس واقع دنیا کے نقشے کےقریب اسے ایک بڑا بینر نظر آیا جس بجلی کمپنی کے خلاف احتجاج کی کال دی گئی تھی – اسے تاریخ پڑھنے میں غلطی ہوئی تھی، وہ بینر دیکھ کر اس کا منہ کڑوا ہوگیا – اس رش میں اگر وہ گھر پہنچتا اور لائٹ نہ ہوتی تو ۔۔۔ آگے سوچنا محال تھا اس نے توجہ پھر رکشے پر مبذول کی. رکشہ ابھی  اس تک پہنچا۔۔کالج کے سامنے موجود  پمپ سے اگلی چورنگی پر ٹریفک کا رش دیکھ کر روز وہ سیاست دانوں اور ان کی رعایا کو گالیاں دیا کرتا تھا ۔۔کہ روز جلسے جلوس جئے جئے کے نعروں میں چورنگی بلاک کرکے بیٹھ جاتے ہیں- وہ افسوس کرتا ، ان کی شکلیں نوٹ کرتا۔۔ سیاہ چہرے – مدقوق جسم ۔۔ اندھی امیدیں ۔۔ بیزار زندگی ۔۔۔ ڈھول کی تھاپ پر آگیا چھاگیا کا رقص وہ سمجھ نہ پاتا کہ افسوس کرے, ترس کھائے, رحم کی بھیک دے, یا ان کو ان کے حال پر چھوڑ کر چار حرف بھیجے کہ اپنی ذلتوں کے ذمہ دار یہ خود ہیں – لیکن آج وہ رش دیکھ کر ہشاش بشاش ہوگیاکیوں کہ ٹریفک جام میں پھنس کر رکشے والی ٹانگ سے قربت بڑھنے کا موقع تھا – نظروں کی حد تک ہی صحیح۔ ہوتا تو سہی۔ کیا کرتا مرد تھا — گاہے گاہے  نگاہیں لڑانے والے مرد اگر فطرتا شریف ہوں تو ان کی قناعت سیری  کا پیش خیمہ ہوتی ہے –

اس نے گردن موڑ کر ٹریفک میں رکشے کو ڈھونڈنا چاہا۔ رکشے والا بھی پھنس پھنس کر آگے بڑھ رہا تھا اس نے دل ہی دل میں ٹریفک بلاک کرنے والے سیاسی کارکنان کا شکریہ ادا کیا اور بائک سائڈ پر لگادی. اس کا ارادہ اس وقت تک وہیں رکے رہنے کا تھا جب تک سورج  ڈوب نہیں جاتا یا جب تک وہ رکشہ اس کے برابر نہ آکھڑا ہوتا۔ اور رکشے سے جھانکتی ہری شلوار سے چسپاں ٹانگ والی وہ مہ جبیں دوبارہ اس کی نگاہوں کے احاطے میں نہ آجاتی ۔ مزے کی بات یہ تھی کہ وہ کپڑے کے پرنٹ سے ہی اندر بیٹھی عورت کو نجانے کیا کیا قرار دے چکا تھا – اپسرا ، نازنین ، مہ جبین – سیری اور قناعت پسندی کی آنکھ مچولی بھی کیا کیا رنگ دکھلاتی ہے – رکشہ اب برابر آگیا تھا – حجاب شاید غروب ہونے کو تھا –  بات اب فٹنگ کی ٹائٹس نما شلوار سے آگے بڑھنے کو تھی – اندر بیٹھے وجود کی دریافت اس کے لیے آج کا معمہ حل کرنے کی طرح تھی – شیر کاپیٹ بھرا ہو تو وہ شکار نہیں کیا کرتا – بس نیم دراز لیٹا نیم وا آنکھوں سے  سامنے سے گزرتی ہرنیوں کو دیکھا ہی کیا کرتا ہے – پیٹ بھرا مرد بھی شیر جیسا باقار ہوتا ہےاگر حرص ہوس اور ضرورت کا فرق سمجھ جائے ۔۔

ٹانگ اب بھی وہیں دھری تھی – اس نے ریس دینا کم کردی – مبادا یہ کہ سائلنسر کی پٹ پٹ منظر اور اس احسا س کو دھندلا دے – رکشے والا آگے بڑھ جائے —

وہ بے ایمان ہونے لگا – کہ آگے بھی دیکھوں ، ٹانگ سے آگے بڑھوں – رکشے میں سر گھسا کر دیکھنا یا مستقل نگاہیں ڈالے رکھنے والوں میں سے وہ تھا نہیں – نہ ہی اس کا ایسا ارادہ تھا ۔۔

اچانک ٹانگ میں جنبش ہوئی احمد گھبرا کر گیا اور منہ آگے کرلیا — مرد نظروں کے ڈاکے بہت بہادر ہو کر مارا کرتا ہے – لیکن پکڑا جائے تو پھر کوشش کرتا ہے شریف بن جائے – بس یہیں شریف مرد مار کھاجاتا ہے کیوں کہ حوصلہ کرجائے تو محبوب ڈاکے کا مال غنیمت بن کر قدموں میں بچھ جائے ۔۔

احمد بھی نظریں چرا کر بائیک کو آگے کھسکا لے گیا کھسیاہٹ کے مارے اس نے اگنیشن سے چابی ہی نکال لی تھی تاکہ  سائلنسر کا شورلنکا نہ ڈھادے – ہم جب شرمندگی محسوس کرتے ہیں تو ماحول کی خاموشی میں غلطی کو چھپا لینا چاہتے ہیں – ابھی وہ خاموشی میں چھپ کر ذرا آگے بڑھا  تھا کہ اسے لگا رکشہ ساتھ ساتھ آگے آرہاہے – شاید اس کا ڈاکہ پکڑا گیا تھا – کوتوال سر پر پہنچ رہا تھا ۔۔

احمدنے آنکھیں بند کرلیں – اسے ٹریفک جام برا لگنے لگا ،بائک اسٹارٹ کرتا تو شورماحول کو بے سکون کر کے احمد کی حرکت کا پردہ فاش کردیتا ،آنے والی مصیبت کے خیال سے ہونٹ بھِنچ لیے – ایسا لگا ماحول میں تپش مزید بڑھ گئی ہے گال پر تھپڑ کھانےکے لیے ذہنی طور پر تیار ہوگیا۔

“ارے کیا رش میں آنکھیں بند کیے کھڑے ہو – میں کب سے آوازیں دے رہی ہوں —اچھا ہوا آپ مل گئے ورنہ اب تک ٹریفک جام میں پھنسی رہتی — اور آپ بھی نا—اب تک سائلنسر ٹھیک نہیں کروایا – کتنے لاپروا ہیں – اچھا چھوڑیں یہ دیکھیں میرا نیا سوٹ۔۔۔ ہرا رنگ بہت پسند ہے نا، کل باجی کے گھر گئی تھی نا تو وہیں خرید لیا – گھر آکر پہنا تو اتنا جچا کہ بدلنے کا جی ہی نہیں چاہا سوچا آپ کو اچانک سرپرائز دوں گی – چلیں گھر چلیں — — پھر پورے سوٹ کا نظارہ کرواتی ہوں ” ۔ہرے سوٹ والی اس کے پیچھے بیٹھتی ہوئی سرگوشی میں بولی ۔

ہرے رنگ کی ٹائٹس اب اس کے ساتھ لگی بیٹھی تھی –

ماحول کی خاموشی ایک بار پھر سائلنسر کی آواز نے چیر ڈالی – اسے لگا سائلنسر اس پر ہنس رہا ہے ہے

وہ اب تک اپنی بیوی کا ہی تعاقب کرتا آیا تھا۔۔

شیئرکریں
mm
زوہیب اکرم ،سائنس کے میدان سے رستہ بھول کر لکھنے کی طرف آگئے ہیں اور ابھی سیکھنے کے مراحل میں ہیں ، ان کے قلم کی میں کرواہٹ سے زیادہ کھٹاس ہے، سرکے کی سی کھٹاس جو زیادہ ہوجائے تو تیزاب بن جاتی ۔ ہے ۔۔

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں